غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو میں اہم موقف
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں اس وقت گورنر راج نافذ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر صدر، وزیراعظم اور متعلقہ ادارے صوبے کے تحفظ کے لیے ایمرجنسی یا گورنر راج کو ضروری سمجھیں تو آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت یہ اقدام اٹھایا جا سکتا ہے۔
گورنر نے کہا کہ پرامن احتجاج پر انہیں کوئی اعتراض نہیں، لیکن احتجاج کے نام پر انتشار ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وہ اپنی آئینی ذمہ داریوں اور اختیارات سے پوری طرح آگاہ ہیں۔
آئینی اختیارات کے مطابق اجلاس طلب کرنے کا حق
فیصل کریم کنڈی نے وضاحت کی کہ آئین گورنر کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ صوبائی امور اور امن و امان کی صورتحال پر بات چیت کے لیے اجلاس بلا سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے حالیہ اجلاس کا مقصد صوبے کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لینا اور اسے سمجھنا تھا۔
گورنر نے انسپکٹر جنرل پولیس کو کسی قسم کے تبادلے یا تعیناتی کے احکامات دینے کی تردید کی۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے چیف سیکرٹری سے کوئی فنڈز طلب نہیں کیے۔
صوبائی حکومت کے الزامات کا جواب
صوبائی حکومت کی جانب سے اجلاس کو غیر آئینی قرار دینے کے دعوے پر گورنر نے کہا کہ وہ اپنے آئینی کردار سے بخوبی واقف ہیں اور انہوں نے اپنے اختیارات کے دائرے میں رہتے ہوئے تمام اقدامات کیے ہیں۔
انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ پرامن سیاسی سرگرمی جمہوری حق ہے، لیکن احتجاج کی آڑ میں بدامنی اور تشدد کی ہرگز اجازت نہیں دی جا سکتی۔
اہم نکات
گورنر نے واضح کیا کہ صوبے میں فی الحال گورنر راج نافذ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی یا گورنر راج ممکن ہے۔ پرامن احتجاج کی اجازت ہے لیکن انتشار برداشت نہیں کیا جائے گا۔ گورنر نے آئی جی پی کو تبادلے یا تعیناتی کے احکامات دینے کی تردید کی اور چیف سیکرٹری سے فنڈز طلب نہ کرنے کا بھی واضح اعلان کیا۔
