اسلام آباد — ٹیکس سال 2026 کے لیے انکم ٹیکس ریٹرن جمع کروانے کی مقررہ مہلت آج 30 ستمبر کو ختم ہو رہی ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے واضح کیا ہے کہ مقررہ تاریخ کے بعد ریٹرن فائل کرنے والے ٹیکس دہندگان کو قانون کے تحت جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
جرمانوں میں اضافے کی تجاویز
ذرائع کے مطابق انفرادی ٹیکس دہندگان کی جانب سے تاخیر سے ریٹرن فائل کرنے پر عائد ہونے والے جرمانے کو ایک ہزار روپے سے بڑھا کر 25 ہزار روپے کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ اسی طرح ایسوسی ایشن آف پرسنز سے تعلق رکھنے والوں کے لیے جرمانہ 10 ہزار روپے سے بڑھا کر 50 ہزار روپے کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
کمپنیوں کے معاملے میں مجوزہ جرمانہ 20 ہزار روپے سے بڑھا کر ایک لاکھ روپے کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔
رواں سال ریٹرن فائلنگ کے اعداد و شمار
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس 35 لاکھ 16 ہزار 265 ریٹرنز فائل ہوئے تھے۔ رواں سال یہ تعداد بڑھ کر 48 لاکھ 76 ہزار 384 ریٹرنز تک پہنچ چکی ہے۔
فائل ہونے والے ریٹرنز کے ذریعے وصول کیے جانے والے ٹیکس کی مجموعی رقم 19 ارب 21 کروڑ 70 لاکھ روپے تک پہنچ گئی ہے۔
مختلف شعبوں کی کارکردگی
تنخواہ دار ٹیکس دہندگان نے 16 لاکھ 23 ہزار سے زائد ریٹرنز فائل کیے اور 2 ارب 82 کروڑ روپے سے زائد ٹیکس ادا کیا۔ غیر تنخواہ دار ٹیکس دہندگان کی جانب سے 32 لاکھ 6 ہزار سے زائد ریٹرنز فائل کیے گئے، جن سے 13 ارب 43 کروڑ روپے ٹیکس وصول کیا گیا۔
ایسوسی ایشن آف پرسنز نے ایک ارب 41 کروڑ روپے جبکہ کمپنیوں نے ایک ارب 54 کروڑ روپے ٹیکس ادا کیا۔ اسمال شاپ کیپرز اسکیم کے تحت 644 ریٹرنز فائل ہوئے، جن سے 4 کروڑ 82 لاکھ روپے سے زائد ٹیکس کی آمدنی حاصل ہوئی۔
ایف بی آر کی وارننگ
ایف بی آر کے سرکاری ٹیکس شیڈول کے مطابق انفرادی افراد اور ایسوسی ایشن آف پرسنز کے لیے 30 ستمبر کی تاریخ واجب الادا قرار دی گئی ہے۔ بورڈ نے خبردار کیا ہے کہ مقررہ تاریخ پر ریٹرن فائل نہ کرنے والے ٹیکس دہندگان کو قانون کے تحت جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
