اماراتی وزارت دفاع کا ایرانی دعوے کی تردید کا اعلان
ابوظہبی/تہران: متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے ایران کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ اس نے المِنہد ایئر بیس پر درجنوں ڈرونز سے حملہ کیا، جہاں امریکی افواج اور ہیلی کاپٹر تعینات ہیں۔ وزارت دفاع نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ایسی میڈیا رپورٹس جھوٹی ہیں اور مسلح افواج ہائی الرٹ پر ہیں۔
ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب نے پیر کی صبح سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ اس نے امارات میں واقع المِنہد بیس پر “درجنوں حملہ آور ڈرونز” سے نشانہ بنایا۔ ایرانی فوج کے تعلقات عامہ کے مطابق یہ کارروائی امریکی حملوں کا جواب تھی۔
اماراتی فضائیہ کا ایرانی ڈرون پر ردعمل
اماراتی وزارت دفاع نے ایک الگ بیان میں بتایا کہ ملکی فضائیہ نے ایران کی جانب سے آنے والے ایک ڈرون کا اپنی علاقائی حدود میں پتہ لگایا اور اس کا جواب دیا۔ بیان میں کہا گیا کہ مسلح افواج کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے چوبیس گھنٹے فضائی حدود کی نگرانی کر رہی ہیں، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ڈرون کو مار گرایا گیا یا نہیں۔
آبنائے ہرمز میں بحری کشیدگی میں اضافہ
دریں اثنا، ایران کی سپاہ پاسداران کی بحریہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک “باغی سپر ٹینکر” جو آبنائے ہرمز کے جنوب میں غیر قانونی راستہ استعمال کرنے کی کوشش کر رہا تھا، دو بحری بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد شدید آگ میں گھر گیا اور مکمل طور پر ناکارہ ہو گیا۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے یہ اطلاع دی۔
اتوار کی رات امریکی فوج نے کہا تھا کہ اس نے بین الاقوامی جہاز رانی کے راستوں سے بارودی سرنگیں ہٹانے کا کام مکمل کر لیا ہے۔ تاہم ایران اور امریکہ کے درمیان جون میں طے پانے والا آبنائے ہرمز کی بحالی کا معاہدہ ٹوٹ چکا ہے اور امریکی افواج نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی دوبارہ شروع کر دی ہے۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ
امریکی حملوں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ بین الاقوامی بینچ مارک برینٹ خام تیل 2.8 فیصد بڑھ کر 90.57 ڈالر فی بیرل جبکہ ڈبلیو ٹی آئی 2.7 فیصد اضافے سے 85.64 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔
ایران کا موقف: جنگ نہیں چاہتے مگر جواب دیں گے
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران جنگ کا خواہاں نہیں لیکن کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے گا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق انہوں نے کہا کہ ایران کسی بھی حملے کے خلاف کبھی خاموش نہیں رہے گا۔
سپاہ پاسداران نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس نے اردن میں امریکی فوجی اہداف پر بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملے کیے، جن میں تکنیکی اور دیکھ بھال کی تنصیبات اور طیارے شامل تھے۔ ایران نے یہ حملے جزیرہ لارک پر امریکی حملوں کا جواب قرار دیے ہیں۔
بین الاقوامی برادری کا ردعمل
فرانس نے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور آبنائے ہرمز کو پرامن طریقے سے دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔ فرانسیسی حکومت کی ترجمان موڈ بریژو نے کہا کہ فرانس کا موقف مستقل ہے اور وہ کشیدگی میں کمی چاہتا ہے۔
اماراتی صدر کے اعلیٰ مشیر انور قرقاش نے کہا کہ “نہ جنگ نہ امن” کی صورتحال پائیدار حل نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے بحران کے سیاسی اور اقتصادی پہلوؤں پر توجہ دینے والے حقیقت پسندانہ حل کی ضرورت پر زور دیا۔
جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملے جاری
لبنانی اخبار لورینٹ لے ژور کے مطابق اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں نباتیہ الفوقا اور علی طاہر کی بلندیوں پر سفید فاسفورس گولے اور توپ خانے سے حملے کیے۔ اسرائیل ان علاقوں پر حزب اللہ کے زیر زمین اڈے ہونے کا الزام لگاتا ہے۔

