اسلام آباد – وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان میں بیوروکریسی حکمران اشرافیہ کا واحد طبقہ ہے جو احتساب سے محفوظ رہا اور قانونی جانچ سے بالاتر رہا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری ایک بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کی حکمران اشرافیہ کے ہر طبقے نے کسی نہ کسی موقع پر اپنے اقدامات کی قیمت چکائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکمران اشرافیہ کے ارکان کو بدعنوانی اور بدانتظامی سمیت مختلف الزامات پر کارروائی کا سامنا کرنا پڑا، لیکن بیوروکریسی احتساب سے محفوظ رہی اور اسے جوابدہ ٹھہرانا مشکل رہا۔
بیوروکریسی کی حکمرانی کی تاریخی مثالیں
خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستانی شاید ہی کبھی یہ محسوس کرتے ہوں کہ بیوروکریٹس نے بھی ملک پر حکومت کی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ سابق گورنر جنرل غلام محمد ایک بیوروکریٹ تھے، جبکہ سابق وزیر اعظم محمد علی بھی بیوروکریٹ تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سابق صدور اسکندر مرزا اور غلام اسحاق خان بھی بیوروکریٹ تھے، اور یہ سب کچھ اس وقت ہوا جب بظاہر سیاسی قیادت برسراقتدار تھی۔
سیاستدانوں کی نااہلی نے بیوروکریسی کو جگہ دی
وزیر دفاع نے کہا کہ بیوروکریٹس کو جوابدہ نہیں ٹھہرایا گیا، اور سیاستدانوں کی نااہلی اور باہمی اختلافات نے بیوروکریسی کے لیے جگہ پیدا کی۔
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ اگر سیاستدان خود کو درست کر لیں تو بیوروکریسی کے اندر بھی اصلاحات اور احتساب خود بخود سامنے آئے گا۔
پاکستان میں احتساب کا بحران
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان میں احتساب کے اداروں کی کارکردگی اور ان کے دائرہ اختیار پر عوامی اور سیاسی سطح پر بحث جاری ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بیوروکریسی کو احتساب کے دائرے میں لانا ملکی ترقی اور گڈ گورننس کے لیے ناگزیر ہے۔
خواجہ آصف کے اس بیان نے پاکستان کے سیاسی اور انتظامی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں بیوروکریسی کے کردار اور اس کی جوابدہی کو لے کر پہلے ہی شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔

