پیرس میں ذاتی معلومات کے تحفظ کے حوالے سے ایک سنگین انکشاف سامنے آیا ہے۔ فرانسیسی اخبار دی کنارڈ اینشینے نے بدھ کے روز بتایا کہ وزیراعظم سیباسٹین لیکورنو کا فون نمبر انٹرنیٹ پر گردش کر رہا ہے۔
انڈرویئر برانڈ پر حملے کا نتیجہ
اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ حساس معلومات فرانسیسی انڈرویئر برانڈ “لے سلپ فرانسے” پر 2024 میں ہونے والے سائبر حملے کے بعد منظر عام پر آئیں۔ اس واقعے میں 15 لاکھ صارفین کا ڈیٹا متاثر ہوا تھا۔ حملے کے وقت سیباسٹین لیکورنو وزارت دفاع کے قلمدان سنبھالے ہوئے تھے۔
25 وزراء کی معلومات مختلف حملوں میں لیک
یہ معاملہ صرف وزیراعظم تک محدود نہیں رہا۔ کنارڈ اینشینے کے مطابق فرانسیسی حکومت کے 36 وزراء میں سے 25 کے ذاتی ڈیٹا مختلف سائبر حملوں کی وجہ سے آن لائن موجود ہیں۔
متعدد وزراء کے ڈیٹا کی تفصیلات
وزیر دفاع کیتھرین ووٹرن کا ذاتی پتہ ان کے آپٹیشین کے ڈیٹا بیس کی ہیکنگ کے بعد سامنے آیا۔ وزیر ڈیجیٹل امور این لے ہینانف کا بینک اکاؤنٹ نمبر اور سوشل سیکیورٹی نمبر بھی لیک ہو چکا ہے۔
وزیر محنت ژاں پیئر فارانڈو کا فون نمبر فیسبک ڈیٹا لیک کے باعث آن لائن دستیاب ہے۔ اسی طرح وزیر داخلہ امور ژاں ڈیڈیئر برجے کا ڈیٹا ان کے گھریلو آلات کی مرمت کرنے والے ادارے کی سائبر سیکیورٹی خامی کے نتیجے میں لیک ہوا۔
بڑھتا ہوا سائبر سیکیورٹی چیلنج
فرانسیسی اخبار لے موندے کی مئی میں شائع ہونے والی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا کہ حالیہ برسوں میں تمام اہم وزارتوں کو سائبر حملوں کا نشانہ بنایا گیا جن میں وزراء کا ذاتی ڈیٹا چوری کیا گیا۔
یہ مسئلہ صرف سیاستدانوں تک محدود نہیں ہے۔ ہزاروں عام فرانسیسی شہری بھی اسی طرح کے خطرات سے دوچار ہیں۔ اگست میں ٹیکس محکمے پر ہونے والا سائبر حملہ اس کی تازہ مثال ہے۔
یہ تمام انکشافات فرانس میں ڈیجیٹل سیکیورٹی کے بڑھتے ہوئے خطرات کی جانب واضح اشارہ ہیں، جہاں اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کی ذاتی معلومات بھی محفوظ نہیں رہ سکیں۔
