واشنگٹن: سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تسلیم کیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ نے منگل کو ہونے والے مڈٹرم انتخابات میں ریپبلکن امیدواروں کی شکست میں اہم کردار ادا کیا، جب کہ ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں کا کنٹرول سنبھالنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ ڈیموکریٹس ان کے پاس ایسی قانون سازی بھیجیں گے جسے وہ “پاگل پن” قرار دیتے ہیں اور وہ اسے ویٹو کر دیں گے۔
ایران جنگ کا انتخابی اثر
ٹرمپ نے کہا کہ ایران جنگ نے ریپبلکن امیدواروں پر منفی اثر ڈالا، حالانکہ ووٹرز نے ان کی جنگی پالیسی کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا، “میرے خیال میں اس کا ایک حصہ ایران تھا، لیکن ساتھ ہی لوگوں نے ایران کے بارے میں میرے اقدامات کی اہمیت کو سمجھا۔”
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ڈیموکریٹس نے سینیٹ اور ایوان دونوں میں اکثریت حاصل کر لی، اور ان کی فتوحات ریپبلکن گڑھوں تک پھیل گئیں۔ کروڑوں ووٹرز نے ٹرمپ کو سخت مایوسی کا پیغام دیا۔
ڈیموکریٹک لہر کی وسعت
ڈیموکریٹک لہر نے قدامت پسند ریاستوں میں بھی کامیابیاں حاصل کیں، جن میں ساؤتھ کیرولائنا، ٹیکساس اور آئیووا شامل ہیں۔ یہ نتائج ٹرمپ کی معاشی پالیسیوں اور فروری میں ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کے فیصلے پر ووٹرز کی گہری مایوسی کو ظاہر کرتے ہیں۔
- کنساس میں میگا چرچ کے پادری ایڈم ہیملٹن نے تقریباً ایک صدی بعد ڈیموکریٹ کے طور پر سینیٹ کی نشست جیتی۔
- اوہائیو میں شیروڈ براؤن نے نائب صدر جے ڈی وینس کی سابقہ نشست پر قبضہ کیا۔
- ٹیکساس میں جیمز تالاریکو نے متنازع ریپبلکن اٹارنی جنرل کین پیکسٹن کو شکست دی۔
- ساؤتھ کیرولائنا میں اینی اینڈریوز نے ریپبلکن سینیٹر ڈارلین گراہم کو ہرایا۔
ٹرمپ کی انتخابی مہم کے باوجود شکست
ٹرمپ نے پیکسٹن، گراہم اور اوہائیو کے جون ہسٹڈ کے لیے بھرپور انتخابی مہم چلائی، جس میں دو درجن سے زائد ریلیاں شامل تھیں۔ انہوں نے اپنے حامیوں سے بار بار کہا کہ “فرض کریں میں بیلٹ پر ہوں” تاکہ ان کا بنیادی ووٹر متحرک ہو سکے۔
تاہم منگل کی رات جب یہ واضح ہو گیا کہ ریپبلکن اپنی کانگریسی اکثریت کھو سکتے ہیں، ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا، “میں بیلٹ پر نہیں تھا اور اگر ہوتا تو ہم بھاری اکثریت سے جیت جاتے! اس معاملے پر آپ کی توجہ کا شکریہ۔”
ووٹرز کا پیغام
جارجیا میں کامیاب ہونے والے ڈیموکریٹک سینیٹر جون اوسوف نے اپنی فتح کی تقریب میں کہا، “فیصلہ کن فتوحات کے ذریعے امریکی عوام نے صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ نامی شخص کی بدعنوانی، کرپشن اور نااہلی کو مسترد کر دیا ہے۔”
ایگزٹ پولز کے مطابق، ملک بھر میں نصف ووٹرز نے مڈٹرم انتخابات کو صدر کو سبق سکھانے کا موقع سمجھا، جبکہ تین چوتھائی نے کہا کہ وہ ملک کی سمت سے “ناراض” یا “غیر مطمئن” ہیں۔ ستر فیصد ووٹرز چاہتے ہیں کہ کانگریس صدر پر زیادہ چیک اینڈ بیلنس فراہم کرے۔
فلوریڈا میں ریپبلکن سینیٹر ایشلے موڈی نے ڈیموکریٹ اینجی نکسن کو شکست دی لیکن صرف تین فیصد پوائنٹس کے فرق سے، جبکہ ٹرمپ نے 2024 میں یہ ریاست تیرہ پوائنٹس سے جیتی تھی۔ یہ اس بات کا مزید ثبوت ہے کہ مضبوط ریپبلکن ریاستیں بھی ڈیموکریٹس کی طرف تیزی سے مائل ہو رہی ہیں۔
