یوکرینی صدر کا نیا بیان
کیف: یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے پیر کو کہا کہ روس میں شمالی کوریا کے 8 ہزار سے زائد فوجی موجود ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 10 ہزار اضافی فوجیوں کو بھیجنے کی تیاریاں جاری ہیں۔
زیلینسکی نے شمالی کوریائی فوجیوں کی روس میں تعیناتی سے متعلق نئے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان فوجیوں کو تربیت کے لیے منتخب کیا جا رہا ہے اور بعد ازاں روس بھیجا جائے گا۔
اگست میں 50 ہزار فوجیوں کا امکان ظاہر کیا گیا تھا
یوکرینی صدر نے اگست میں کہا تھا کہ شمالی کوریا کے 50 ہزار تک فوجی روس کی جانب سے لڑنے کے لیے بھیجے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے جنوبی کوریا پر زور دیا تھا کہ وہ یوکرین کے فضائی دفاع کے لیے معاونت فراہم کرے۔
جنوبی کوریا نے جولائی میں یوکرین کے لیے 10 کروڑ ڈالر کے امدادی پیکج کا اعلان کیا تھا، تاہم اس میں مہلک ہتھیار شامل نہیں تھے۔
قیدی فوجیوں کے معاملے پر اختلاف
زیلینسکی کے تازہ بیان سے قبل سیول اور کیف کے درمیان گزشتہ ہفتے اس اعلان پر اختلافات سامنے آئے تھے جس میں یوکرین نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے شمالی کوریا کے دو قیدی فوجیوں کو جنوبی کوریا کے حوالے کر دیا ہے۔
سیول نے یوکرینی صدر کے اس اعلان پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ اس معاملے کو راز میں رکھنے کا معاہدہ طے پایا تھا۔ جنوبی کوریا نے یوکرینی صدارتی دفتر کے اس بیان پر بھی احتجاج کیا جس میں اس نوعیت کے رازداری کے معاہدے سے انکار کیا گیا تھا۔
روس کو شمالی کوریا کی فوجی امداد
یوکرینی اور جنوبی کوریائی اندازوں کے مطابق شمالی کوریا نے 2024 سے اب تک روس کی یوکرین کے خلاف جنگ میں معاونت کے لیے اندازاً 14 ہزار سے 15 ہزار فوجی بھیجے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر کو کورسک کے علاقے میں تعینات کیا گیا تاکہ یوکرینی پیش قدمی کو روکا جا سکے۔
یوکرینی اور آزاد جائزوں کے مطابق پیانگ یانگ نے روس کو لاکھوں توپ خانے اور مارٹر گولے، بیلسٹک میزائل، طویل فاصلے تک مار کرنے والے توپ خانے کے نظام اور ملٹی لانچ راکٹ سسٹم بھی فراہم کیے ہیں۔
