شہر لاہور ایک بار پھر دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں سرفہرست آ گیا ہے۔ مجموعی ایئر کوالٹی انڈیکس 199 ریکارڈ کیا گیا تاہم شہر کے مختلف علاقوں میں صورتحال اس سے بھی زیادہ تشویشناک پائی گئی۔
مختلف علاقوں میں آلودگی کی بلند سطح
محکمہ موسمیات اور ماحولیاتی اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق شہر کے متعدد مقامات پر فضائی آلودگی خطرناک حد تک بلند رہی۔ گلبرگ میں واقع CERP آفس میں اے کیو آئی 300 ریکارڈ کیا گیا، جو مجموعی شہری اوسط سے کہیں زیادہ ہے۔
کہنہ نو میں یہ شرح 244، برکی روڈ پر 224، ماڈل ٹاؤن میں 220 اور ڈی ایچ اے فیز 6 میں 201 تک پہنچ گئی۔ یہ تمام اعداد و شمار عالمی ادارہ صحت کے محفوظ معیار سے کئی گنا بلند ہیں جس سے شہریوں کی صحت کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔
بارش کی پیش گوئی
دوسری جانب محکمہ موسمیات پاکستان نے لاہور میں آج اور کل بارش کا امکان ظاہر کیا ہے۔ محکمے کے مطابق کم سے کم درجہ حرارت 22 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ زیادہ سے زیادہ 31 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہنے کا امکان ہے۔
موجودہ درجہ حرارت 25 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا اور شہر میں ہوا کی رفتار پانچ کلومیٹر فی گھنٹہ رہی۔ ماہرین کے مطابق بارش سے فضائی آلودگی میں کمی واقع ہو سکتی ہے تاہم یہ کمی عارضی ثابت ہوتی ہے۔
شہریوں کے لیے احتیاطی ہدایات
ماہرین نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے علاقے کے فضائی معیار پر خاص نظر رکھیں، بالخصوص ان علاقوں میں جہاں آلودگی کی شرح بلند ہے۔
گھروں سے باہر نکلتے وقت ماسک کا استعمال کریں، صبح اور شام کے اوقات میں غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور گھروں کی کھڑکیاں اور دروازے بند رکھیں۔ بچوں، بزرگوں اور دمے کے مریضوں کو خصوصی احتیاط کی ہدایت کی گئی ہے۔ پانی زیادہ مقدار میں پینے اور ماسک پہن کر باہر نکلنے کی بھی تاکید کی گئی ہے۔
لاہور ہر سال سردیوں کے آغاز پر فضائی آلودگی کے شدید بحران کا شکار ہوتا ہے جس کی بڑی وجوہات میں گاڑیوں کا دھواں، صنعتی اخراج، فصلوں کی باقیات کو جلانا اور موسمی حالات شامل ہیں۔
