فرانس نے منگل کی صبح بریٹن کے ساحل کے قریب بحر اوقیانوس میں اپنے جدید ترین جوہری بیلسٹک میزائل M51.3 کا کامیاب تجربہ کیا۔ اس موقع پر صدر ایمانوئل میکرون بھی موجود تھے۔ مقامی ماہی گیروں اور شہریوں نے میزائل کو پانی سے نکلتے اور آسمان میں ایک لمبی لکیر بناتے دیکھا۔
تجربے کی تفصیلات
فرانسیسی وزارت دفاع کے مطابق یہ تجربہ ایٹمی آبدوز “لے ویجیلنٹ” سے کیا گیا۔ یہ M51 میزائل کے تیسرے ورژن کا پہلا تجربہ تھا۔ میزائل کو جوہری وار ہیڈ کے بغیر فائر کیا گیا اور یہ بین الاقوامی معاہدوں کے مکمل احترام میں تھا۔
میزائل کو شمالی بحر اوقیانوس میں سینکڑوں کلومیٹر دور گرایا گیا۔ وزارت دفاع نے واضح کیا کہ یہ تجربہ آبدوز کے ہتھیاروں کے نظام کی تصدیق کرتا ہے۔
عینی شاہدین کے تاثرات
پینمارچ کے ایک کیفے سے اس منظر کو دیکھنے والے مقامی شخص ایرک نے بتایا، “ہم نے میزائل کو پانی سے نکلتے دیکھا۔ یہ بہت متاثر کن تھا!” انہوں نے مزید کہا کہ آسمان میں ایک بڑی لکیر بنی اور 20 سے 30 سیکنڈ بعد زوردار دھماکے کی آواز آئی جو کہ “بجلی کی گرج سے کہیں زیادہ شدید” تھی۔
ایک بیکری کے مالک گوینایل لے کلیچ نے بتایا کہ “سب لوگ باہر نکل آئے تھے اور ہم سب حیران تھے۔”
فوجی اہمیت
یہ تجربہ آپریشن سمرٹریوس کے تحت کیا گیا۔ میزائل کی پرواز کو ڈائریکشن جنرل آف آرمامنٹ کے ذرائع سے ٹریک کیا گیا۔
M51.3 میزائل گزشتہ سال 24 اکتوبر کو آپریشنل سروس میں شامل ہوا تھا۔ یہ میزائل نئے جوہری وار ہیڈز سے لیس ہے اور اس کی رینج، درستگی اور رسائی کی صلاحیت پہلے سے بہتر ہے۔ یہ فرانس کی سمندری جوہری ڈیٹرنس کے جدید ترین نظام کا حصہ ہے۔
یہ تجربہ فرانس کی سمندری جوہری صلاحیتوں کی جدید کاری میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے جس سے ملک کی دفاعی صلاحیتوں میں مزید مضبوطی آئے گی۔
