چھاؤنی کے مکینوں کو لفٹ اور گرم پانی جیسی بنیادی سہولتوں سے محرومی کا سامنا
پیرس کے نواحی علاقے وال-دو-مارن کے قصبے Maisons-Alfort میں واقع ژاندارمری کی سب سے بڑی چھاؤنی، Quartier Mohier، شدید خستہ حالی کا شکار ہے۔ یہاں تعینات فوجی اہلکار اور اُن کے خاندان بنیادی سہولیات سے محروم زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
چھاؤنی کے رہائشیوں کے مطابق، عمارتوں کی لفٹیں کئی کئی ماہ تک خراب رہتی ہیں، جس کی وجہ سے بزرگ افراد اور بچوں کو سیڑھیاں چڑھنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ گرم پانی اور حرارت کی فراہمی بھی کئی ہفتوں تک معطل رہتی ہے، خاص طور پر سردیوں کے موسم میں۔
رہائشیوں کی شکایات میں خستہ حالی اور مرمت میں تاخیر نمایاں
ایک ریٹائرڈ خاتون نے اپنی بیٹی اور داماد کی جانب سے شکایت کرتے ہوئے بتایا کہ اُن کے داماد نے اپنے کیریئر میں کئی چھاؤنیاں دیکھی ہیں، لیکن یہ چھاؤنی خاص طور پر بہت پرانی اور خستہ حال ہے۔ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ عمارتوں کی مرمت کا عمل انتہائی سست رفتاری سے جاری ہے جس کی وجہ سے مسائل میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
تقریباً ایک ہزار فوجی اہلکار اور 3200 افراد براہ راست متاثر
Quartier Mohier فرانس کی سب سے بڑی محصور ژاندارمری چھاؤنی ہے، جہاں تقریباً ایک ہزار فوجی اہلکار ڈیوٹی انجام دیتے ہیں۔ اُن کے خاندانوں کو شامل کیا جائے تو یہ تعداد تقریباً 3,200 افراد بنتی ہے جو اس چھاؤنی کے احاطے میں رہائش پذیر ہیں۔
دفاعی اداروں کے عملے کی رہائشی سہولیات پر سنگین سوالات
یہ صورتحال فرانسیسی دفاعی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے عملے کی رہائشی سہولیات کے معیار پر سوالات اٹھاتی ہے، جہاں وہ اہلکار جو عوامی تحفظ کے لیے خدمات انجام دیتے ہیں، خود بنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔
اہم مسائل کا خلاصہ
لفٹیں کئی ماہ تک خراب رہنے سے بزرگوں اور معذور افراد کو شدید دشواری کا سامنا ہے۔ گرم پانی اور حرارت کی سہولت کئی ہفتوں تک معطل رہتی ہے۔ عمارتوں کی خستہ حالی اور مرمت میں تاخیر نے زندگی کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ تقریباً 3,200 افراد اس بحران سے متاثر ہیں، جن میں فوجی اہلکار اور اُن کے اہل خانہ شامل ہیں۔
