بیجنگ: چین کے دارالحکومت بیجنگ میں جاری ورلڈ ہیومنائیڈ روبوٹ گیمز کے دوسرے ایڈیشن کے افتتاحی روز ایک چینی ہیومنائیڈ روبوٹ نے 100 میٹر کی دوڑ 9.39 سیکنڈ میں مکمل کر کے سنسنی پھیلا دی۔ یہ وقت جمیکا کے عظیم سپرنٹر یوسین بولٹ کے مردوں کے عالمی ریکارڈ 9.58 سیکنڈ سے بھی تیز ہے۔
منتظمین کے مطابق بیجنگ ہیومنائیڈ روبوٹ انوویشن سینٹر کے تیار کردہ روبوٹ ’تیانگونگ الٹرا‘ نے ابتدائی ہیٹ میں کامیابی حاصل کی۔ دوڑ کے آغاز میں پیچھے رہ جانے کے باوجود اس نے فنش لائن کے قریب اسمارٹ فون ساز کمپنی آنر کے روبوٹ ’لائٹننگ‘ کو پیچھے چھوڑ دیا۔
ریکارڈ ساز کارکردگی کا تفصیلی جائزہ
لائٹننگ نے 9.47 سیکنڈ کا وقت نکالا جو بولٹ کے 2009 میں برلن میں قائم کردہ ریکارڈ سے بھی بہتر تھا۔ گزشتہ سال کے افتتاحی مقابلوں میں تیانگونگ الٹرا نے 100 میٹر 21.50 سیکنڈ میں جیتی تھی، اس لیے اس سال کی کارکردگی کو نمایاں بہتری قرار دیا جا رہا ہے۔
روبوٹس کی دوڑ میں نئے سنگ میل
ہفتے کے روز قبل ازیں چینی سرکاری میڈیا نے اطلاع دی تھی کہ لائٹننگ نے تیاری کے ایک ٹیسٹ میں 100 میٹر 9.32 سیکنڈ میں طے کیے اور اس کی زیادہ سے زیادہ رفتار 14.5 میٹر فی سیکنڈ ریکارڈ کی گئی۔
لائٹننگ نے رواں سال ہیومنائیڈ ہاف میراتھن 50 منٹ 26 سیکنڈ میں جیتی تھی، جو انسانی اشرافیہ کے عالمی ریکارڈ کی رفتار سے بھی تیز ہے۔ ہاف میراتھن کے دوران لائٹننگ کا قد 169 سینٹی میٹر اور ٹانگیں 95 سینٹی میٹر تھیں، تاہم محققین نے مقابلوں سے قبل اس کی ٹانگوں کی لمبائی 10 سینٹی میٹر بڑھا کر 1.05 میٹر کر دی تھی۔
متنوع مقابلوں کا انعقاد
ورلڈ ہیومنائیڈ روبوٹ گیمز میں 100 میٹر کی دوڑ سمیت 51 ایونٹس شامل ہیں، جن میں فٹ بال، رقص اور صنعتی کاموں کے مقابلے بھی شامل ہیں۔
چین کی اسٹریٹجک صنعت کے طور پر ترجیح
چین نے ہیومنائیڈ روبوٹس کو ایک اسٹریٹجک ابھرتی ہوئی صنعت کے طور پر فروغ دیا ہے۔ پالیسی ساز اور کمپنیاں امید کر رہی ہیں کہ مصنوعی ذہانت اور ہارڈویئر میں پیش رفت مینوفیکچرنگ، لاجسٹکس اور صارفین کی ایپلی کیشنز میں ان کے استعمال کو تیز کرے گی۔
اس شعبے میں سرمایہ کاروں کا جوش اس ہفتے کے آغاز میں اس وقت عیاں ہوا جب چین کی معروف ہیومنائیڈ روبوٹ ساز کمپنی یونی ٹری کے حصص بدھ کو شنگھائی میں ٹریڈنگ کے پہلے روز پانچ گنا سے زیادہ بڑھ گئے، جس سے کمپنی کی مارکیٹ ویلیو تقریباً 50 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔
عالمی شرکت اور مقابلے کی وسعت
اس سال کے مقابلوں میں 16 ممالک اور 6 براعظموں سے 666 ٹیموں کے 2,056 روبوٹس شریک ہیں، جبکہ گزشتہ سال یہ تعداد صرف 280 ٹیموں پر مشتمل تھی۔ بیجنگ کے نیشنل اسپیڈ اسکیٹنگ اوول میں جاری یہ مقابلے بدھ تک جاری رہیں گے۔

