نیپال میں ہلاکت خیز سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے کا سانحہ
کھٹمنڈو: نیپال میں بدھ کی صبح آنے والے مٹی کے تودے اور سیلابی ریلے نے کم از کم 19 افراد کی جان لے لی ہے جبکہ 384 سیاحوں سے رابطہ منقطع ہے۔ حکام کے مطابق ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
واقعہ کب اور کہاں پیش آیا
چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق یہ سانحہ مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بج کر 30 منٹ پر نیپال اور تبت کی سرحد پر واقع گیرونگ چوکی کے قریب پیش آیا۔ چینی صدر شی جن پنگ نے زخمیوں کو بچانے اور جانی نقصان کم کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے کا حکم دیا ہے۔
ریسکیو آپریشن میں فوج اور ہیلی کاپٹر تعینات
نیپالی فوج نے متعدد ہیلی کاپٹروں سمیت بڑے پیمانے پر امدادی آپریشن شروع کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق اب تک کم از کم 21 افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جا چکا ہے۔ تاہم 384 سیاحوں میں 291 غیر ملکی اور 93 نیپالی شہری شامل ہیں جن کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
حکومتی سطح پر ہنگامی اقدامات
نیپال کے وزیر اعظم بلندر شاہ نے قومی ہنگامی انتظامی ادارے کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔ ایک اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ سیلاب کی شدت بہت زیادہ ہے اور اس سے متعدد آبادیاں متاثر ہونے کا امکان ہے۔
سیلاب کی وجہ برفانی تودہ قرار
کھٹمنڈو میں قائم بین الاقوامی مرکز برائے مربوط پہاڑی ترقی کے سائنسدان چیانگ گونگ ژانگ کے مطابق یہ سیلاب دریائے لہینڈے میں برفانی تودہ گرنے سے آیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ دریا میں برفانی تودے کی وجہ سے بننے والا بند ابھی تک قائم ہے جس سے دوسرے سیلاب کا خطرہ موجود ہے۔
موسمی حالات اور سرحدی اہمیت
گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری موسلا دھار بارشوں کے باعث نیپال اور تبت کے سرحدی علاقے میں لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ گیرونگ چوکی چین اور نیپال کے درمیان زمینی راستے کا اہم ترین مقام ہے۔
چینی صدر کا فوری ردعمل
چینی میڈیا کے مطابق صدر شی جن پنگ نے کہا کہ لاپتہ افراد کی تلاش، خطرے میں گھرے لوگوں کو منتقل کرنے اور زخمیوں کے فوری علاج کے لیے تمام وسائل متحرک کیے جائیں۔ چینی صدر عموماً ایسے سانحات پر تب ہی بیان دیتے ہیں جب جانی نقصان بہت زیادہ ہو۔
مواصلاتی نظام متاثر، ریسکیو ٹیمیں سرگرم
امدادی حکام کے مطابق متاثرہ علاقوں میں مواصلاتی نظام شدید متاثر ہوا ہے جس کی وجہ سے لاپتہ سیاحوں سے رابطہ ممکن نہیں ہو پایا۔ ریسکیو ٹیمیں زمینی راستوں کے علاوہ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے بھی امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

