استنبول میں جاری پولیس کارروائی کے بعد ایل جی بی ٹی برادری میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ حکام نے “میرا خاندان محفوظ ہے” کے نام سے یہ مہم شروع کی ہے جس کے تحت درجنوں افراد کو ان کی جنسی ترجیحات کی بنیاد پر حراست میں لیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ ترکی میں ہم جنس پرستی قانونی طور پر جرم نہیں ہے۔
کارروائی کا آغاز اور حکومتی مؤقف
یہ پولیس کارروائی 12 ستمبر سے جاری ہے۔ اس دوران متعدد ایل جی بی ٹی افراد کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں اور کئی کو جیل بھیجا جا چکا ہے۔ صدر رجب طیب ایردوان کی اسلامی قوم پرست حکومت ایل جی بی ٹی افراد کو ملک میں شرح پیدائش میں کمی کا ذمہ دار قرار دے رہی ہے۔ صدر خود انہیں “بدکار” کہتے ہیں۔
روپوش کارکن کی کہانی
استنبول میں بیس سال سے ایل جی بی ٹی حقوق کے لیے کام کرنے والے اِلکسن نے بتایا کہ وہ ایک ماہ سے اپنے گھر سے دور ہیں اور دوستوں کے ہاں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ہر وقت گرفتاری کا خدشہ لاحق رہتا ہے۔
اِلکسن نے اپنی موبائل لوکیشن بند رکھنے اور واٹس ایپ پر زیادہ معلومات شیئر نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے بیس سالوں سے جمع کیے گئے رسالے، پوسٹرز اور جھنڈے بھی تلف کر دیے تاکہ حکومت انہیں ان کے خلاف ثبوت کے طور پر استعمال نہ کر سکے۔
اہل خانہ کی پریشانی
ایک ٹرانس خاتون کی والدہ زلیحہ نے اس کارروائی پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جس تحفظ کی بات کرتی ہے وہ ان کے خاندانوں کو حاصل نہیں۔ زلیحہ نے مزید کہا کہ وہ اپنے بچوں کی زندگی کے لیے لڑنا جاری رکھیں گی اور کوئی چیز انہیں روک نہیں سکتی۔
پولیس کی بھاری موجودگی
مقامی سطح پر ایل جی بی ٹی حقوق کے لیے سرگرم کارکنوں نے ایک چھوٹے سے دفتر میں پریس کانفرنس کی۔ تاہم دفتر کے باہر درجنوں پولیس اہلکار تعینات تھے جنہوں نے علاقے کو گھیرے میں لے رکھا تھا۔ پولیس کا مقصد ایل جی بی ٹی افراد کے ساتھ یکجہتی کے کسی بھی مظاہرے کو روکنا تھا۔
بین الاقوامی سطح پر تشویش
ترکی میں ہم جنس پرستی قانونی طور پر جرم نہ ہونے کے باوجود حکومت کی جانب سے ایل جی بی ٹی برادری کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس صورت حال پر انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔
