yes urdu logo
  • خبریں
    • اہم ترین
    • بین الاقوامی خبریں
    • شوبز
    • مقامی خبریں
    • کاروبار
    • کھیل
  • تارکین وطن
  • اردو ادب - شاعری
  • ویڈیوز - Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم
Dark Mode
Skip to content
yes urdu logo
  • خبریں
    اہم ترین
    • امریکہ کا بڑا اعلان: مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں درجنوں ممالک کو چین یا امریکہ میں سے کسی ایک فریق کا انتخاب کرنا ہوگاامریکہ کا بڑا اعلان: مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں درجنوں ممالک کو چین یا امریکہ میں سے کسی ایک فریق کا انتخاب کرنا ہوگا
    • ایزی جیٹ فرانس کی ہڑتال: 15 اگست کے ویک اینڈ پر تقریباً 100 پروازیں منسوخ، مسافروں میں شدید بے چینیایزی جیٹ فرانس کی ہڑتال: 15 اگست کے ویک اینڈ پر تقریباً 100 پروازیں منسوخ، مسافروں میں شدید بے چینی
    بین الاقوامی خبریں
    • امریکہ کا بڑا اعلان: مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں درجنوں ممالک کو چین یا امریکہ میں سے کسی ایک فریق کا انتخاب کرنا ہوگاامریکہ کا بڑا اعلان: مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں درجنوں ممالک کو چین یا امریکہ میں سے کسی ایک فریق کا انتخاب کرنا ہوگا
    • فرانسیسی پولیس کا وزیر داخلہ سے مطالبہ: نابالغوں کے مقدمات پر وزیر انصاف کی نوٹ کے بعد دفاع کریںفرانسیسی پولیس کا وزیر داخلہ سے مطالبہ: نابالغوں کے مقدمات پر وزیر انصاف کی نوٹ کے بعد دفاع کریں
    شوبز
    • زوٹوپیا 3 کا باضابطہ اعلان: ڈزنی کی سب سے کامیاب اینیمیٹڈ فرنچائز کی واپسیزوٹوپیا 3 کا باضابطہ اعلان: ڈزنی کی سب سے کامیاب اینیمیٹڈ فرنچائز کی واپسی
    • شعلے کے گبر سنگھ کابیٹا دھریندر میں کس اہم کردار کیلئے کاسٹنگ ڈائریکٹر کی توجہ حاصل نہ کرسکا، امجد خان کی میراث گبر آج بھی برقرار
    مقامی خبریں
    • Pakistan Introduces New Civil Service Conduct Rules After 62 Years62 سال بعد سول سروس کے نئے ضابطہ اخلاق کا نفاذ، سرکاری ملازمین کے اثاثے عوامی ہوں گے
    • Sindh Lifts Market, Hotel Closing Time Curbsسندھ حکومت کا کاروباری برادری کو بڑا ریلیف، مارکیٹیں اور شادی ہال رات گئے تک کھلے رہیں گے
    کاروبار
    • ایزی جیٹ فرانس کی ہڑتال: 15 اگست کے ویک اینڈ پر تقریباً 100 پروازیں منسوخ، مسافروں میں شدید بے چینیایزی جیٹ فرانس کی ہڑتال: 15 اگست کے ویک اینڈ پر تقریباً 100 پروازیں منسوخ، مسافروں میں شدید بے چینی
    • ماں کی ایجاد: ’سلیپی ہیٹ‘ نے بچوں کی نیند کا مسئلہ حل کر کے کاروبار میں کامیابی کی نئی داستان رقم کردی
    کھیل
    • Litton Das Century Powers Bangladesh to 278لٹن داس کا شاندار سنچری، بنگلہ دیش کی پاکستان کے خلاف مضبوط واپسی
    • بھارت اور افغانستان کے درمیان 2026 میں تاریخی ٹیسٹ اور ون ڈے سیریز کا اعلان
  • تارکین وطن
  • اردو ادب - شاعری
  • ویڈیوز - Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم
اہم ترین

پی ٹی وی کی خاتون براڈ کاسٹر ماہ پارہ صفدر کی خصوصی تحریر

MH Kazmi July 6, 2019 1 min read
PTV Women's Broadcasters Monthly Safdar's special writing
Share this:

