اسکول کے مرکزی دروازے کے سامنے ڈیلرز کا مستقل ڈیرہ
فرانس کے دارالحکومت پیرس کے گیارہویں آرونڈسمینٹ میں واقع ایک اسکول کے سامنے والی سڑک، جسے بچوں کی سہولت کے لیے پیدل چلنے والوں کے لیے مخصوص کیا گیا تھا، اب منشیات فروشوں کا مسکن بن چکی ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ دن ہو یا رات، ڈیلرز کا گروہ اسکول کی عمارت کے مرکزی دروازے کے سامنے ہی ڈیرہ ڈالے رہتا ہے۔
رُو ڈی لا پریزینٹیشن: ایک کامیاب منصوبے کا افسوسناک انجام
رُو ڈی لا پریزینٹیشن نامی یہ گلی پیرس کی ان اولین سڑکوں میں شامل تھی جنہیں ‘اسکول اسٹریٹ’ کے منصوبے کے تحت 2020 میں گاڑیوں کی آمدورفت کے لیے بند کیا گیا تھا۔ 2021 میں اس گلی کو مزید خوبصورت بنایا گیا، یہاں پودے لگائے گئے اور اسے مکمل طور پر پیدل چلنے والوں کے حوالے کر دیا گیا۔ مقصد یہ تھا کہ پریزینٹیشن نرسری اسکول میں زیر تعلیم بچوں کو ایک محفوظ اور صاف ستھرا ماحول فراہم کیا جا سکے۔
منصوبے کا اصل مقصد اور موجودہ حقیقت
بیلے ویل کے علاقے میں واقع یہ چھوٹی سی گلی اس اقدام کا ایک کامیاب نمونہ تھی۔ انتظامیہ کا خیال تھا کہ ٹریفک بند ہونے سے نہ صرف فضائی آلودگی میں کمی آئے گی بلکہ بچوں کو اسکول آتے جاتے وقت کھیلنے اور محفوظ طریقے سے چلنے کا موقع بھی ملے گا۔ تاہم، گزشتہ کچھ عرصے کے دوران اس گلی کی صورت حال یکسر بدل چکی ہے۔
مقامی افراد اور والدین میں تشویش کی لہر
علاقے کے رہائشیوں اور بچوں کے والدین نے انتظامیہ سے بارہا شکایت کی ہے کہ اسکول کے اوقات کار کے دوران بھی مشکوک افراد کا گروہ وہاں موجود رہتا ہے۔ والدین کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے چھوٹے بچوں کو ایسے ماحول میں بھیجتے ہوئے شدید خوف محسوس ہوتا ہے جہاں کھلے عام منشیات کی خرید و فروخت ہو رہی ہو۔
دن کی روشنی میں بھی غیر قانونی سرگرمیاں جاری
مقامی ذرائع کے مطابق یہ مسئلہ صرف شام یا رات تک محدود نہیں رہا بلکہ ڈیلرز نے دن کی روشنی میں بھی اسکول کے گیٹ کے قریب اپنی سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ اس صورتحال نے اس ‘اسکول اسٹریٹ’ منصوبے کی کامیابی پر ہی سوالیہ نشان لگا دیا ہے، کیونکہ جس جگہ کو بچوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بنایا گیا تھا، اب وہیں غیر قانونی سرگرمیوں کا مرکز قائم ہو چکا ہے۔
انتظامیہ کی فوری کارروائی کا مطالبہ
علاقے کے مکینوں نے پیرس کی میونسپلٹی اور پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ اس علاقے میں فوری طور پر سخت نگرانی اور باقاعدہ گشت کا اہتمام کیا جائے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت کارروائی نہ کی گئی تو اسکول کے بچوں کی تعلیمی اور ذہنی نشوونما پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

