غزہ میں جنگی جرائم کا الزام
قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو جنگی مجرم قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوحہ بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے باوجود اپنی ثالثی کی کوششیں جاری رکھے گا۔
برطانوی صحافی پیئرز مورگن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جب شیخ محمد سے پوچھا گیا کہ کیا وہ نیتن یاہو کو جنگی مجرم سمجھتے ہیں تو انہوں نے کہا: ”بالکل۔ غزہ میں جو کچھ کیا گیا وہ جنگی جرائم ہیں، اور اس کا ذمہ دار جو بھی ہے وہ جنگی مجرم ہے۔“
انہوں نے مزید کہا: ”ہسپتالوں کو نشانہ بنایا گیا، اسکولوں کو نشانہ بنایا گیا۔ جواز اور دلائل جو بھی ہوں، کوئی بھی چیز اس کا جواز پیش نہیں کرتی۔“
نیتن یاہو پر سیاسی حملے کا الزام
قطری وزیراعظم نے نیتن یاہو پر الزام عائد کیا کہ وہ اپنی اور اپنی حکومت کی کارکردگی سے توجہ ہٹانے کے لیے قطر پر سیاسی حملے کر رہے ہیں۔
شیخ محمد نے 9 ستمبر 2025 کو دوحہ پر اسرائیلی حملے کی مذمت کا اعادہ کیا۔ اس حملے میں حماس کے عہدیداروں کو نشانہ بنایا گیا تھا جبکہ قطر ثالثی کی کوششوں میں مصروف تھا۔ حملے میں حماس کے پانچ ارکان اور قطر کا ایک سیکیورٹی افسر ہلاک ہوگیا تھا۔
شیخ محمد نے کہا: ”ہم ثالثی کر رہے تھے کہ اسرائیل نے ہم پر حملہ کر دیا۔“ انہوں نے اس حملے کو ایک ثالث پر بے مثال حملہ قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا: ”نیتن یاہو نے وہ حد عبور کر لی ہے جو وہ اس سے پہلے بھی کئی بار عبور کر چکے ہیں۔“
ثالثی کی کوششیں جاری رکھنے کا عزم
کشیدگی کے باوجود شیخ محمد نے کہا کہ قطر سفارت کاری کو ترجیح دیتا رہے گا اور پردے کے پیچھے رابطے ہی پیش رفت کا سب سے مؤثر ذریعہ ہیں۔
انہوں نے بتایا: ”ہم امریکی حکومت کو حل تک پہنچنے کے بارے میں بہترین مشورہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں، اسی طرح ایرانیوں کو بھی۔“
علاقائی تنازع کے تین اہم نکات
وسیع تر علاقائی تنازع کے حوالے سے شیخ محمد نے کہا کہ جنگ کو ختم کرنے کے لیے تین امور حل کرنے ضروری ہیں:
ایران کا جوہری پروگرام اور پابندیاں
آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی آزادی
ایران اور خلیج تعاون کونسل کے ممالک پر مشتمل علاقائی سلامتی کے انتظامات
ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی علاقائی سلامتی کے فریم ورک کی بنیاد مکالمے، عدم مداخلت اور عدم جارحیت پر ہونی چاہیے، اس کے ساتھ ساتھ معاشی تعاون کو بھی بڑھانا ہوگا۔
امریکہ اور ایران کے درمیان پیغام رسانی
اسی روز قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا کہ دوحہ ثالثی کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اور امریکہ اور ایران کے درمیان پیغامات منتقل کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قطر مزید فوجی کشیدگی پر تشویش کا شکار ہے اور پرامن حل کی تلاش میں ہے۔
