نقاب پوش آباد کاروں کا صحافیوں پر اچانک حملہ
مغربی کنارے میں ہفتے کے روز اسرائیلی آباد کاروں نے امریکی ٹیلی ویژن چینل این بی سی نیوز کی صحافتی ٹیم پر حملہ کر دیا۔ اس دوران ایک فلسطینی خاتون کو بھی شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ٹیم مقامی فلسطینیوں پر بڑھتے ہوئے آباد کاروں کے تشدد کے تناظر میں رپورٹنگ کر رہی تھی۔
این بی سی نیوز کے نامہ نگار میٹ بریڈلی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بتایا کہ انہیں اور ان کی ٹیم کو نقاب پوش آباد کاروں کے ایک گروہ نے نشانہ بنایا۔ انہوں نے لکھا کہ حملہ آوروں نے ٹیم کو لاٹھیوں سے پیٹا اور جس 51 سالہ فلسطینی خاتون کا انٹرویو کیا جا رہا تھا، انہیں اس قدر مارا کہ وہ بے ہوش ہو گئیں۔
جلود گاؤں میں رپورٹنگ کے دوران حملہ
بریڈلی نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ وہ اپنی ٹیم کے ہمراہ مقامی فلسطینی خاتون عائدہ احمد عبداللہ سے ملنے کے لیے جلود گاؤں گئے تھے، جن کا گھر اکثر اسرائیلی آباد کاروں کے محاصرے میں رہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جیسے ہی ٹیم ان کے گھر کے قریب پہنچی، اسرائیلی نمبر پلیٹ والی گاڑی میں سوار نقاب پوش نوجوان لاٹھیوں اور پتھروں سے لیس ہو کر موقع پر پہنچے اور حملہ کر دیا۔ حملہ آوروں نے این بی سی نیوز کی گاڑی کی ونڈ اسکرین توڑ دی، ٹیم کے ارکان کو ڈنڈوں سے مارا اور عائدہ کو اس قدر پیٹا کہ وہ بے ہوش ہو گئیں۔
فوری طور پر ایمبولینس طلب کی گئی اور عائدہ کو ہسپتال منتقل کیا گیا۔ بریڈلی نے بتایا کہ انہیں بازو پر دو چوٹیں آئیں، تاہم ٹیم کے تمام ارکان صحت یاب ہیں۔
زخمی خاتون ہسپتال سے فارغ لیکن گھر واپس نہ جا سکیں
بریڈلی کے مطابق عائدہ احمد عبداللہ کو ہسپتال سے چھٹی مل گئی ہے، لیکن وہ اپنے گھر واپس نہیں جا سکیں کیونکہ ان کا گھر اب بھی انہی پرتشدد آباد کاروں کے قبضے میں ہے۔
انہوں نے اس واقعے کو مغربی کنارے میں آباد کاروں کے تشدد میں غیر معمولی اضافے کی ایک اور کڑی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ محض ایک واقعہ ہے، جبکہ اس طرح کے درجنوں واقعات روزانہ رونما ہو رہے ہیں۔
اے ایف پی کے صحافیوں پر بھی حالیہ حملہ
یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب تین روز قبل ہی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے تین صحافیوں پر بھی جنوبی مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاروں نے حملہ کیا تھا۔ ان صحافیوں پر بھی پتھر پھینکے گئے اور ان کی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا تھا۔
اسرائیلی فوج کے مطابق اس معاملے میں پولیس تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
قصریٰ گاؤں کا محاصرہ اور نیتن یاہو کی مذمت
یہ حملے شمالی مغربی کنارے کے گاؤں قصریٰ پر حملے کے اگلے روز پیش آئے۔ اگست کے آغاز میں آباد کاروں نے گاؤں کے داخلی راستے بند کر کے فلسطینی باشندوں کا محاصرہ کر لیا تھا، جس کی ملکی اور بین الاقوامی سطح پر مذمت کی گئی۔
ہفتے کے روز قصریٰ میں بھی ایک گھر میں کام کرنے والے فلسطینیوں کو آباد کاروں نے گھیر کر پتھراؤ کیا۔
ان واقعات کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے آباد کاروں کے بارے میں غیر معمولی تنقیدی بیان جاری کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں قصریٰ اور جلود کے دیہاتوں میں قانون شکن فسادیوں کے مجرمانہ تشدد کی شدید مذمت کرتا ہوں، جو قانون کی پاسداری کرنے والی یہودی برادری کو نقصان پہنچاتے ہیں، اسرائیلی فوج کے مشن میں رکاوٹ ڈالتے ہیں اور دنیا میں اسرائیل کے موقف کو کمزور کرتے ہیں۔
اسرائیلی وزارت خارجہ نے بھی اس تشدد کو شرمناک قرار دیا ہے۔
مغربی کنارے میں آباد کاری اور تشدد میں اضافہ
مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاری 1967 سے جاری ہے، لیکن 2022 کے آخر میں نیتن یاہو کی مخلوط حکومت میں انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کی شمولیت کے بعد اس میں واضح تیزی آئی ہے۔
بین الاقوامی قوانین کے تحت غیر قانونی تصور کی جانے والی ان بستیوں میں اس وقت پانچ لاکھ سے زائد اسرائیلی رہائش پذیر ہیں، جبکہ تقریباً تیس لاکھ فلسطینی بھی اسی علاقے میں آباد ہیں۔
سات اکتوبر 2023 کو حماس کے بے مثال حملے کے بعد سے آباد کاروں کے تشدد میں مزید شدت آئی ہے، جن میں حملے، ہراسانی اور دھمکیاں شامل ہیں، تاہم ان واقعات میں قانونی کارروائی شاذ و نادر ہی ہوتی ہے۔