PTV Women's Broadcasters Monthly Safdar's special writing

لاہور (ویب ڈیسک) 5 جولائی سن ستتر کی صبح بڑی روشن سی لگی، دھوپ بکھری پڑی تھی۔ مجھے اندازہ ہی نہ ہوسکا کہ یہ تو شب گزیدہ سحر تھی۔ ریڈیو پاکستان کے صبح سات بجے کے بلیٹن میں ملک میں مارشل لاء لگنے کی خبر نشر ہو چکی تھی۔ مگر کیوں! میں نے سوچا، ابھی رات کو نامور خاتون براڈ کاسٹر مہ پارہ صفدر بی بی سی کے لیے اپنے ایک آرٹیکل میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔۔ہی آخری بلیٹن میں بھٹو صاحب اور پاکستان قومی اتحاد کے درمیان اختلافات طے پا جانے کی خبریں سن کر سب کی جان میں جان آئی تھی۔ بلکہ ریڈیو پاکستان کے نیوز سکیشن میں تو یہ بھی کہا جاتا رہا ہے کہ پانچ جولائی صبح چھ بجے بھی مسٹر بھٹو اور پاکستان قومی اتحاد کے درمیان معاہدے کی خبر نشر ہوئی تھی، مگر سات بجے کا بلیٹن آن ائیر جانے سے قبل ایک فوجی نے سٹوڈیوز میں گھس کر بلیٹن کو رکوایا اور مارشل لاء کی خبر نشر کروائی۔ ریڈیو پاکستان کے نیوز بلیٹن ان دنوں راولپنڈی کی ایک رہائشی کوٹھی میں بنائے گئے عارضی سٹوڈیوز سے نشر ہوتے تھے۔ شنید ہے کہ فوجی جماعت سٹوڈیوز کے بارے میں لاعلم تھی۔ اس لیے بروقت نہیں پہنچ پائی۔ ویسے اس منظر میں جھانکے کے لیے کوئی زیادہ دور تو جانے کی ضرورت نہیں، اس کا ایکشن ری پلے بہت سوں نے بارہ اکتوبر 99 کو بھی دیکھا ہے، مشرف کے ’کو دِتا‘ (غیر قانونی طور پر حکومت ہتھیانے) کے وقت۔ جب ایک فوجی نے اسلام آباد ٹی وی پر انگلش نیوز ریڈر شائستہ زید کے سامنے سے بلیٹن کھینچ لیا تھا۔ مگر بھئی اگلی دفعہ پہلےسوچ لیجئے گا کہ اب تو کوئی تیس چینلوں پر خبریں نشر ہو رہی ہوتی ہیں۔ خیر یہ بات ہے جنرل ضیاء والے ’کودتا‘ کی جس کے بعد لاہور کے نیوز روم میں شام کے بلیٹن کی تیاری ہو رہی تھی۔ ماحول بہت ہی افسردہ اور خوفزدہ تھا۔ گو پیپلز پارٹی کی مقبولیت کاگراف سن ستر کے مقابلے میں نیچے آ چکا تھا مگر پھر بھی پارٹی کے چاہنے والوں کی اکثریت تھی۔میرے لئے یہ بلکل اچھوتا تجربہ تھا۔ پڑھتے ہوئے مجھ پر خاصی ہیبیت طاری تھی کہ اگر کوئی لفظ غلطی سے بھی غلط ادا ہوا۔توکہیں مجھے ہی باہر نکلتےگولی نہ مار دی جائے بھٹو صاحب الصبح دو اور تین بجے کے درمیان گرفتار کیے جا چکے تھے، مگرجنرل ضیاء کے میڈیا مشیر کرنل سالک کی جانب سے جاری شدہ ہینڈ آؤٹ کے احکامات تھے کہ وزیر اعظم کے لیےگرفتار یا معزول کا لفظ استعمال نہ کیا جائے۔ ایڈیٹر صاحبان ممتاز حمید راؤ، جاوید پراچہ اور خالد محمود ربانی اسی مخمصے میں سر جوڑے بیٹھے تھے کہ کیا کہا جائے۔ عملاً بھٹو صاحب کوگرفتار کرکے مری کے ایک گیسٹ ہاؤس میں پہنچا دیا گیا تھا۔مگر حکم عدولی کی مجال کہاں۔ جو میں نے پڑھا وہ یہ تھا کہ فوج نے وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹو کو اپنی حفاظت میں لے کر حالات کی بہتری تک ملک کا نظم و نسق سنبھال لیا ہے۔پانچ جولائی کا دن پُر اضطراب خاموشی میں گزر گیا۔ شام گہری ہونے لگی تو لاہور کے فوجی کمانڈر کی جانب سے ایک اور حکم نامہ آ گیا جس میں خبردار کیا گیا تھا کہ رات بارہ کے بعد گھر سے نکلنا بھی مت کہ شہر میں کرفیو نافذ کر دیاگیا ہے۔ ہینڈ آؤٹ کے کوئی بارہ نکات میں سے ایک یہ تھا کہ کرفیو کی خلاف ورزی کرنے والے کو دیکھتے ہی گولی مار دی جائے گی۔ یہ ہینڈ آؤٹ رات گیارہ اور بارہ بجےمیں نے پڑھے۔ میرے لیے یہ بلکل اچھوتا تجربہ تھا۔ پڑھتے ہوئے مجھ پر ہیبت طاری تھی کہ اگر کوئی لفظ غلطی سے بھی غلط ادا ہوا توکہیں مجھے باہر نکلتے ہی گولی نہ مار دیں۔ پانچ جولائی کی شب شہر خموشاں اورگرم ہواؤں کی سائیں سائیں کے سوا ان سٹرکوں پر کسی فوجی کا دور دور کوئی نام نشان نہیں تھا جہاں سے ہم گزرے۔ ایک اور ساتھی نے لقمہ دیا بس جی یہ ہاتھی کے دانت ہیں۔ ڈراتے ہیں اور وہ بہی اپنے ہی لوگوں کو۔ راستے بھر ایسی قسم کی گفتگو رہی کہ لوگوں کو ابھی ڈھاکہ کا ڈوبنا بھولا ہی کہاں تھا۔ شفٹ ختم ہونے تک نیوز روم کے عملے کے کرفیو پاسسز بن کر آ چکے تھے۔ تو لیجئیے اب ہم اپنے ہی شہر، اپنی ہی گلیوں میں چلنے پھرنے کے لیے بھی ایک فوجی مہرکے محتاج ہو چکے تھے۔کرفیو کے باعث نیوز کا عملہ ایک ساتھ دوگاڑیوں میں مختلف سمتوں میں اپنے گھروں کو روانہ ہوا۔ میرے ایک ساتھی سہیل ظفر بولے صاحب کچھ بھی ہو مگر ہماری فوج وقت کی بہت پابند ہے، دیکھنا ٹھیک بارہ بجے سٹرکوں پر آچکی ہوگی۔ مگر شہر خموشاں اورگرم ہواؤں کی سائیں سائیں کے سوا ان سٹرکوں پر کسی فوجی کا دور دور تک کوئی نام نشان نہیں تھا۔ یہ دیکھ کر ایک اور ساتھی نے لقمہ دیا: ’بس جی بس یہ ہاتھی کے دانت ہیں، ڈراتے ہیں اور وہ بھی اپنے ہی لوگوں کو۔‘ راستے بھر اس قسم کی گفتگو ہوتی رہی کیونکہ لوگوں کو ابھی ڈھاکہ کا ڈوبنا ہی نہیں بھولا تھا۔ مگرہم سب کے لیے اچھنبے کا باعث ہوا جب ہم اپنے کچھ ساتھیوں کو چھوڑنے اندرون شہر گئے۔ لاہور کے رہنے والے جانتے ہیں کہ یہ علاقہ لاہور کا دل کہلاتا تھا۔ یہاں روایتی کھانوں کی دکانیں رات گئے تک کھلی رہتی تھیں۔ دن بھر کی تپش کے بعد جب رات بھیگتی تھی تو زندہ دلان لاہور ان دکانوں کا رخ کرتے تھے۔ اُس وقت فیشن ایبل اور ماڈرن قسم کے ایئر کنڈیشڈ ہوٹل ذرا کم ہی تھے۔ دکانوں کے سامنے معمول کی رونق تھی۔ لوگ کھانے کھاتے اور خوش گپیوں میں مصروف نظر آئے۔ بہت ممکن ہے بہت سے کرفیو کے بارے میں لا علم ہوں۔ یا پھر۔۔۔۔۔ خیر چھوڑیں احمد ندیم قاسمی کی غزل کا یہ شعر سنیں۔ یہ انہوں نے اپریل 1979 میں لکھی تھی۔ طوفاں ہے اگر گھر کے درپے یوں بیٹھ نہ جاؤ کچھ تو کرو ۔۔ کھڑکی کے شکستہ شیشے پر کاغذ ہی لگاؤ کچھ تو کرو ۔۔ ایک یا دو روز بعد جنرل ضیا الحق لاہور آئے۔ مارشل لاء ڈکٹیٹر کی حیثیت سے ان کی یہ پہلی نیوز کانفرنس تھی۔ بولے فوج کو تو مجبوراً جمہوریت بچانے کے لیے مداخلت کرنی پڑی۔ بہت خوب۔ نوک خنجر سے سلے زخم ندیم ۔۔ کیا عجب طرز مسیحائی ہے۔ جنرل ضیاء نے پریس کانفرنس میں پیپلز پارٹی کی حکومت پر طنز کرتے ہوئے خاص طور سے ٹی وی کو ہدایت کی کہ ’مجھے بیجا تشہیر کا کوئی شوق نہیں، جب تک بہت ضروری نہ ہو میری تصویر ٹی وی پر نہ دکھائی جائے۔‘ رات کو خبروں میں جنرل ضیا کی پریسں کانفرنس کی خبر تو نشر ہوگئی مگر اس کی فٹیج نہ دکھائی جا سکی کیونکہ فٹیج کو ڈائریکٹر نیوز کی ہدایت پر کرنل سالک کے ہاتھ راولپنڈی بھیجا جانا تھا۔ جہاں سے اسے نشر ہونا تھا۔ مگر کیمرہ مین کے ائیرپورٹ پہنچنے سے پہلے جنرل ضیا کا جہاز پرواز کر چکا تھا۔ ذاتی تشہیر نہ چاہنے والے جرنیل یا پھر ان کے مشیر نے اگلے ہی روز ہمارے سینیئر ایڈیٹر خالد محمود ربانی کو اس ناکردہ جرم پر معطل کر دیا کہ جنرل ضیاء کی پریس کانفرنس چلنے میں تاخیر کیوں ہوئی۔ اس میں تو شک نہیں کہ صحافیوں کے لیے وہ ایک تاریک دور تھا۔ کئی ساتھیوں نے جیلیں کاٹیں، کوڑے کھائے۔ مگر میں یہ ہی کہوں گی کہ آمریت کی نوکِ خنجرکا پہلا شکار پاکستان ٹیلی وثرن کے نیوز ایڈیٹر خالد محمود ربانی تھے۔ ربانی صاحب بحال تو ہوئے مگر لاہور سے راولپنڈی منتقلی اور معذولی کے ساتھ۔ سن نوے میں میرے ٹی وی چھوڑنے کے بعد ربانی صاحب اپنے دو کم عمر بچوں اور اہلیہ کے ساتھ لاہور جاتے ہوئے کار کے ایک حادثے میں جاں بحق ہوگئے۔ حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا۔۔

