counter easy hit

مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ کے حوالے سے افسوسناک خبر آگئی

Sad news about former occupied Kashmir Chief Minister Farooq Abdullah

نئی دلی(ویب ڈیسک) مقبوضہ کشمیر کے حریت رہنما تو مختلف جیلوں میں قید ہیں تاہم بھارت نواز سابق وزرائے اعلیٰ عمر فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی سمیت کئی رہنماؤں کو بھی نظر بند کرنے کے بعد گرفتار کیا جا چکا ہے تاہم اس دوران لوک سبھا کے بزرگ رکن اور سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ منظر عام
سے غائب ہوگئے ہیں۔ بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے مقبوضہ کشمیر کو بھارتی یونین کا حصہ قرار دینے کا بل راجیہ سبھا سے منظوری کے بعد آج لوک سبھا میں پیش کیا لیکن حیران کن طور پر اس اجلاس میں مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے بزرگ سیاست دان، سابق وزیراعلیٰ اور موجودہ رکن لوک سبھا فاروق عبداللہ اسمبلی میں موجود نہیں تھے۔مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنر جی نے لوک سبھا اجلاس کے دوران اسپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس اہم موقع پر مقبوضہ کشمیر کی سیاسی نمائندگی کرنے والے بزرگ رہنما اور سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ کی اسمبلی سے غیر حاضری تشویشناک ہے جب کہ وہ کسی بھی رکن سے رابطے میں بھی نہیں ہیں۔اسپیکر لوک سبھا نے جواب میں کہا کہ انہیں فاروق عبداللہ کی چھٹی کی درخواست نہیں ملی ہے اور نہ ہی ان کے حوالے سے کسی قسم کی معلومات ہے۔ اسپیکر نے وزیر داخلہ امیت شاہ کو فاروق عبداللہ کا پتہ لگانے کا حکم بھی دیا۔واضح رہے کہ فاروق عبداللہ کے صاحبزادے اور کشمیر میں اپوزیشن لیڈر عمر فاروق کو بھارتی فوج نے حفاظتی نظر بندی کے بعد باضابطہ طور پر حراست میں لے لیا تھا علاوہ ازیں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی سمیت کئی رہنماؤں کو بھی نظر بند کیا گیا تاہم ان تمام مراحل میں فاروق عبداللہ منظر عام سے غائب نظر آئے۔یاد رہے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد کسی ممکنہ ردعمل سے خوف زدہ بھارت نے پہلے سے نظر بند وزرائے اعلیٰ محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو باضابطہ طور پر حراست میں لے لیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں باضابطہ طور پر سابق وزرائے اعلیٰ محبوبہ مفتی اور عمرعبداللہ کو گرفتار کرلیا ہے قبل ازیں ان رہنماؤں کو گھروں پر نظر بند کیا گیا تھا۔بھارت نے اپنے آئین میں سے 35-اے اور آرٹیکل 370 کو ختم کرکے کشمیریوں کو حاصل نیم خود مختاری اور خصوصی اختیارات کو ختم کر دیا ہے جب کہ کشمیر کو جغرافیائی طور پر بھی دو حصوں میں تقسیم کردیا گیا ہے۔

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world.

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website