کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ کھانے کے لیے چمچ زیادہ بہتر ہے یا کانٹا؟ یہ سوال بظاہر معمولی لگتا ہے لیکن سوشل میڈیا اور روزمرہ زندگی میں اس پر بحث جاری ہے۔ کچھ لوگ خاموشی سے ایک ایسا انقلاب برپا کرنا چاہتے ہیں جس میں کھانے کی میز پر چمچ کو کانٹے پر فوقیت دی جائے۔
ایک سوشل میڈیا صارف نے حال ہی میں کہا کہ “کانٹے واقعی بیکار ہیں” اور اس کے ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کیا کہ اس برتن کے ساتھ کچھ بھی کھانا عملی نہیں ہے۔ یہ رائے رکھنے والے افراد کی تعداد کم نہیں ہے۔ بہت سے مواد تخلیق کار بھی اپنے کھانے کے لیے کانٹے کی بجائے چمچ کا استعمال کرتے نظر آتے ہیں۔
عملی وجوہات: چمچ سے کھانا زیادہ آسان کیوں؟
بہت سے لوگوں کے لیے چمچ کا انتخاب محض ایک عادت نہیں بلکہ ایک عملی فیصلہ ہے۔ 62 سالہ برونو کہتے ہیں کہ وہ چمچ سے کھانا پسند کرتے ہیں کیونکہ وہ کھانے کے شوقین ہیں۔ خاص طور پر جب بات سالن والے پکوانوں کی ہو تو چمچ انہیں پلیٹ میں کچھ بھی ضائع نہیں ہونے دیتا۔ وہ کہتے ہیں کہ روٹی سے سالن صاف کرنے کی بجائے چمچ استعمال کرنے سے کھانے کا لطف دوبالا ہوجاتا ہے۔
ریستوران میں برونو اپنی یہ عادت چھپاتے نہیں ہیں۔ وہ ویٹر سے مسکراتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ اب بھی تھوڑے بچے ہیں، اس لیے انہیں چمچ چاہیے۔ ان کے خاندان میں بھی یہ بات مشہور ہے اور اگر کبھی چمچ رکھنا بھول جائیں تو معذرت کرلیتے ہیں۔
44 سالہ جولی کے لیے یہ معاملہ اور بھی آگے جاتا ہے۔ وہ خاص طور پر ایسے پکوان بنانے کا سوچتی ہیں جنہیں چمچ سے کھانا زیادہ مزیدار لگے، جیسے دال، چاول یا پاستا۔ ان کے پاس اپنے پسندیدہ چمچ بھی ہیں، جن میں جام کھانے والا لمبے دستے والا چھوٹا چمچ سب سے زیادہ پسندیدہ ہے۔
کانٹے کی حدود اور چمچ کی استعداد
لوپ نامی ایک صارف کا کہنا ہے کہ وہ بہت کم مواقع پر کانٹا استعمال کرتے ہیں۔ ان کے مطابق چمچ سے آپ ہر چیز تھوڑی تھوڑی اٹھا سکتے ہیں جبکہ کانٹے سے بہت سی چیزیں گر جاتی ہیں۔ وہ سوال اٹھاتے ہیں کہ گوشت کے علاوہ کانٹے کا استعمال کس لیے ہے؟
36 سالہ ایلس بھی اس بات سے متفق ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چمچ ہزار گنا زیادہ عملی ہے، خاص طور پر جب کھانے میں چھوٹی چھوٹی چیزیں ملی ہوں تو کچھ بھی گرنے کا خطرہ نہیں رہتا۔
اعصابی تنوع اور حسی تجربات
چمچ کی ترجیح صرف عملی نہیں بلکہ کچھ لوگوں کے لیے نفسیاتی اور حسی وجوہات بھی رکھتی ہے۔ ایلس، جو توجہ کی کمی کا شکار ہیں، بتاتی ہیں کہ چمچ استعمال کرنے سے وہ کھانے کی بجائے اپنے ساتھ بیٹھے شخص سے بات چیت پر زیادہ توجہ دے سکتی ہیں کیونکہ انہیں یہ فکر نہیں رہتی کہ کانٹے سے کھانا گر جائے گا۔
برطانوی محققین کی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق آٹزم اور کھانے کی خرابیوں میں مبتلا افراد کے لیے کھانے کے برتنوں کا انتخاب خاصا اہم کردار ادا کرتا ہے۔ لوپ، جو توجہ کی کمی اور بیش فعالیت کا شکار ہیں، کہتے ہیں کہ انہیں پلیٹ سے کانٹے کے ٹکرانے کی آواز برداشت نہیں ہوتی۔ یہ آواز انہیں شدید بے چینی اور غصہ دلا سکتی ہے۔
سماجی دباؤ اور چمچ کا استعمال
دلچسپ بات یہ ہے کہ چمچ کا استعمال ہمیشہ سماجی طور پر قبول نہیں کیا جاتا۔ ایلس بتاتی ہیں کہ وہ بعض اوقات خود کو دوسروں جیسے برتن استعمال کرنے پر مجبور کرتی ہیں حالانکہ یہ ان کے لیے زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے۔ وہ اسے سماجی انضمام کی ایک کوشش قرار دیتی ہیں۔
جولی کے لیے چمچ کا استعمال ایک نجی معاملہ ہے۔ وہ صرف ان لوگوں کے ساتھ چمچ استعمال کرتی ہیں جن کے ساتھ ان کا گہرا تعلق ہو۔ رسمی دعوتوں میں وہ عام برتن استعمال کرنے کو ترجیح دیتی ہیں۔
جولی اس خیال کو بھی مسترد کرتی ہیں کہ چمچ کا استعمال بچگانہ عادت ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کی نو سالہ بیٹی کو چمچ سے کھانا بالکل پسند نہیں، اس لیے یہ تاثر غلط ہے کہ چمچ صرف بچوں کے لیے ہے۔
چمچ یا کانٹا، انتخاب ذاتی ہے، لیکن یہ بحث ظاہر کرتی ہے کہ کھانے کے برتنوں کا انتخاب صرف عادت نہیں بلکہ عملی، نفسیاتی اور سماجی عوامل کا مجموعہ ہے۔
