counter easy hit

سینیٹ، وفاق اور صوبائی خودمختاری

سینیٹ کی اہمیت کو موجودہ حکومت نے تسلیم کرلیا۔ سینیٹ کے 45 ویں یوم تاسیس کے موقعے پر صدر ممنون حسین اور وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے خصوصی پیغام جاری کیے۔ ریاست کے ان اہم ترین عہدیداروں نے اپنے اپنے پیغامات میں اقرار کیا کہ ایوان بالا نے وفاقی اکائیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے بڑھ چڑھ کرکردار ادا کیا ہے اور ایک مضبوط ایوان بالا ہی وفاقی نوعیت کی مضبوط ریاست کی ضمانت دے گا۔ انھوں نے اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ وفاقی اکائیوں کو وفاقی سطح پر بہتر نمایندگی کا موقع فراہم کیا جائے گا۔

پاکستان 1940ء کی قرارداد لاہور کی بنیاد پر قائم ہوا تھا۔ قرارداد لاہور میں مسلمان ریاستوں کی کنفیڈریشن کی بنیاد پر پاکستان کے قیام کی تجویز پیش کی گئی تھی مگر 14 اگست 1947ء کی رات کو ہندوستان سے علیحدہ ہو کر قائم ہونے والی نئی ریاست کو وحدانی طرز پر استوار کیا گیا جس کی بناء پر اکثریتی صوبے مشرقی پاکستان اور چھوٹے صوبوں بلوچستان، سندھ اور سرحد میں احساس محرومی پروان چڑھا جس کا منطقی نتیجہ 16 دسمبر 1971ء کو سامنے آیا جب مشرقی پاکستان ایک علیحدہ ملک بنگلہ دیش میں تبدیل ہوا۔

جب 1972ء میں صدر ذوالفقار علی بھٹو نے نئے آئین کے خدوخال پر غور کیا تو یہ حقیقت واضح ہوئی کہ پاکستان کو ایک وفاقی ریاست ہونا چاہیے اور تمام وحدتوں کو مکمل طور پر خود مختار ہونا ضروری ہے۔ نیشنل عوامی پارٹی کا قیام ہی صوبوں کی خودمختاری کے مطالبے کی بنیاد پرآیا تھا، یوں قومی اسمبلی کی آئین کا خاکہ تیار کرنے والی کمیٹی میں میر غوث بخش بزنجو نے صوبائی خودمختاری کو آئین کی بنیاد بنانے پر زور دیا۔  ذوالفقار علی بھٹو اور میر غوث بخش بزنجو کے درمیان ایک غیر رسمی اتفاق رائے ہوا جس کی بنیاد پر صوبوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے دو ایوانی مقننہ پر اتفاق ہوا اور صوبوں کی نمایندگی کے لیے سینیٹ کا ادارہ قائم ہوا۔ آئین کے تحت تین فہرستیں تیار ہوئیں۔

ایک مشترکہ، ایک وفاقی اور ایک صوبائی۔ وزارتوں  کے حوالے سے بھٹو اور میر غوث بخش بزنجو میں غیر رسمی طور پر اس بات پر اتفاق ہوا تھا کہ 10 سال بعد مشترکہ فہرست میں درج وزارتیں صوبوں کو منتقل کی جائیں گی مگر سینیٹ کو محدود اختیارات دیے گئے۔ وزیر اعظم کے لیے قومی اسمبلی کا رکن ہونا لازمی قرار دیا گیا۔ سینیٹ کو ہر قسم کے مالیاتی اختیارات سے محروم کردیا گیا۔ قانون سازی میں سینیٹ پر قومی اسمبلی کی بالادستی قائم کی گئی۔ تاریخ کے صفحات کی ورق گردانی سے پتہ چلتا ہے کہ میر بزنجو آئینی کمیٹی میں نیپ کے نمایندے تھے مگر نیپ کی سینٹرل کمیٹی میں شامل کمیونسٹ پارٹی کے ترجمان پروفیسر جمال الدین اور ولی خان نے میر بزنجو کے بھٹو سے ہم آہنگی کی مخالفت کی جس کی بناء پر میر غوث بخش بزنجو قومی اسمبلی کی کمیٹی سے مستعفی ہوگئے۔ بعض ناقدین کہتے ہیں کہ اس صورتحال کی بناء پر بھی آئین میں سینیٹ کے زیادہ اختیارات اور صوبوں کو مزید خودمختاری دینے کے بارے میں پیشرفت نہ ہوسکی۔

پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو اور میاں نواز شریف میثاق جمہوریت پر متفق ہوئے اور پھر صدر زرداری اور میاں نواز شریف نے میثاق جمہوریت کی پاسداری کی۔ آئین میں 18 ویں ترمیم ہوئی اور صوبوں کو حقوق بھی ملے اور سینیٹ کے کچھ اختیارات میں اضافہ ہوا مگر قانون سازی کے مرحلے میں قومی اسمبلی کو بالادستی حاصل رہی۔ پیپلز پارٹی کے رہنما اور وکیل رضا ربانی کو آصف زرداری سینیٹ کا چیئرمین نامزد کرنے پر تیار ہوئے تو رضا ربانی نے سینیٹ کی اہمیت کو اجاگر کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ رضا ربانی اس وقت جمہوری نظام کے لیے سب سے مؤثر ترین آواز ہیں۔

انھوں نے گزشتہ ہفتے واضح کیا کہ سیاست دانوں کو اسلام آباد اور راولپنڈی کے اداروں سے حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہر کوئی پارلیمنٹ پر حملہ آور ہونے کے لیے تیار رہتا ہے۔ رضا ربانی واحد رہنما ہیں جنہوں نے پارلیمنٹ کی بالادستی کو درپیش چیلنج کو رائے عامہ کے سامنے جرات کے ساتھ اجاگر کیا۔ رضا ربانی نے سینیٹ کو فعال کرنے کے لیے ادارہ جاتی اقدامات کیے۔ سینیٹ کی ذیلی کمیٹیوں کو متحرک کیا اور پاکستان کے چیف جسٹس کو پہلی دفعہ سینیٹ کے اراکین سے خطاب کے لیے مدعو کیا تاکہ اداروں کے درمیان ہم آہنگی ہوسکے مگر میاں نوا زشریف کی حکومت نے سینیٹ کے فعال کردار کو قبول نہیں کیا۔ وزراء نے سینیٹ کے اجلاس میں عدم شرکت کو معمول بنا لیا۔ سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان تو سینیٹ کے اجلاس سے مستقل غائب رہے۔ سینیٹ کے منظورکردہ قوانین کو حکومت نے قومی اسمبلی سے منظور کرانے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا حتیٰ کہ صدر ممنون حسین نے بھی سینیٹ کو اہمیت نہیں دی۔

سینیٹ کی تعلیم کے بارے میں ذیلی کمیٹی نے اتفاق رائے سے فیصلہ کیا کہ ایک وفاقی یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے بارے میں وفاق کے ادارے ہائر ایجوکیشن کمیشن کی رپورٹ پر عملدرآمد کیا جائے مگر ایوان صدر نے سینیٹ کے فیصلے کو نظرانداز کردیا۔ سینیٹ نے لاپتہ افراد کے بارے میں تحقیقاتی کمیٹی قائم کی۔ اس کمیٹی نے اپنی سفارشات پیش کیں مگر وفاقی حکومت اس جانب توجہ نہ دے سکی۔ ایسے کئی اور معاملات میں حکومت نے سرد مہری کا رویہ اختیار کیا۔

سینیٹ کے چیئرمین کو متعلقہ وزیر کے اجلاس میں شریک نہ ہونے پر بار بار سینیٹ کا اجلاس ملتوی کرنا پڑا۔ پھر سینیٹ کے چیئرمین اور اراکین نے پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا دیا مگر وزیر اعظم خود نہ اراکین سینیٹ سے ملنے آئے نہ وہ اپنے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کو آمادہ کرسکے کہ وہ سینیٹ کے اراکین کی شکایت کو دور کریں، پھر رضا ربانی نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔ رضا ربانی کا یہ احتجاج سینیٹ کو اہمیت نہ دینے کے تناظر میں تھا۔

