counter easy hit

‘اچھے’ اور ‘برے’ طالبان کا فرق

افغانی اکثر بڑے فخر کے ساتھ کہتے ہیں کہ ان کا ملک ‘’سلطنتوں کا قبرستان ہے”۔ بدقسمتی سے آج وہ محض ایک قبرستان ہی بن چکا ہے۔

اقوامِ متحدہ کی حالیہ رپورٹ میں ایک عرصے سے جاری اس جنگ کے نتیجے میں بڑھتے ہوئے انسانی جانوں کے نقصان کا عکس دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ افغانستان علاقائی عدم استحکام کی ایک بنیادی وجہ بن کر ابھر کے سامنے آیا ہے۔

افغانستان میں موجودہ شوریدہ حالات کو تقویت دینے میں یہ عناصر شامل کار رہے: 1979 کی سوویت مداخلت؛ اس کے نتیجے میں ابھرنے والی مذہبی انتہاپسندی اور دہشتگردی؛ اور افغانستان میں لڑی جانے والی دو امریکی جنگیں — پہلی، سوویت یونین کے خلاف مذہبی انتہاپسندوں کی حمایت میں لڑی گئی اور دوسری پھر انہی انتہاپسندوں کو جنم دینے والے القاعدہ اور افغان طالبان کے خلاف لڑی گئی۔

15 سال بعد، ہزاروں جانوں کے نقصان اور سینکڑوں ارب ڈالرز کے خرچے کے باوجود امریکا اور اس کے اتحادی القاعدہ کو ختم یا طالبان کو شکست نہیں دے پائے ہیں۔ نا ختم ہونے والے تشدد کے سلسلے کا باعث بننے والی ’دہشتگردی کے خلاف جنگ’ سے کچھ حاصل ہوا ہے تو وہ یہ کہ افغانستان سے دہشتگردی کا خطرہ مزید شدت اختیار کر چکا ہے۔

امریکی صدر اوباما امریکی خسارہ گھٹانا اور افغانستان سے جان چھڑانا چاہتے تھے۔ مگر ان کے جنرلوں نے انہیں ایسا کرنے سے روک دیا۔ وہ خستہ حال مذہبی عسکریت پسندوں کے ہاتھوں پیچھے ہٹنا قبول نہیں کر سکتے تھے۔ انہوں نے اپنی ناکامی کا الزام پاکستانی ’محفوظ پناہ گاہوں’ اور دوغلے پن پر لگا دیا اور پاکستان کو اپنی لڑائی لڑنے پر زور دیا۔ واشنگٹن اس پر متفق رہا۔

افغانستان میں امریکی-نیٹو افواج کی مسلسل موجودگی کئی غیر اعلانیہ مقاصد کو پورا کر رہی ہے: ان مقاصد میں امریکا کی جانب سے قائم کردہ کابل حکومت کو ٹوٹنے سے بچائے رکھنا؛ جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ اور امریکا کے دیگر علاقائی مقاصد کے تناظر میں پاکستان اور ایران پر دباؤ بنائے رکھنا؛ اور افغانستان اور خطے میں روس اور چین کے ابھرتے ہوئے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنا شامل ہے۔

پاکستان امریکا کی پہلی افغان جنگ کے موقعے پر امریکا کا متفقہ اتحادی تھا جبکہ دوسری جنگ کے موقعے پر امریکا سے متفق نہیں تھا۔ 2001 میں ہونے والے امریکی حملے نے کئی افغان طالبان (اس کے ساتھ ساتھ القاعدہ کے دہشتگردوں) کو پاکستان میں دھکیل دیا۔ پاکستان کے امریکا کے ساتھ غیر مقبول اتحاد اور جنوبی وزیرستان میں ہونے والے فوج کے آپریشن سے انتہاپسندی کو مزید تقویت پہنچی جو بالآخر مشہور زمانہ پاکستانی طالبان (ٹی ٹی پی) کے بننے کا باعث بنی۔ سوات اور فاٹا میں پاکستان کی جانب سے ابتدائی کارروائیاں خاص طور پر ٹی ٹی پی کے خلاف کی گئی تھیں مگر شمالی وزیرستان میں ہونے والے ضرب عضب آپریشن میں وہاں موجود افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک تمام عسکریت پسند گروپس کے خلاف کارروائی کا دائرہ بڑھایا گیا۔

ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کے زیادہ تر جنگجو اب افغانستان کے ان علاقوں کا رخ کر چکے ہیں جہاں حکومتی رٹ قائم نہیں ہے۔ اگرچہ ’اچھے‘ اور ’برے’ طالبان کے درمیان تمیز ایک مذاق بن چکی ہے، مگر افغان طالبان اور ٹی ٹی پی کے درمیان ایک واضح فرق ضرور موجود ہے۔ افغان طالبان کا ایک قابل عمل سیاسی ایجنڈا ہے: افغانستان میں اقتدار یا اقتدار میں حصہ۔ جبکہ ٹی ٹی پی نے پاکستانی ریاست کے خاتمے کا تباہ کن مقصد اپنایا ہوا ہے۔ افغان طالبان پاکستان پر حملہ نہیں کرتے مگر افغان اور ہندوستانی انٹیلیجنس کے تعاون سے ٹی ٹی پی حملے کرتی ہے۔ ٹی ٹی پی جو کہ اب عسکریت پسند گروہ دولت اسلامیہ کی اتحادی ہے وہیں افغان طالبان اس گروہ کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

دولت اسلامیہ اپنی خود ساختہ ’خلافت’ کو ’خراساں صوبے’ (جس میں افغانستان اور پاکستان اور ایران کے کچھ حصے شامل ہیں) تک وسعت دینے کا اعلان کر چکی ہے۔ وہ بڑی حد تک ٹی ٹی پی، القاعدہ، اسلامی تحریک ازبکستان اور اسلامی تحریک مشرقی ترکمنستان کی صفوں میں اپنے تازہ سپاہی بھی تلاش کر چکی ہے۔

افغانستان میں دولت اسلامیہ کے ابھار اور پاکستان پر اس کے حملوں نے ایران، روس اور وسطی ایشیائی ریاستوں کو چوکس کر دیا ہے۔ ان ممالک کو ڈر ہے کہ دولت اسلامیہ پورے خطے میں دہشتگردی پھیلانے کے لیے افغانستان کو اپنے قلعے کے طور پر استعمال کرے گا۔

ایران دولت اسلامیہ، بشمول اس کے انتہاپسندانہ سنی نظریے کو اپنے لیے جان لیوا دشمن کے طور پر دیکھتا ہے جس کے خلاف وہ عراق، شام اور دیگر جگہوں پر برسرِپیکار ہے۔ جس طرح ’اپنے دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے’، ویسے ہی ایران نے بھی خبروں کے مطابق افغان طالبان کی حمایت کی ہے۔ (ملا منصور کو دورہ ایران کے بعد بلوچستان میں قتل کر دیا گیا تھا۔)

ماسکو بھی افغان طالبان کے ساتھ روابط قائم کر چکا ہے۔ روس نے حالیہ دنوں میں ہی افغانستان پر پاکستان اور چین کے ساتھ مشاورتی اجلاس کی میزبانی کی۔ اس اجلاس میں کابل اور نئی دہلی کے احتجاج کرنے پر انہیں پھر ماسکو میں منعقد دوسرے اجلاس میں مدعو کیا گیا تھا۔ جبکہ امریکا دونوں میں سے کسی اجلاس میں مدعو نہیں تھا۔ روس امریکا اور دولت اسلامیہ کے درمیان تعلقات کے حوالے سے پختہ شکوک شبہات رکھتا ہے۔ ایران کھلے عام امریکا پر دولت اسلامیہ ’پیدا‘ کرنے کا الزام لگا چکا ہے۔

چین بھی فکرمند ہے کیونکہ مشرقی ترکمانستان اسلامی تحریک ٹی ٹی پی سے منسلک ہے اور اب دولت اسلامیہ سے بھی منسلک ہے۔ چین نہ صرف سنکیانگ میں عدم استحکام کی صورتحال سے بچنا چاہتا ہے بلکہ چاہتا ہے کہ صدر شی جن پنگ کی خواہش، ایک پٹی ایک سڑک منصوبے، خاص طور پر چین پاکستان اقتصادی راہداری پر عمل در آمد کے مرحلے میں افغانستان سے خارج ہونے والے خطرات دور رہیں۔

