بینکاک میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ تیل کی بلند قیمتوں کے باوجود رواں مالی سال ملکی معیشت 4 فیصد سے زائد ترقی کرے گی۔
انہوں نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ حکومت پانچ سے چھ اداروں کی نجکاری کے ذریعے ایک ارب ڈالر سے زائد رقم حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
توانائی کی فراہمی اور زراعت میں استحکام
وزیر خزانہ کے مطابق 25 کروڑ 50 لاکھ کی آبادی والے ملک نے ایندھن کی مناسب مقدار حاصل کر لی ہے اور کسی قسم کی قلت سے بچا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زراعت جیسے اہم شعبے مضبوط کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ “میرا اب بھی واضح موقف ہے کہ ہمیں 4 فیصد سے زائد ترقی حاصل کرنی چاہیے۔” انہوں نے مزید کہا کہ افراط زر پر بھی گہری نظر رکھی جا رہی ہے کیونکہ اس کا براہ راست اثر اجناس کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔
آئی ایم ایف پروگرام اور بحالی کی کوششیں
کووڈ 19 وبا کے باعث شدید معاشی بحران کے بعد نقدی کی کمی کا شکار معیشت نے کچھ بحالی حاصل کی ہے۔ اس بحالی کو آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالر کے 37 ماہ کے قرض پروگرام کی مدد حاصل ہے، جو 2024 میں توسیعی فنڈ سہولت کے تحت طے پایا تھا۔
اس پروگرام میں زرعی آمدنی پر ٹیکس بڑھانے جیسے سخت اقدامات شامل ہیں۔ پاکستان نے گزشتہ ہفتے آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ کیا ہے جس کے تحت ممکنہ طور پر تقریباً 1.21 ارب ڈالر کی مالی معاونت حاصل ہو سکتی ہے۔
امریکا کے ساتھ 10 ارب ڈالر کی سہولت پر بات چیت
وزیر خزانہ نے بتایا کہ پاکستان امریکا کے ساتھ تجویز کردہ 10 ارب ڈالر کی ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سہولت پر بات چیت جاری رکھے ہوئے ہے۔ تاہم انہوں نے مذاکرات کے اختتام کے لیے کوئی وقت مقرر کرنے سے انکار کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ “اگر یہ سہولت مل جاتی ہے تو یہ ہمارے لیے بہت بڑی مدد ہوگی۔” یہ سہولت امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک (ایگزم) اور یو ایس انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ فنانس کارپوریشن (ڈی ایف سی) کے ساتھ جاری بات چیت کے علاوہ ہے۔
اورنگزیب نے واضح کیا کہ “اگر یہ سہولت نہ بھی ملے تو اس سے مارکیٹ تک رسائی کے حوالے سے ہمارے لیے کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوگا۔”
نجکاری کے عمل میں تیزی
گزشتہ سال قومی ایئرلائن پی آئی اے کی نجکاری کے بعد حکومت کے پاس تقریباً ایک درجن مزید ادارے زیر عمل ہیں۔ ان میں سرکاری بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیاں اور ہوائی اڈوں کے آپریشنز کی آؤٹ سورسنگ شامل ہیں۔
پانچ سے چھ اداروں کی نجکاری رواں مالی سال میں متوقع ہے جس سے ایک ارب ڈالر سے زائد رقم حاصل ہونے کا امکان ہے۔ نجکاری کو آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان کے اصلاحاتی وعدوں کا ایک اہم امتحان سمجھا جاتا ہے۔
حکام نے پہلے اس بات پر زور دیا تھا کہ خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کو فروخت نہ کرنے کی صورت میں سرکاری مالیات پر دوبارہ دباؤ کا خطرہ ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ “ہمارا موقف بالکل واضح ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ نجی شعبہ ملک کی قیادت کرے۔ لہٰذا ہمارا کردار ماحول فراہم کرنے اور ہر ممکن مدد فراہم کرنے کا ہے۔”
مشرق وسطیٰ تنازعے کے اثرات
امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جاری جنگ، جو اب آٹھویں ماہ میں داخل ہو چکی ہے، ان اجلاسوں کے ایجنڈے پر چھائی رہے گی۔ تین سال میں پہلی بار یہ اجلاس واشنگٹن سے باہر منعقد کیے جا رہے ہیں۔
پاکستان مشرق وسطیٰ سے توانائی کی درآمدات، ترسیلات زر اور مالی معاونت پر انحصار کرتا ہے۔ ملک غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے اور قرضوں کی ادائیگی کے لیے بیرونی مالی معاونت پر بھی انحصار کرتا ہے۔
