خلیج اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر حملوں کی رفتار تیز ہونے کے بعد مشرق وسطیٰ سے خام تیل کی فراہمی میں رکاوٹوں کے خدشات پھر سے بڑھ گئے ہیں۔ ان خطرات کے اثرات عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر واضح طور پر دیکھے گئے۔
برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی میں بیک وقت تیزی
برینٹ کروڈ فیوچرز 1.33 ڈالر یعنی 1.33 فیصد اضافے کے ساتھ 101.53 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے۔ اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ یعنی ڈبلیو ٹی آئی کروڈ فیوچرز 1.11 ڈالر یا 1.26 فیصد بڑھ کر 89.39 ڈالر فی بیرل ہو گئے۔
اس سے ایک روز قبل قیمتیں نچلی سطح پر بند ہوئی تھیں۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے مارچ میں شروع کیے گئے منصوبے کے تحت تیل کے ذخائر کی فراہمی تیز کرنے اور ڈیزل کی سپلائی کو ترجیح دینے پر اتفاق کیا تھا۔ حکومتیں ایندھن کی ریکارڈ قیمتوں اور ایران جنگ کے باعث پیدا ہونے والی سپلائی رکاوٹوں سے نمٹنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
آبنائے ہرمز میں خطرات میں اضافہ
خلیج اور آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل کو درپیش خطرات اکتوبر کے دوران مزید بڑھ گئے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کا ایران کے ساتھ تنازع اپنے آٹھویں ماہ میں داخل ہو چکا ہے۔ جنگ شروع ہونے سے پہلے آبنائے ہرمز سے گزرنے والی ترسیل عالمی تیل اور ایندھن کی مجموعی مقدار کا تقریباً 20 فیصد تھی۔
گزشتہ ہفتے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ٹینکرز پر حملے ایران جنگ کے آغاز کے بعد کسی بھی ہفتے کے مقابلے میں بلند ترین سطح پر پہنچ گئے۔ یہ اضافہ اس وقت ہوا جب خلیجی پیداواری ممالک اپنی برآمدات بڑھا رہے ہیں، جس کے ساتھ لاگت اور کارگو اور عملے کو لاحق خطرات بھی بڑھ گئے ہیں۔
تازہ ترین حملے میں قطر کے شمال میں ایک ٹینکر کو متعدد گولے لگے جس کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا۔ یہ اطلاع برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز ایجنسی نے بدھ کے روز دی۔
خلیجی ممالک کا خطرہ مول لینے کا رجحان
بینک اے این زیڈ کے سینئر کموڈٹی اسٹریٹجسٹ ڈینیئل ہائنز نے ایک نوٹ میں کہا کہ ماضی میں اس طرح کے حملوں کے بعد خلیج فارس سے ترسیل میں کمی واقع ہوتی تھی۔ تاہم اس بار پیداواری ممالک اپنے جہازوں کے نقصان کا خطرہ مول لینے پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں کیونکہ ان کے پاس اپنے تیل کو بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچانے کا کوئی متبادل راستہ موجود نہیں۔
ہائنز نے مزید کہا کہ آئی ای اے کی جانب سے تیل کے ذخائر کی فراہمی غالباً 400 ملین بیرل کے اس منصوبے کا حصہ ہوگی جو مشرق وسطیٰ تنازعے کے آغاز پر ترتیب دیا گیا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ اسٹریٹجک ذخائر سے اضافی نکاسی معلوم نہیں ہوتی۔
انہوں نے واضح کیا کہ اسٹریٹجک ذخائر کی فراہمی عارضی طور پر سپلائی میں اضافہ کر سکتی ہے لیکن اس سے نئی پیداواری صلاحیت پیدا نہیں ہوتی۔
امریکی ذخائر میں غیر متوقع کمی
دنیا کے سب سے بڑے تیل صارف اور پیداواری ملک امریکہ کے ذخائر کے اعداد و شمار قیمتوں کے لیے معاون ثابت ہوئے۔ خام تیل کے ذخائر میں توقع سے زیادہ کمی واقع ہوئی جبکہ ڈیزل کے ذخائر میں بھی معمولی کمی دیکھی گئی۔
امریکی توانائی اطلاعات ایجنسی کے مطابق 2 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں خام تیل کے ذخائر 3.2 ملین بیرل کم ہو کر 424.1 ملین بیرل رہ گئے۔ رائٹرز کے سروے میں تجزیہ کاروں نے 1.7 ملین بیرل کمی کی توقع ظاہر کی تھی۔
ڈیزل اور جیٹ ایندھن سمیت ڈسٹلیٹ ایندھن کے ذخائر 42,000 بیرل کم ہو کر 105.14 ملین بیرل رہ گئے۔ یہ سطح گزشتہ پانچ سالوں میں اسی عرصے کے دوران رپورٹ ہونے والی سطح سے کافی کم ہے۔
ماہرین کے مطابق خلیج اور آبنائے ہرمز میں بڑھتے ہوئے حملے اور مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعہ عالمی تیل کی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال برقرار رکھے ہوئے ہے، جس کا اثر قیمتوں پر مزید پڑنے کا امکان ہے۔
