ماسکو نے پیر کے روز بتایا کہ یوکرین پر حملے کے بعد لگائی گئی پابندیوں کے باوجود روس نے 2022 سے اب تک یورپی ممالک کو 320 ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کے ہائیڈروکاربن فروخت کیے ہیں۔ روس کے نائب وزیر اعظم برائے توانائی الیگزینڈر نوواک نے ٹیلی ویژن پر گفتگو میں کہا کہ یہ رقم 320.7 ارب ڈالر بنتی ہے جو تقریباً 286 ارب یورو کے برابر ہے۔
2026 کے نو ماہ میں 21.3 ارب ڈالر کی خریداری
نوواک کے مطابق یورپی ممالک نے صرف 2026 کے پہلے نو مہینوں میں 21.3 ارب ڈالر مالیت کے روسی ہائیڈروکاربن خریدے۔ انہوں نے کہا کہ پابندیوں کے باوجود ان شعبوں میں توانائی کے وسائل کی فراہمی جاری ہے جن کے لیے چھوٹ دی گئی ہے۔
یورپی یونین کی پابندیاں اور استثنیات
یورپی یونین نے یوکرین پر روس کے بڑے پیمانے پر حملے کے آغاز سے اب تک ماسکو کے خلاف متعدد پابندیاں عائد کی ہیں۔ تاہم فرانس سمیت کئی ممالک اب بھی روس سے ہائیڈروکاربن خاص طور پر مائع قدرتی گیس کی خریداری جاری رکھے ہوئے ہیں۔
سلوواکیہ اور ہنگری سمیت کئی ریاستوں کو پائپ لائن کے ذریعے روسی تیل خریدنے کے لیے استثنیٰ حاصل ہے۔ اس مجموعی رقم میں وہ روسی ہائیڈروکاربن شامل نہیں جو بالواسطہ طور پر یورپ پہنچتے ہیں، یعنی تیسرے ممالک جیسے بھارت اور ترکی میں پروسیسنگ کے بعد۔ ان ممالک نے 2022 سے روسی خام تیل کی خریداری میں بہت زیادہ اضافہ کیا ہے، جیسا کہ چین نے بھی کیا۔
امریکی تنقید اور ڈیزل معاہدہ
اس صورتحال پر امریکی حکام نے تنقید کی ہے جن میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی شامل ہیں۔ ٹرمپ نے جمعہ کے روز روس کی جانب سے عالمی منڈیوں میں ڈیزل کی فراہمی کے معاہدے کا اعلان کیا تاکہ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی قیمتوں کو قابو میں رکھا جا سکے۔
نوواک نے پیر کے روز یقین دہانی کرائی کہ سال کے اختتام تک عالمی منڈیوں میں ماہانہ ترسیل کا حجم 3 سے 3.5 ملین ٹن تک پہنچ جائے گا، جیسا کہ بحران سے قبل تھا۔ امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے اتوار کے روز یورپیوں کی منافقت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ولادیمیر پوتن کی مالی معاونت جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ ڈیزل کی قیمت میں راحت حاصل نہیں کر سکتے۔
یورپی یونین کا ردعمل
روسی ڈیزل کے معاہدے پر یورپی یونین کا موقف ہے کہ اس فیصلے سے روس کو جنگ لڑنے کے وسائل مل رہے ہیں۔ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد، جسے انہوں نے روسی ہم منصب ولادیمیر پوتن کے ساتھ انتہائی نتیجہ خیز گفتگو قرار دیا، امریکی کانگریس میں ڈیموکریٹک اور ریپبلکن اراکین نے واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان ڈیزل معاہدے کو قانون کے منافی قرار دیا ہے۔
ٹرمپ نے جمعہ کے روز اعلان کیا تھا کہ انہوں نے امریکی اور عالمی منڈیوں کو روسی ڈیزل کی بڑی مقدار میں فراہمی کے لیے بات چیت کی ہے، جس کے لیے ماسکو پر عائد پابندیوں میں نرمی کی گئی ہے۔
