یمن کے حوثی باغیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ ان واقعات نے خطے میں کشیدگی کو ایک بار پھر عروج پر پہنچا دیا ہے۔ یہ حملے کوئی اچانک پیش رفت نہیں بلکہ یمن کی پیچیدہ سیاسی اور فرقہ وارانہ تاریخ کا تسلسل ہیں۔
زیدی فرقے سے حوثی تحریک تک
حوثیوں کی جڑیں یمن کی زیدیہ بادشاہت سے جڑی ہیں جو شیعہ اسلام کی ایک اقلیتی شاخ ہے۔ 1962 کے انقلاب سے قبل یمن پر اسی زیدی بادشاہت کی حکومت تھی۔ موجودہ حوثی تحریک کے بانی حسین بدرالدین الحوثی نے 2000 کی دہائی میں زیدی اقتدار کی بحالی کے لیے مسلح جدوجہد کا آغاز کیا۔
حوثی خود کو “انصار اللہ” یعنی اللہ کے مددگار کہتے ہیں۔ ان کی موجودہ قیادت عبدالملک الحوثی کے پاس ہے جو حسین الحوثی کے فرزند ہیں۔
پسماندگی سے طاقت تک کا سفر
گزشتہ چھ دہائیوں میں حوثیوں کو یمن کی سنی اکثریتی حکومتوں کی جانب سے نظرانداز اور امتیازی سلوک کا سامنا رہا۔ 2004 سے انہوں نے مسلح جدوجہد شروع کی جس کا مقصد وقار اور اقتدار کی بحالی تھا۔ آج حوثی یمن کے تقریباً 30 فیصد علاقے اور دو تہائی آبادی پر کنٹرول رکھتے ہیں۔
ایران اور حزب اللہ کی حمایت
حوثیوں کی طاقت میں اضافے کی ایک بڑی وجہ ایران کی حمایت ہے۔ ایران بھی شیعہ اکثریتی ملک ہے اور حوثیوں کو اپنے “پراکسی” اتحادیوں میں شمار کرتا ہے۔ لبنانی حزب اللہ بھی حوثیوں کو مدد فراہم کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق چین کی ایران کو حمایت بھی بالواسطہ طور پر حوثیوں تک پہنچتی ہے۔
ایک مضبوط عسکری قوت
حوثیوں کے جنگجوؤں کی تعداد دو لاکھ تک بتائی جاتی ہے۔ انہیں محض ایک چھوٹا دہشت گرد گروہ نہ سمجھا جائے۔ یمن میں 20 سال سے جاری جنگ نے انہیں مضبوط کیا ہے جبکہ زیدی فرقے کی صدیوں پرانی تاریخ ان کی طاقت کا سرچشمہ ہے۔
خطے میں بڑھتا ہوا اثر و رسوخ
حوثیوں کا سعودی عرب پر حملہ خطے میں ان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا مظاہرہ ہے۔ یمن کی خانہ جنگی میں ان کی شمولیت نے انہیں ایک اہم علاقائی کھلاڑی بنا دیا ہے جسے نظرانداز کرنا اب ممکن نہیں رہا۔
