ڈیٹرائٹ: ڈیموکریٹ امیدوار عبدل السید نے مشی گن کی خالی امریکی سینیٹ نشست پر منگل کو کامیابی حاصل کرلی، میڈیا پروجیکشنز کے مطابق وہ ایوان بالا میں منتخب ہونے والے پہلے مسلمان بن گئے ہیں جبکہ سینیٹ کنٹرول کی جنگ میں ڈیموکریٹس کی ایک اہم نشست بھی محفوظ رہی۔
قریب سے لڑے جانے والے اس انتخابات میں السید کی جیت ڈیموکریٹک پارٹی کے ترقی پسند دھڑے کے لیے ایک اہم پیش رفت ثابت ہوئی اور ریٹائر ہونے والے ڈیموکریٹ سینیٹر گیری پیٹرز کی نشست پر قبضہ کرنے کا ریپبلکنز کا موقع ختم ہوگیا۔
عوامی صحت کے ماہر سے سینیٹر تک کا سفر
42 سالہ عبدل السید، جو سابق پبلک ہیلتھ اہلکار ہیں، نے اپنی انتخابی مہم میں محنت کش خاندانوں کے اخراجات کم کرنے اور سیاست میں کارپوریٹ اثر و رسوخ کو محدود کرنے پر توجہ مرکوز رکھی۔ ان کے منشور میں میڈیکیئر فار آل شامل تھا، جو حکومتی فنڈ سے چلنے والا یونیورسل ہیلتھ کیئر پروگرام ہے اور جس کی حمایت پارٹی کے ترقی پسند رہنما کرتے ہیں۔
منگل کے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکنز کے پاس سینیٹ میں 53 کے مقابلے 47 کی اکثریت تھی، اور ڈیموکریٹس کو کنٹرول حاصل کرنے کے لیے چار نشستوں کا خالص فائدہ درکار تھا۔
متنازع انتخابی مہم اور الزامات
ان کے حریف 63 سالہ مائیک راجرز، سابق کانگریس مین اور ایف بی آئی ایجنٹ، ٹرمپ اور قومی ریپبلکنز کی بھرپور حمایت کے ساتھ میدان میں اترے تھے۔ راجرز نے السید کو اخوان المسلمون سے مبینہ تعلقات کے ذریعے انتہا پسندی سے ہمدردی رکھنے والا ایک بنیاد پرست امیدوار کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی، ایسے الزامات جنہیں السید مسترد کرتے ہیں اور جن کے ثبوت بھی موجود نہیں ہیں۔ ڈیموکریٹس کا کہنا تھا کہ السید پر یہ حملے اسلامو فوبک سوچ پر مبنی تھے۔
راجرز نے یہودی ووٹرز کو راغب کرنے کے لیے بھی خاصی کوشش کی جو اسرائیل کو امریکی فوجی امداد کی مخالفت اور غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کو نسل کشی قرار دینے پر السید سے نالاں ہو سکتے تھے۔
لیکن راجرز معیشت کے حوالے سے ووٹرز کے تحفظات اور ٹرمپ کی کم مقبولیت پر قابو پانے میں ناکام رہے۔ انتخابی مہم کے آخری ہفتوں میں انہوں نے ایران جنگ اور کینیڈا کے ساتھ امریکی تجارتی تنازعے پر صدر سے اختلاف کیا، یہ دلیل دیتے ہوئے کہ دونوں کو ختم کرنا کاروباری اداروں اور صارفین کے اخراجات کم کرنے کے لیے ضروری ہے۔
94 سال بعد کنساس میں ڈیموکریٹ کی تاریخی جیت
ایڈم ہیملٹن نے کنساس میں امریکی سینیٹ کی دوڑ جیت لی، میڈیا پروجیکشنز کے مطابق انہوں نے ٹرمپ کے حمایت یافتہ ریپبلکن راجر مارشل کو شکست دے کر ریاست کے 94 سال میں پہلے ڈیموکریٹ سینیٹر بننے کا اعزاز حاصل کیا اور چیمبر پر ڈیموکریٹس کا کنٹرول مضبوط کرنے میں مدد کی۔
یہ ایک ایسی ریاست میں ڈیموکریٹس کی حیران کن کامیابی تھی جہاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2024 میں 16 فیصد سے زیادہ پوائنٹس کے فرق سے کامیابی حاصل کی تھی اور جہاں ابتدائی طور پر اس دوڑ کو محفوظ ریپبلکن نشست سمجھا جا رہا تھا۔
ملک کی سب سے بڑی یونائیٹڈ میتھوڈسٹ کانگریگیشن کے پادری ہیملٹن نے استطاعت اور دو جماعتی تعاون کے نعرے پر مہم چلائی، خود کو “آزاد خیال ڈیموکریٹ” قرار دیا اور ریپبلکنز کی طرف سے انہیں انتہائی بائیں بازو کا حامی قرار دینے کی کوششوں کو مسترد کیا۔
اپنی فتح کی تقریر میں “ایک دوسرے سے محبت کرو” کا بیج پہنے ہوئے ہیملٹن نے ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز کے درمیان اتحاد کی ضرورت پر زور دیا اور ٹیرف اور غذائی امداد میں کٹوتیوں جیسی ٹرمپ پالیسیوں کی وجہ سے بڑھتی ہوئی مہنگائی پر قابو پانے کی بات کی۔
انہیں منتخب کرنے میں، “کنساس کے لوگوں، ریپبلکنز، ڈیموکریٹس اور آزاد امیدواروں نے یہ کہا کہ واشنگٹن میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ٹھیک نہیں ہے،” ہیملٹن نے کہا۔
دوڑ آخری ہفتوں میں سخت ہوگئی تھی، جس کے باعث ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس مارشل کے لیے مہم چلانے کنساس آئے تھے۔
19 اکتوبر کو وکیٹا کے علاقے میں ایک انتخابی ریلی میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکی محکمہ زراعت کسانوں کو فصل کی کٹائی کے موسم میں ڈیزل کے اخراجات پورے کرنے کے لیے 8 ارب ڈالر فراہم کرنے کے لیے “ہارویسٹ فیول ریلیف پروگرام” شروع کرے گا۔
