ہنگری کی پارلیمنٹ نے ملک کے متنازعہ اینٹی ایل جی بی ٹی پلس قانون کو منسوخ کرنے کے حق میں ووٹ دے دیا ہے۔ یہ اقدام یورپی یونین کی اعلیٰ ترین عدالت کی جانب سے اس قانون کو یونین کی بنیادی اقدار کے منافی قرار دیے جانے کے بعد سامنے آیا۔
پارلیمنٹ میں ووٹنگ کے اعداد و شمار
منگل 13 اکتوبر کو پارلیمنٹ نے 139 ووٹوں کے ساتھ قانون کی منسوخی کی منظوری دی جبکہ 51 ارکان نے مخالفت میں ووٹ دیا۔ یہ قانون 2021 میں بچوں کے تحفظ کے نام پر متعارف کرایا گیا تھا اور اس کے تحت 18 سال سے کم عمر افراد کے سامنے ہم جنس پرستی اور صنفی شناخت کے موضوعات پر بات کرنے پر پابندی تھی۔
وزیر اعظم پیٹر میگیار کی یورپ نواز اکثریتی جماعت ٹیسزا نے اس قانون کو منسوخ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت کی بدولت وکٹر اوربان کی فیڈز پارٹی کی مخالفت کے باوجود یہ قانون منسوخ ہو سکا۔
یورپی عدالت کا فیصلہ
گزشتہ سال اپریل میں یورپی یونین کی اعلیٰ ترین عدالت نے قرار دیا تھا کہ 2021 کا یہ قانون یورپی یونین کی بنیادی شناخت کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ اس فیصلے کے بعد ہنگری کی پولیس نے رواں سال پرائیڈ مارچ کی اجازت بھی دے دی تھی۔
وکٹر اوربان کی حکومت نے 2010 سے 2026 تک اپنے دور اقتدار میں بتدریج ایل جی بی ٹی پلس حقوق کو محدود کیا۔ 2020 میں ٹرانس جینڈر افراد کی قانونی شناخت پر پابندی عائد کی گئی اور اگلے سال اینٹی ایل جی بی ٹی قانون متعارف کرایا گیا۔ بعد ازاں اس قانون کو مزید سخت کر دیا گیا تاکہ پرائیڈ مارچ پر پابندی لگائی جا سکے۔
انسانی حقوق کے کارکنوں کا مؤقف
ہیٹر سوسائٹی کے تاماس ڈومبوس نے اس پیش رفت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایل جی بی ٹی پلس مواد تک رسائی کی پابندیوں کا خاتمہ یقیناً ایک اہم اور مثبت پیش رفت ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ ان کے مطابق ٹرانس جینڈر افراد کو اب بھی قانونی شناخت حاصل نہیں ہو سکتی اور ہم جنس جوڑوں کو گود لینے کا حق بھی نہیں دیا گیا۔
نئی قانون سازی کی تفصیلات
نئی قانون سازی کے تحت فحاشی، جنسی استحصال اور دیگر ایسے مواد پر پابندی عائد کی جائے گی جو بچوں کی جسمانی، ذہنی، جذباتی یا اخلاقی نشوونما کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔
وزیر اعظم پیٹر میگیار نے ان تبدیلیوں کو ایل جی بی ٹی پلس حقوق کی بحالی کے طور پر پیش نہیں کیا بلکہ انہیں بچوں کے تحفظ کے موجودہ قوانین کو مضبوط بنانے کے طور پر بیان کیا ہے جو جنسی رجحان سے قطع نظر لاگو ہوں گے۔
یہ قانونی اصلاحات ہنگری کی قومی سیاست میں ایک اہم موڑ کی نشاندہی کرتی ہیں اور یورپی یونین کے ساتھ تعلقات میں بہتری کا باعث بن سکتی ہیں۔