میر غوث بخش بزنجو کے صاحبزادے میر حاصل بزنجو جوگزشتہ 8برسوں سے سینیٹ کے رکن ہیں سینیٹ کی بالادستی کو قائم کرنے کی جدوجہد کے سب سے نمایاں کارکن ہیں اور میاں نواز شریف کی حکومت کے فعال رکن ہیں۔ انھوں نے میاں رضا ربانی اور سینیٹ کے اراکین کے تحفظات وزیر اعظم تک پہنچائے۔ حاصل بزنجو کی مصالحتی کوششوں کے نتیجے میں حکومت نے میاں رضا ربانی کی کچھ شکایات کا مداوا کیا مگر  مجموعی طور پر حکومت کا رویہ تبدیل نہیں ہوا۔ سینیٹ کے چیئرمین آج بھی سینیٹ کا اجلاس اس بناء پر مؤخر کرنے پر مجبور ہوتے ہیں کہ وزراء سینیٹروں کے سوالات، تحاریک التواء اور تحاریک استحقاق وغیرہ کا جواب دینے کے لیے موجود نہیں ہوتے۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف نے گزشتہ ہفتے سینئر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے بہت عرصے بعد فرمایا کہ وہ میثاق جمہوریت کو مزید بہتر کرنے کے لیے تیار ہیں۔ میاں صاحب کا یہ اعلان موجودہ صورتحال میں انتہائی اہم ہے۔ میاں صاحب میثاق جمہوریت کو نظر اندازکرنے کی بناء پر تنہا ہوئے اور نادیدہ قوتوں کا ان کو اقتدار سے محروم کرنے کا منصوبہ کامیاب ہوا۔ میثاق جمہوریت کو بہترکرنے کے لیے ضروری ہے کہ سینیٹ کے کردار کو بڑھایا جائے۔ سینیٹ کو قانون سازی کے قومی اسمبلی کے برابر کے اختیارات ہونے چاہئیں۔

اسی طرح وزیر اعظم کی اہلیت کی شرائط میں قومی اسمبلی کے ساتھ سینیٹ کا رکن ہونا بھی شامل ہونا چاہیے۔ پھر ایک اہم ترین معاملہ سینیٹ کے مالیاتی اور تحقیقاتی اختیارات کا ہے۔ 1973ء کے آئین کے تحت سینیٹ کو کوئی مالیاتی اختیار حاصل نہیں تھا۔ اس بناء پر بجٹ کی دستاویزات سینیٹ کے سامنے پیش نہیں ہوتیں۔ قومی اسمبلی سے منظور کردہ بجٹ نافذ ہوجاتا ہے۔ سینیٹ کے مالیاتی اختیار نہ ہونے کی بناء پر بیوروکریسی اس کو ایک تو اہمیت نہیں دیتی پھر چھوٹے صوبوں کی اسکیموں کو بجٹ میں اہمیت نہیں دی جاتی۔ اگر سینیٹ بجٹ کی منظوری دے گی تو پھر چھوٹے صوبوں کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے رقم مختص کرنے میں آسانی ہوگی۔

امریکا میں سینیٹ کو مختلف امور میں تحقیقات کرنے کا اختیار ہے۔ سینیٹ کی تحقیقات کے نتیجے میں جو فیصلہ ہوتا ہے اس کو ریاست کے تمام ادارے تسلیم کرتے ہیں۔ پیپلز پارٹی نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ پاناما لیکس پر پارلیمنٹ تحقیقات کرے مگر میاں صاحب کے لیے پارلیمنٹ کی اہمیت نہیں تھی اس بناء پر انھوں نے اس تجویز کو اہمیت نہیں دی۔ یہ تحقیقات سینیٹ کو کرنی چاہیے تھیں۔ بہرحال سینیٹ کو مؤثر بنا کر ہی وفاق کو مضبوط کیا جاسکتا ہے۔

About Hasnain Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world.

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website

You must be logged in to post a comment Login