جوکووچ کے 25ویں گرینڈ سلیم کا خواب ایک بار پھر ادھورا
نیویارک: نوواک جوکووچ کا ریکارڈ 25ویں گرینڈ سلیم ٹائٹل جیتنے کا خواب ایک بار پھر ادھورا رہ گیا جب انہیں یو ایس اوپن کے پہلے راؤنڈ میں غیر سیڈڈ ارجنٹائنی کھلاڑی ماریانو ناواونے نے پانچ سیٹس کی طویل اور صبر آزما جنگ میں 7-6(5)، 5-7، 4-6، 6-2، 6-1 سے شکست دے کر باہر کر دیا۔
39 سالہ سربین کھلاڑی میچ کے دوران قے کرتے نظر آئے اور کمر اور کندھے کی تکلیف نے ان کی سروس کو بری طرح متاثر کیا۔ یہ 2006 کے آسٹریلین اوپن کے بعد پہلا موقع ہے کہ جوکووچ کسی گرینڈ سلیم کے ابتدائی راؤنڈ میں ہارے ہیں۔
جسمانی تکلیف کے باوجود ہمت نہیں ہاری
میچ کے بعد جذباتی ہو جانے والے جوکووچ نے کہا کہ کورٹ پر ان کے لیے حالات انتہائی تکلیف دہ تھے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ اس سال تقریباً ہر میچ میں وہ قے اور جسم میں شدید درد جیسے مسائل سے دوچار رہے ہیں۔
انہوں نے کہا، “بدقسمتی سے میں اس سال تقریباً ہر میچ میں یہ مسئلہ اٹھائے پھر رہا ہوں۔ قے آنا، پھر پورا جسم ٹوٹنے لگتا ہے، اینٹھن اور درد شروع ہو جاتا ہے۔ آخر میں کمر اور کندھے نے جواب دے دیا۔ میں چوتھے سیٹ میں بریک اپ تھا لیکن میچ کے چوتھے گیم سے ہی جدوجہد کر رہا تھا۔”
جوکووچ نے ناواونے کی جیت کا سہرا انہیں دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایک اچھے انسان اور لڑاکا کھلاڑی ہیں لیکن انہیں خود کورٹ پر کوئی لطف نہیں آیا۔
ناواونے کے لیے خوابوں کی جیت
دوسری جانب عالمی نمبر 49 ماریانو ناواونے نے اسے اپنے کیریئر کی سب سے بڑی جیت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ گریٹسٹ آف آل ٹائم (GOAT) کے خلاف پانچ سیٹس کا میچ جیتنا روزمرہ کی بات نہیں ہے۔
ناواونے نے مزید کہا، “یہ میرے لیے بہت معنی رکھتا ہے۔ یہ ایک خواب کی تعبیر ہے۔ اب مجھے آرام کرنا ہے۔ تقریباً رات کے 12 بج چکے ہیں اور ہمیں سونا ہے۔”
انہوں نے بتایا کہ ان کا فون مسلسل بج رہا ہے اور انہیں یقین ہے کہ ان کے آبائی ملک میں جشن کا ماحول ہوگا۔
میچ کا دلچسپ موڑ
جوکووچ نے مرطوب موسم میں پہلا سیٹ 3-0 کی برتری سے شروع کیا لیکن بارش کی وجہ سے چھت بند ہونے کے بعد ناواونے نے واپسی کی اور ٹائی بریک میں پہلا سیٹ جیت لیا۔
جوکووچ نے دوسرا سیٹ جیت کر مقابلہ برابر کیا اور تیسرے سیٹ کے دوران قے کرنے کے باوجود اسے اپنے نام کیا۔ تاہم چوتھے سیٹ میں ان کی سروس مکمل طور پر جواب دے گئی اور ناواونے نے میچ کو پانچویں سیٹ میں لے جا کر چار گھنٹے 36 منٹ میں تاریخی کامیابی حاصل کی۔
جوکووچ نے واضح کیا کہ انہوں نے چوتھے یا پانچویں سیٹ میں دستبردار ہونے کا سوچا تک نہیں تھا اور وہ میچ مکمل کرنا چاہتے تھے۔

