ریاض: سعودی عرب نے ان رپورٹس کو مسترد کر دیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کے درمیان ابوظہبی میں ہونے والی ملاقات میں کوئی سعودی نمائندہ شریک ہوا۔
سعودی موقف
ایک سعودی ذریعے نے واضح کیا کہ اس ملاقات میں سعودی عرب کی نمائندگی سے متعلق سوشل میڈیا پر پھیلنے والی خبروں میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ ذریعے کے مطابق ریاض کا اس ملاقات سے کوئی تعلق نہیں تھا اور نہ ہی کسی سعودی عہدیدار نے اس میں شرکت کی۔
اسرائیلی صحافی کا دعویٰ
اسرائیلی صحافی ڈرور بلازاڈا نے پیر کو سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا تھا کہ نیتن یاہو اور شیخ محمد کے درمیان ملاقات کے بعد ایک توسیعی اجلاس ہوا جس میں سعودی نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اس اجلاس میں سیکیورٹی تعاون، ایران، حوثیوں اور علاقائی دفاعی نظام پر بات چیت ہوئی۔
ابوظہبی ملاقات کی تفصیلات
اماراتی خبر رساں ایجنسی کے مطابق نیتن یاہو نے اتوار کو ابوظہبی کا دورہ کیا اور شیخ محمد بن زاید سے ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے اور فروغ دینے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔
تین سینئر اسرائیلی حکام نے بتایا کہ یہ ملاقات چھ گھنٹے تک جاری رہی اور اس کا مرکزی موضوع ایران تھا۔ تاہم سعودی عرب نے اس ملاقات میں اپنی کسی بھی قسم کی شرکت کی تردید کی ہے۔
علاقائی پس منظر
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب مشرق وسطیٰ میں علاقائی سلامتی اور سفارتی تعلقات میں تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات ابراہیم معاہدوں کے بعد معمول پر آئے تھے، جبکہ سعودی عرب نے ابھی تک اسرائیل کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات قائم نہیں کیے ہیں۔
سعودی عرب کی جانب سے اس تردید کے بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ ریاض اس ملاقات میں کسی بھی طرح کی نمائندگی کو مسترد کرتا ہے اور اس حوالے سے پھیلائی جانے والی خبروں کو قابل اعتماد نہیں سمجھا جا سکتا۔
