ویانا میں آسٹریا کی وزیر خارجہ بیٹے مائنل-رائیزنگر نے ایک نئی تجویز پیش کی ہے جس کے تحت مغربی بلقان کے امیدوار ممالک کو مکمل رکنیت کا انتظار کیے بغیر اصلاحات کے متوازی یورپی یونین کی سنگل مارکیٹ تک رسائی فراہم کی جائے۔
توسیع کو جغرافیائی و تزویراتی ہتھیار قرار
یورونیوز سے گفتگو میں آسٹریا کی وزیر خارجہ نے کہا کہ یورپی یونین کی توسیع بلاک کا “سب سے طاقتور اور اہم جغرافیائی-تزویراتی ہتھیار” ہے۔ انہوں نے مغربی بلقان کے ممالک کے لیے رکنیت کے لیے درکار اصلاحات کو ایک “پیچیدہ” اور “بیوروکریٹک” عمل قرار دیا۔
مائنل-رائیزنگر کے مطابق یورپی یونین کی توسیع روس اور چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے مقابلے میں ایک کلیدی ذریعہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ محض انتظامی عمل نہیں بلکہ جغرافیائی و تزویراتی حکمت عملی ہے۔
اصلاحات کے اثرات فوری طور پر دیکھنے کا موقع
مجوزہ منصوبے کے تحت امیدوار ممالک کو مکمل رکنیت تک انتظار کرانے کی بجائے جیسے جیسے وہ اصلاحات نافذ کریں گے، انہیں سنگل مارکیٹ تک رسائی دی جائے گی۔ وزیر خارجہ کے مطابق اس سے ان ممالک کو “اصلاحات کے اثرات فوری طور پر” دیکھنے کا موقع ملے گا جس سے اصلاحاتی عمل کو تقویت حاصل ہوگی۔
سربراہی اجلاس کے دوران تجویز
یہ تجویز ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یورپی یونین کا اہم سربراہی اجلاس شروع ہو چکا ہے۔ اس اجلاس میں رہنما توانائی کی قیمتوں، بجٹ کے معاملات اور یوکرین کی حمایت پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
آسٹریا کی اس تجویز پر یورپی یونین کے رکن ممالک کے درمیان اتفاق رائے ضروری ہے۔ تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ تجویز مغربی بلقان کے ممالک کے لیے ایک مثبت پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے، بشرطیکہ اصلاحاتی عمل میں حقیقی پیش رفت ہو۔