Share this:

MH Kazmi

25,243 Articles

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world.for comments and News yesurdu@gmail.com 03128594276

View All Posts
MUHAMMAD IKRAM RANJHA, SENIOR, LEADER, PTI, FRANCE
Previous Post حکومت کی مخلصانہ کوششوں سے ملکی معیشت صحیح سمت میں گامزن، ستر سالہ گند صاف کرنے پر مبارکباد، محمد اکرام رانجھا
Next Post شہباز شریف نے حامد میر کو کیا رام کہانی سنا دی ؟ جانیے
What did Shahbaz Sharif hear from Hamid Mir? Get it

Related Posts

لاہور کے علاقے بادامی باغ میں فائرنگ، دو پولیس اہلکار شہید، انتقامی کارروائی کا شبہ

لاہور کے علاقے بادامی باغ میں فائرنگ، دو پولیس اہلکار شہید، انتقامی کارروائی کا شبہ

August 16, 2026
امریکہ کا بڑا اعلان: مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں درجنوں ممالک کو چین یا امریکہ میں سے کسی ایک فریق کا انتخاب کرنا ہوگا

امریکہ کا بڑا اعلان: مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں درجنوں ممالک کو چین یا امریکہ میں سے کسی ایک فریق کا انتخاب کرنا ہوگا

August 16, 2026
ایزی جیٹ فرانس کی ہڑتال: 15 اگست کے ویک اینڈ پر تقریباً 100 پروازیں منسوخ، مسافروں میں شدید بے چینی

ایزی جیٹ فرانس کی ہڑتال: 15 اگست کے ویک اینڈ پر تقریباً 100 پروازیں منسوخ، مسافروں میں شدید بے چینی

August 16, 2026
فرانسیسی پولیس کا وزیر داخلہ سے مطالبہ: نابالغوں کے مقدمات پر وزیر انصاف کی نوٹ کے بعد دفاع کریں

فرانسیسی پولیس کا وزیر داخلہ سے مطالبہ: نابالغوں کے مقدمات پر وزیر انصاف کی نوٹ کے بعد دفاع کریں

August 15, 2026




© 2026 Yes Urdu. All rights reserved.
  • خبریں
  • تارکین وطن
  • اردو ادب – شاعری
  • ویڈیوز – Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.