وزیراعظم شہباز شریف نے خیبر پختونخوا کی سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس اجلاس میں صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ کرنے کے ممکنہ آپشنز زیر غور آ سکتے ہیں۔
اجلاس میں شرکت کرنے والے اہم عہدیدار
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اجلاس وزیراعظم ہاؤس میں منعقد ہوگا۔ اس میں وفاقی کابینہ کے اہم وزراء اور وزارت داخلہ کے سینئر افسران شریک ہوں گے۔ وزارت داخلہ کے حکام شرکاء کو صوبے کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دیں گے۔
آئینی اختیارات پر غور متوقع
اجلاس کے دوران خیبر پختونخوا کی مجموعی صورتحال، عوامی تحفظ اور امن و امان کا جائزہ لیا جائے گا۔ ایمرجنسی اور گورنر راج سمیت مختلف آئینی اختیارات پر بھی غور کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس سے صوبے میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ سامنے آ سکتا ہے۔ اگر اس تجویز کو منظوری مل گئی تو معاملہ وفاقی کابینہ کے سامنے رکھا جائے گا۔ اس صورت میں وزیراعظم کی جانب سے کابینہ کا اجلاس طلب کیے جانے کا بھی امکان ہے۔
12 اضلاع میں ایمرجنسی کی تجویز
اس سے قبل ذرائع نے بتایا تھا کہ 12 اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی تجویز زیر غور تھی۔ ان اضلاع میں سابقہ فاٹا کے ضم شدہ اضلاع بھی شامل ہیں۔
زیر غور تجاویز میں خیبر پختونخوا کے بعض کلیدی اختیارات وفاقی حکومت کو منتقل کرنے کی شقیں بھی شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق کسی بھی بڑے فیصلے سے قبل آئین کے آرٹیکل 232 سے 234 تک کی آئینی شقیں زیر غور لائی جا سکتی ہیں۔
قومی سلامتی اداروں کی رپورٹس کا جائزہ
اجلاس میں قومی سلامتی اداروں سے موصول ہونے والی رپورٹس کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ توقع ہے کہ حکومت صوبے کی سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں وفاقی حکومت کے اضافی اختیارات کے استعمال سے متعلق تجاویز پر غور کرے گی۔
