جرمنی کی بیرونی انٹیلیجنس ایجنسی کے سربراہ مارٹن جیگر نے پیر کو کہا کہ روس جرمنی کے خلاف اپنی خفیہ جنگ کو مزید تیز کر رہا ہے۔ انہوں نے پارلیمنٹ کی انٹیلیجنس نگرانی کمیٹی کو بتایا کہ اس صورتحال میں جرمنی کے کسی پرتشدد تنازعے میں گھسیٹے جانے کا خطرہ موجود ہے۔
روسی کارروائیوں کا بڑھتا ہوا دائرہ
نیٹو کا رکن ہونے کے ساتھ جرمنی یوکرین کا سب سے بڑا حامی بھی ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق ملک کو روسی مخالف کارروائیوں کا اہم نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان کارروائیوں میں غلط معلومات پھیلانے کی مہمات، جاسوسی اور قتل کی کوششیں شامل ہیں۔
مارٹن جیگر نے اگست میں لائپزگ ایئرپورٹ پر ایک یوکرینی ٹرانسپورٹ طیارے کے خلاف ڈرون حملے کی کوشش کا حوالہ دیا۔ اس واقعے میں روسی ایجنٹوں کو بنیادی ملزم سمجھا جا رہا ہے۔ جیگر کے مطابق یہ واقعہ ایسی کارروائیوں کی صرف ایک مثال ہے۔
جرمنی کے لیے سب سے بڑا خطرہ
مارٹن جیگر نے کہا کہ روس وہ ملک ہے جو جرمنی کے خلاف سب سے زیادہ براہ راست، وسیع اور ٹھوس خطرہ پیش کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جرمنی یورپ میں روسی بالادستی کی توسیع کی مخالفت کرتا ہے۔
تاہم بی این ڈی کے پاس اس بات کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے کہ روس نیٹو کے خلاف کسی بڑے پیمانے پر حملے کی تیاری کر رہا ہے۔ اس کے باوجود یہ ممکن سمجھا جاتا ہے کہ روس خاص طور پر بالٹک ممالک میں کم شدت کی فوجی سرگرمیاں جاری رکھے۔
جاسوسی سے آگے تخریب کاری
جرمنی کی داخلی انٹیلیجنس ایجنسی کے سربراہ سنان سیلن نے زور دیا کہ روسی کارروائیاں اب روایتی جاسوسی تک محدود نہیں رہیں۔ ان میں تخریب کاری اور قتل کی کارروائیاں بھی شامل ہیں جو خاص طور پر فوجی صنعت اور فوجی انفراسٹرکچر کو نشانہ بناتی ہیں۔
جرمن حکام کا کہنا ہے کہ روسی سرگرمیوں میں تیزی کو دیکھتے ہوئے یورپی ممالک کو مشترکہ طور پر مؤثر جوابی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔
