counter easy hit

دنیا کے مقابلے میں پاکستان میں ذیابیطس کی شرح تیزی سےبڑھ رہی ہے، ماہرین

Diabetes rate in Pakistan is growing faster than the world beyond, experts

Diabetes rate in Pakistan is growing faster than the world beyond, experts

پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں بقیہ دنیا کے مقابلے میں ذیابیطس کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور اس کی وجہ ذہنی تناؤ، غیرصحتمند طرزِ زندگی اور کھانے پینے میں بد احتیاطی شامل ہے۔

اس ضمن میں 1994 سے 1998 میں صحت کی عالمی تنظیم (ڈبلیو ایچ او) اور پاکستان میں ذیابیطس ایسوسی ایشن سے ایک سروے کیا گیا تھا اور محتاط اندازہ لگایا گیا تھا کہ اس وقت پاکستان میں اس کے 70 لاکھ مریض موجود تھے جب کہ اس کے بعد کوئی نیا سروے نہیں کیا گیا

اب ماہرینِ صحت کےمطابق پاکستان کی قریباً 20 فیصد آبادی ذیابیطس کی شکار ہے اور یہ تعداد 3 سے 4 کروڑ تک ہوسکتی ہے تاہم فیلڈ میں موجود معالجین کے مطابق یہ تعداد بہت ذیادہ بھی ہوسکتی ہے۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسس ( پمز) میں ذیابیطس کے ڈاکٹر جمال ظفر کے مطابق ان کے ادارے میں اوپی ڈی کا ہر تیسرا مریض ذیابیطس کا شکار ہے۔ ڈاکٹر ظفر نے بتایا کہ اس ضمن میں جب راولپنڈی کے نواح میں ایک سروے کیا گیا تو معلوم ہوا کہ 32 فیصد آبادی ذیابیطس کی کسی نہ کسی قسم کی شکار ہے۔

ڈاکٹر ظفر کے مطابق  ذیابیطس اندھے پن، گردے فیل ہونے، فالج اور ہاتھ پاؤں سے محرومی کی اہم وجہ ہے لیکن پاکستانی کم عمری میں ہی اس کے شکار ہورہے ہیں۔ ڈاکٹر ظفر نے اس کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ذیابیطس کے شکار افراد کی بڑی تعداد اس کیفیت سے واقف نہیں لیکن احتیاط، ادویات، ورزش اور پرہیز سے ذیابیطس کو قابو میں رکھا جاسکتا ہے۔ انہوں نے ورزش، خون میں شکر کی مقدار کو کنٹرول میں رکھنے اور باقاعدگی سے معائنے پر زور دیا۔

ماہرین کا کہنا ہےکہ ذیابیطس سے ہونے والی پیچیدگیوں کی وجہ سے لوگوں کی تعداد موت کی شکار ہورہی ہے جب کہ آگہی، علاج اور دیگر اقدامات کی وجہ سے یورپ بلکہ ترقی یافتہ ممالک میں بھی یہ شرح کم ہورہی ہے۔ پمز کے ذیابیطس کلینک میں 10 فیصد مریض اپنے ہاتھ اور پیروں سےمتاثر ہوچکے ہیں جب کہ دنیا بھر میں یہ شرح 7 فیصد ہے جو پاکستان کی صورتحال کو مزید خوفناک ظاہر کرتی ہے۔

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world. for comments and News yesurdu@gmail.com 03128594276

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website