محکمہ انصاف کی جانب سے پانچ نیٹ ورکس سے دستاویزات طلب
واشنگٹن: امریکی محکمہ انصاف نے پانچ بڑے ٹیلی ویژن نیٹ ورکس یعنی اے بی سی، سی بی ایس، سی این این، این بی سی اور فاکس نیوز کے خلاف انکوائری کا آغاز کر دیا ہے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق ان نیٹ ورکس پر الزام ہے کہ انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خبروں کی کوریج کو مختصر وقت کے لیے معطل کر دیا تھا۔
وائٹ ہاؤس تک رسائی پر پابندی کا تنازع
گزشتہ ماہ ستمبر میں صدر ٹرمپ نے سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو کے صحافیوں کو وائٹ ہاؤس تک رسائی سے روک دیا تھا۔ ان پر “جھوٹی خبریں” پھیلانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
اس اقدام کے فوراً بعد ان میڈیا اداروں نے عدالت سے رجوع کیا اور اسے امریکی آئین کی پہلی ترمیم کے خلاف براہ راست حملہ قرار دیا۔ پہلی ترمیم پریس کی آزادی کی ضمانت دیتی ہے۔ بعد ازاں ایک وفاقی جج نے وائٹ ہاؤس تک رسائی کی پابندی کو فوری طور پر کالعدم قرار دے دیا تھا۔
یکجہتی میں مشترکہ کوریج کی معطلی
سی این این کے ساتھ یکجہتی کے اظہار میں پانچ بڑے امریکی ٹیلی ویژن نیٹ ورکس نے کئی روز تک وائٹ ہاؤس کی مشترکہ کوریج یعنی پول کوریج معطل کر دی تھی۔ اس نظام کے تحت ایک چینل تمام نیٹ ورکس کی جانب سے ریکارڈنگ کرتا ہے تاکہ اخراجات کم کیے جا سکیں۔
نیویارک ٹائمز نے چھ ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اس واقعے کے تین ہفتے بعد محکمہ انصاف کے حکام نے جمعہ نو اکتوبر کو ٹی وی نیٹ ورکس سے رابطہ کیا۔ حکام نے وائٹ ہاؤس ٹیلی ویژن پول سے متعلق دستاویزات طلب کیں۔
محکمہ انصاف کا مؤقف
محکمہ انصاف کی ترجمان ایملی کوونگٹن نے اخبار کو بتایا کہ پانچوں نیٹ ورکس نے “وائٹ ہاؤس کی تقریبات کی کوریج کا بائیکاٹ کیا”۔ انہوں نے ایک بیان میں لکھا کہ “تجارتی حریفوں کے درمیان بائیکاٹ شیرمین ایکٹ کی خلاف ورزی ہو سکتا ہے”۔ شیرمین ایکٹ ایک اینٹی ٹرسٹ قانون ہے۔
صدر ٹرمپ طویل عرصے سے ان میڈیا اداروں پر تنقید کرتے رہے ہیں جو ان کے خلاف تنقیدی کوریج نشر کرتے ہیں۔ انہوں نے متعدد بار پریس کو “عوام کا دشمن” قرار دیا ہے۔
صحافتی آزادی کے تحفظ کے لیے تشویش
امریکی ادارے رپورٹرز کمیٹی فار فریڈم آف دی پریس کے صدر بروس ڈی براؤن کے مطابق یہ انکوائری “ایک بہانہ معلوم ہوتی ہے تاکہ یہ معلومات حاصل کی جا سکیں کہ صدر کی خود عائد کردہ میڈیا پابندی کے دوران نیٹ ورکس وائٹ ہاؤس کی روزمرہ تقریبات کی کوریج کیسے کر رہے تھے”۔
انہوں نے ایک بیان میں زور دیا کہ “نیوز ادارے کوریج کے حوالے سے جو فیصلے کرتے ہیں وہ پہلی ترمیم کے تحت محفوظ ہیں، اور مقابلہ بازی کے قانون کا سہارا لینا صحافیوں کو ڈرانے کی ایک نئی اور مزید بے شرم کوشش ہے”۔
عدالت میں نئی درخواست
جمعرات آٹھ اکتوبر کو سی این این، ایم ایس ناؤ اور آن لائن میڈیا ادارے پولیٹیکو نے ایک وفاقی جج سے درخواست کی کہ وائٹ ہاؤس تک ان کی رسائی کی بحالی کو غیر معینہ مدت تک برقرار رکھا جائے۔
ٹرمپ انتظامیہ اور میڈیا کے درمیان یہ محاذ آرائی گزشتہ کئی ماہ سے جاری ہے۔ اس تنازع نے امریکہ میں صحافتی آزادی کے حوالے سے نئی بحث کو جنم دیا ہے۔
