اسلام آباد نے بیدیاں سیکٹر میں بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس کے اہلکاروں کی فائرنگ سے دو پاکستانی شہریوں کی ہلاکت پر بھارت کے چارج دے افیئرز کو طلب کر کے شدید احتجاج ریکارڈ کیا ہے۔ پاکستان نے واقعے کی شفاف اور قابل اعتماد تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
واقعہ کی تفصیلات
وزارت خارجہ کے مطابق یہ واقعہ جمعرات کو بیدیاں سیکٹر میں پیش آیا۔ بی ایس ایف اہلکاروں نے تین غیر مسلح پاکستانی شہریوں پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق اور ایک زخمی ہو گیا۔
وزارت خارجہ نے بھارتی سرحدی اہلکاروں کی جانب سے شہریوں کے خلاف “بلا اشتعال اور مہلک طاقت” کے استعمال کو غیر مناسب اور غیر متناسب قرار دیا۔
ہلاک ہونے والوں کی شناخت
ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی شناخت عظمت رسول اور محسن جٹ کے نام سے ہوئی ہے۔ دونوں لدھڑ گاؤں کے رہائشی تھے جبکہ زخمی شخص کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق تینوں افراد لدھڑ گاؤں سے تعلق رکھتے تھے اور بارڈر پلر سے چند قدم آگے بڑھے تھے جب بی ایس ایف اہلکاروں نے بغیر وارننگ فائرنگ شروع کر دی۔
پاکستان کا مؤقف
وزارت خارجہ نے واقعے کو بنیادی انسانی حقوق بالخصوص حق حیات کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔ پاکستان نے بین الاقوامی قانون کے تحت شہریوں کے تحفظ پر تشویش کا اظہار کیا اور ہلاک ہونے والوں کو “درانداز” قرار دینے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کر دیا۔
بھارت سے مطالبے
پاکستان نے بھارت سے فوری، شفاف اور قابل اعتماد تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ذمہ داروں کے خلاف قانونی اور تادیبی کارروائی کی درخواست بھی کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ تحقیقات کے نتائج اور کارروائی کی تفصیلات باضابطہ طور پر شیئر کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ پاکستان نے دو طرفہ معاہدوں اور سرحدی طریقہ کار کی پاسداری پر زور دیا اور زیادہ سے زیادہ تحمل سے کام لینے کی اپیل کی تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔
سرحدی معاہدے کی خلاف ورزی
سکیورٹی ذرائع کے مطابق تینوں شہریوں نے سرحدی باڑ عبور کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ یہ واقعہ بین الاقوامی سرحد سے متعلق معاہدے اور اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز کی خلاف ورزی ہے۔
پاکستان نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ بنیادی انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کا احترام کرے۔ دو طرفہ انتظامات اور قائم شدہ سرحدی طریقہ کار کی پیروی کے ساتھ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
