انگلینڈ کی شاندار فتح اور سیریز میں فیصلہ کن برتری
لندن: انگلینڈ نے لارڈز کے تاریخی میدان پر کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میچ میں پاکستان کو 194 رنز کے بھاری مارجن سے شکست دے کر تین میچوں کی سیریز میں ناقابلِ شکست 2-0 کی برتری حاصل کر لی۔ میزبان ٹیم نے 389 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان کو 194 رنز پر ڈھیر کر دیا۔
یہ فتح انگلینڈ کی ہیڈنگلے میں پہلے ٹیسٹ میں ایک اننگز اور 103 رنز سے کامیابی کے بعد دوسری شاندار جیت تھی۔ اس نتیجے نے لارڈز میں پاکستان کی 16 سالہ ناقابلِ شکست تاریخ کا بھی خاتمہ کر دیا۔
محمد عباس کی تاریخی کارکردگی
پاکستان کی جانب سے محمد عباس نے میچ میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ چوتھی صبح تین وکٹوں کے ساتھ کھیل کا آغاز کرنے والے عباس نے ڈین لارنس اور اولی رابنسن کو آؤٹ کر کے اپنی پانچ وکٹیں مکمل کیں۔ انہوں نے 22 اوورز میں 57 رنز دے کر 5 وکٹیں حاصل کیں اور پورے میچ میں 130 رنز کے عوض 9 وکٹیں لیں۔
ان کی پانچ وکٹوں کی کارکردگی نے انہیں لارڈز کے اعزازی بورڈ پر جگہ دلوائی، جو اس مشہور گراؤنڈ پر کم از کم پانچ وکٹیں لینے یا دیگر بڑے سنگ میل عبور کرنے والے کھلاڑیوں کو تسلیم کرتا ہے۔
ابتدائی جھٹکے اور بیٹنگ کی ناکامی
389 رنز کے بڑے ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی بیٹنگ لائن ایک بار پھر مشکلات کا شکار رہی۔ اولی رابنسن نے ابتدائی مراحل میں دو اہم وکٹیں حاصل کیں۔ اعظم اویس کو آؤٹ کرنے کے بعد انہوں نے عبداللہ شفیق کو بغیر کوئی رن بنائے بولڈ کر دیا۔
جوفرا آرچر نے کپتان بابر اعظم کو شارٹ گیند پر سلپ میں کیچ آؤٹ کروا کر پاکستان کو مزید دباؤ میں ڈال دیا۔ بابر کی وکٹ گرتے ہی پاکستان کا اسکور 14 رنز پر 3 وکٹیں ہو گیا۔
شان مسعود اور سعود شکیل کی مزاحمت
شان مسعود اور سعود شکیل نے اننگز کو سنبھالنے کی کوشش کی۔ دونوں نے لنچ تک مزید نقصان کے بغیر پاکستان کو پہنچایا، لیکن لنچ کے بعد انگلینڈ کے گیند بازوں نے دباؤ برقرار رکھا۔ رابنسن نے شان مسعود کو 26 رنز پر آؤٹ کر کے شراکت ختم کی۔
محمد رضوان صرف ایک رن بنا کر رابنسن کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔ امام الحق زخمی ہونے کی وجہ سے بیٹنگ کے لیے دستیاب نہیں تھے، جس سے پاکستان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا۔
سعود شکیل کی جارحانہ بیٹنگ
سعود شکیل نے پاکستان کی جانب سے واحد نمایاں مزاحمت پیش کی۔ بائیں ہاتھ کے بلے باز نے 54 گیندوں پر نصف سنچری مکمل کی اور مواقع ملنے پر حملہ آور انداز اپنایا۔ علی عثمان کے ساتھ انہوں نے انگلینڈ کے گیند بازوں کو کچھ دیر کے لیے الجھائے رکھا۔
علی عثمان 16 رنز بنا کر آرچر کی گیند پر بولڈ ہوئے۔ اس کے بعد سعود شکیل نے جوش ٹنگ کے خلاف دو چھکے لگا کر سنچری کی جانب تیزی سے بڑھنے کی کوشش کی، لیکن یہی جارحانہ انداز ان کی وکٹ کا باعث بنا۔ وہ 97 رنز بنا کر ٹنگ کی گیند پر ڈیپ میں کیچ آؤٹ ہوئے اور اپنی سنچری سے صرف تین رنز دور رہ گئے۔
سعود شکیل کے آؤٹ ہوتے ہی انگلینڈ نے تیزی سے اننگز سمیٹ لی۔ جوش ٹنگ نے محمد علی کو آخری وکٹ کے طور پر آؤٹ کیا اور پاکستان 194 رنز پر ڈھیر ہو گیا۔
انگلینڈ کی پہلی اننگز اور پاکستان کی کمزور بیٹنگ
انگلینڈ نے اپنی پہلی اننگز میں 290 رنز بنائے تھے، جس میں جیمی اسمتھ 61 اور جورڈن کاکس 55 رنز کے ساتھ نمایاں رہے۔ محمد عباس نے 73 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں جبکہ محمد علی نے تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
پاکستان کی پہلی اننگز ایک بار پھر مایوس کن رہی اور پوری ٹیم صرف 110 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ اعظم اویس نے 46 رنز کی اننگز کھیلی، جبکہ اولی رابنسن نے 11 رنز دے کر 4 اور جوفرا آرچر نے 26 رنز دے کر 3 وکٹیں لیں۔
سیریز کا آخری ٹیسٹ
انگلینڈ کی اس جیت نے ہیڈنگلے میں پہلے ٹیسٹ کی کامیابی کے بعد سیریز میں ان کی مکمل بالادستی کو واضح کر دیا ہے۔ میزبان ٹیم نے دونوں میچوں میں یکطرفہ کامیابی حاصل کرتے ہوئے سیریز اپنے نام کر لی ہے۔
تیسرا اور آخری ٹیسٹ میچ 9 ستمبر کو ایجبسٹن میں شروع ہوگا، جہاں پاکستان کلین سویپ سے بچنے کی کوشش کرے گا جبکہ انگلینڈ 3-0 سے سیریز جیتنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

