پشاور میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبائی انتظامیہ اور پولیس محکمے میں وسیع تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ ان اقدامات کے نتیجے میں ایڈووکیٹ جنرل آفس کے 57 افسران کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کا استعفیٰ
گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل الیاس نے احتجاجاً اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔
آئینی منظوری کے بعد انتظامی تبدیلیاں
ایمرجنسی اور گورنر راج کا فیصلہ ایک روز قبل کیا گیا تھا۔ صدر مملکت نے وزیراعظم کی مشاورت پر آئین پاکستان کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ان اقدامات کی منظوری دی۔
فیصلے کے فوری بعد وفاقی حکومت نے صوبے کے انتظامی ڈھانچے میں متعدد تبدیلیاں متعارف کرائیں۔ کے پی کے چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ کو ہٹا کر گریڈ 22 کے افسر ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان کو نیا چیف سیکرٹری تعینات کیا گیا۔ صوبے بھر میں متعدد بیوروکریٹس اور پولیس افسران کے تبادلے اور تعیناتیاں بھی کی گئیں۔
فوج کی تعیناتی کا حکم
وفاقی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت صوبے میں پاکستان آرمی کی تعیناتی کا حکم جاری کیا۔ فوجی دستے سول انتظامیہ کی معاونت کریں گے اور شہریوں، سرکاری املاک اور سرکاری تنصیبات کے تحفظ میں مدد فراہم کریں گے۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے مطابق نئے صوبائی انتظامی انتظامات کے تحت گورنر فیصل کریم کنڈی کی معاونت کے لیے 11 رکنی مشاورتی کونسل بھی قائم کی گئی ہے۔
12 حساس اضلاع کے لیے الگ سیکرٹریٹ
12 سیکیورٹی حساس اضلاع میں انتظامی امور کی نگرانی کے لیے ایک الگ سیکرٹریٹ قائم کیا گیا ہے۔ یہ گورنر اور چیف سیکرٹری کے ماتحت کام کرے گا۔
محمد یحییٰ اخونزادہ کو 12 حساس اضلاع کے لیے ایڈیشنل چیف سیکرٹری تعینات کیا گیا ہے۔ انہیں ان اضلاع کا ایڈمنسٹریٹر بھی مقرر کیا گیا ہے جہاں ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے۔ ان کی تعیناتی فوری طور پر مؤثر ہوگی۔
26 ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ہٹائے گئے
صوبائی محکمہ قانون کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے عہدوں پر فائز 26 افسران کو ہٹا دیا گیا ہے۔ ان میں نعمان الحق کاکاخیل، عقیل حسین، ایم ریاض خان پائندہ خیل، عامر زیب، ایوب زمان، عبدالرؤف آفریدی، عمیر اعظم خان، مدثر اعجاز، ندیم شاہ، اسد جان درانی، تیمور حیدر، نیاز محمد، ایم شہزاد نواز، عالم خان ادینزی، مہرین منور، نصیرالدین شاہ، شاہ فیصل الیاس، الطاف خان، مزمل خان، محمد بشار نوید، سردار بشارت خان، ملک امجد عنایت، غلام محمد سپال، حق نواز خان، منصور صادق اور سیف الرحمٰن شامل ہیں۔
ایڈووکیٹ آن ریکارڈ کی برطرفی
ایڈووکیٹ آن ریکارڈ کے طور پر خدمات انجام دینے والے چار افسران کو بھی ہٹا دیا گیا ہے۔ ان میں زاہد یوسف قریشی، ایم اجمل خان، فرید اللہ کنڈی اور ملک اختر حسین اعوان شامل ہیں۔
31 اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل برطرف
مزید برآں 31 اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔ ان میں تسکین الدین خٹک، جاوید خان، جاوید اللہ، یاسر خالد، بلال خان، رحمت علی، ارباب فخر عالم، حمیرا گل، جواد علی، ارشد اعظم، فرحان قادر، وقار اورکزئی، عمر خان، عابد الرحمٰن، شاہد خان، سید بلال شفیع اندرابی، مشتاق رحیم، عامر خان، شعیب علی، یاسر سلیم، ایم عدنان شیر، انعام اللہ خان، احمد ابو حنیفہ امام، رحیم اللہ، کمال، محمد فرقان، عمران خان، نجیب اللہ، عبدالوحید، ارشاد احمد خان اور عبدالقیوم شامل ہیں۔
سیاسی اور انتظامی تناظر
یہ پیش رفت صوبے کی سیاسی اور انتظامی صورتحال میں ایک اہم موڑ کی نشاندہی کرتی ہے۔ وفاقی حکومت نے آئینی دفعات کے تحت صوبائی انتظامیہ میں وسیع پیمانے پر تبدیلیاں کی ہیں۔