ہندوستان دہائیوں سے پاکستان کو دو محاذوں پر الجھائے رکھنے کا خواہشمند رہا ہے۔ 2002 میں کابل کے اندر شمالی اتحاد کی حکومت قائم ہونے سے اس کے لیے ایسا ممکن ہونے کی امیدیں دوبارہ زندہ ہو گئیں۔ جس طرح ہندوستانی مشیر قومی سلامتی اجیت ڈوول نے بھی کھلے عام اس بات کو تسلیم کیا تھا کہ ہندوستان پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے ٹی ٹی پی دہشتگردی اور بلوچ علیحدگی پسندوں کی سرپرستی کے لیے افغان سر زمین استعمال کر رہا ہے۔ ٹی ٹی پی اور دولت اسلامیہ کے درمیان نظر آنے والے اتحاد کے باوجود ہندوستان نہ ہی آسانی سے اپنے ’اثاثوں’ کو ترک کر دے گا اور نہ ہی اپنی حکمت عملی کو الٹے گا۔ اس کے برعکس اگر سرحد پار سے پاکستان پر حملے بند بھی ہو جائیں، تو بھی ہندوستان کے سابق فوجی سربراہ “پاکستانیوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے قتل” سے پاکستان کے اندر سے ہی بے لگام اور بے قابو تشدد کو پیدا کرنے کی تجویز دے چکے ہیں۔

نریندرا مودی کے ہندوستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے باوجود بھی ہندوستان، پاکستان میں بڑی سطح کی تخریب کاری اور دہشتگردی کے اپنے منصوبوں سے پیچھے نہیں ہٹے گا، بلکہ ایسا ہمارے ٹی ٹی پی کے خلاف فیصلہ کن کارروائی اور پاکستان کے اندر موجود ہندوستان کے ’سلیپر سیلز’ کے مکمل خاتمے سے ہی ممکن ہو سکتا ہے۔

اسلام آباد میں اقتصادی تعاون تنظیم کے بروقت اجلاس نے ہندوستان کے پاکستان کو تنہا کرنے کے ارادوں کی ناکامی کو ثابت کر دیا ہے۔ اجلاس کے اعلامیے میں بڑھتا ہوا علاقائی اتفاق رائے نظر آتا ہے جس کے مطابق پائیدار علاقائی سیکیورٹی کے لیے افغانستان میں انتشار کی صورتحال کو ختم کرنا ضروری ہے اور یہ کہ دولت اسلامیہ اور اس کے ٹی ٹی پی جیسے اتحادیوں کی بھرپور مخالفت اور ان کا خاتمہ لازمی ہے۔

خطے میں پائیدار سیکیورٹی پیدا کرنے کی جدو جہد ٹرمپ انتظامیہ کے لیے بالکل نئی ہے۔ ایران کی جانب اس کے جارحانہ رویے کے علاوہ، نئی انتظامیہ نے افغانستان، پاکستان یا خطے کے حوالے سے ابھی تک اپنی پالیسیوں کو ظاہر نہیں کیا ہے۔ پاکستان اور دیگر متعلقہ ریاستوں کو ان تین باتوں پر واشنگٹن کو قائل کرنا ہوگا کہ، اول، افغانستان میں امن صرف کابل اور افغان طالبان کے درمیان مذاکراتی حل کے ذریعے قائم ہو سکتا ہے؛ دوسرا، دولت اسلامیہ اور اس کے اتحادی، بشمول ٹی ٹی پی، افغانستان اور خطے کی سیکیورٹی اور استحکام کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں؛ اور، تیسرا، ہندوستان اور اس کے افغان شراکت داروں کی جانب سے ان دہشتگردوں کی معاونت بند کروائی جائے۔

موجودہ افغان شورش یکطرفہ فوجی مداخلتوں کے باعث پیدا ہوئی تھی۔ اس کے خاتمے کے لیے سرگرم بین الاقوامی تعاون کی ضرورت ہے۔

یہ مضمون 5 مارچ 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔

منیر اکرم اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر رہ چکے ہیں۔


About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world. for comments and News yesurdu@gmail.com 03128594276

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website