تہران: ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک جنگ کا خواہاں نہیں لیکن کسی بھی جارحیت کے سامنے خاموش نہیں بیٹھے گا۔ یہ بیان امریکہ کی جانب سے آبنائے ہرمز میں واقع ایرانی جزیرے لارک پر حملے کے بعد سامنے آیا ہے۔
خبر رساں ادارے انادولو کے مطابق کرغزستان میں ایک بین الاقوامی سربراہی اجلاس کے لیے روانگی سے قبل ایرانی صدر نے کہا کہ اگر ایران پر دوبارہ حملہ ہوا تو وہ جارحیت کرنے والوں کو فیصلہ کن جواب دیں گے۔ فارس نیوز ایجنسی کے مطابق انہوں نے کہا کہ خطے میں عدم استحکام اور بدامنی کسی بھی ملک کے مفاد میں نہیں اور یہ سب کے لیے چیلنج بنے گی۔
چھٹے مہینے میں داخل جنگ اور آبنائے ہرمز کا بحران
امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملے شروع کیے تھے، جس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے “بڑی جنگی کارروائیوں” کا اعلان کیا تھا۔ ان حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہو گئے تھے اور مارچ میں ان کے بیٹے مجتبیٰ نے قیادت سنبھالی تھی۔
اپریل میں دو ہفتے کی جنگ بندی ہوئی اور پاکستان میں امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات بھی ہوئے۔ جون میں ایک ابتدائی معاہدہ طے پایا لیکن جولائی میں لڑائی دوبارہ شروع ہو گئی اور آبنائے ہرمز پر تنازع بدستور جاری رہا۔ اب یہ جنگ چھٹے مہینے میں داخل ہو چکی ہے اور آبنائے ہرمز اس بحران کا مرکز بنا ہوا ہے۔
لارک جزیرے پر امریکی حملہ اور ایران کا جوابی وار
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اتوار کو لارک جزیرے پر ایرانی پاسداران انقلاب کی فورسز پر حملے کو آبنائے ہرمز کے لیے “فوری خطرے” کے خلاف کارروائی قرار دیا۔ سینٹ کام نے کہا کہ امریکی فورسز نے پاسداران انقلاب کی ان فورسز کے خلاف محدود اور درست کارروائی کی جو آبنائے میں بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کر رہی تھیں۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے جواب میں اردن میں دو امریکی فضائی اڈوں پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کیے۔ تسنیم نیوز کے مطابق پاسداران انقلاب نے موفک سالٹی ایئر بیس اور کنگ حسین ایئر بیس کو نشانہ بنایا اور “بھاری نقصان” پہنچانے کا دعویٰ کیا۔
آبنائے ہرمز میں جہاز رانی شدید متاثر
ایرانی میڈیا کے مطابق آبنائے ہرمز میں ایک سپر ٹینکر بارودی سرنگوں سے ٹکرا گیا ہے۔ ایسے واقعات اور ایران کی جانب سے ڈرون حملوں کے خطرے نے آبنائے میں ٹریفک میں زبردست کمی کر دی ہے۔ جنگ سے پہلے دنیا کا 20 فیصد تیل اور قدرتی گیس اسی آبنائے سے گزرتا تھا۔
شپنگ ڈیٹا کے مطابق ہفتے کے آخر میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے نظر آنے والے کموڈٹی جہازوں کی تعداد کم ہو کر روزانہ پانچ رہ گئی ہے۔ کچھ جہازوں نے حملوں سے بچنے کے لیے اپنے خودکار شناختی نظام بند کر رکھے ہیں، اس لیے اصل تعداد اس سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔
تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور اقتصادی پابندیاں
لارک جزیرے پر امریکی حملے اور ایران کے جوابی اقدامات کے بعد پیر کو تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا۔ برینٹ کروڈ فیوچرز 2.51 ڈالر یعنی 2.85 فیصد بڑھ کر 90.61 ڈالر فی بیرل ہو گئے جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ 85.53 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہو رہا تھا۔
دریں اثنا امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسینٹ نے کہا ہے کہ ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کے لیے ہر ہفتے نئی ثانوی پابندیاں عائد کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی توجہ بینکوں پر ہوگی اور اگلا قدم کسی ادارے کو ڈالر پر مبنی مالیاتی نظام سے مکمل طور پر منقطع کرنا ہو سکتا ہے۔
خارگ جزیرے پر ٹرمپ کا متنازع دعویٰ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا کہ ایران کا توانائی مرکز خارگ جزیرہ “تباہ ہو رہا ہے”۔ تاہم ایرانی قومی تیل کمپنی کے سی ای او حامد بوورد نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ خارگ کے حالات پرسکون اور مناسب ہیں اور تیل کی کارروائیاں نہیں رکیں۔
نور نیوز کے مطابق بوورد نے کہا کہ ٹرمپ کے ٹویٹس مضحکہ خیز ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ خارگ جزیرے سے ایران کی 90 فیصد تیل کی برآمدات ہوتی ہیں اور ماضی میں امریکی اور اسرائیلی حملوں کے باوجود تیل کے کارکنوں نے کام ایک لمحے کے لیے بھی نہیں روکا۔
علاقائی ردعمل اور مستقبل کے خطرات
متحدہ عرب امارات کے صدارتی مشیر انور قرقاش نے کہا ہے کہ خلیجی عرب ریاستوں اور اردن کو نشانہ بنانے کی ایران کی پالیسی ناکام ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نہ جنگ نہ امن کی حالت پائیدار حل نہیں ہو سکتی اور حقیقت پسندانہ سیاسی حل کا آغاز کشیدگی میں کمی اور آبنائے ہرمز میں معمول کی جہاز رانی کی بحالی سے ہونا چاہیے۔
اسرائیلی وزیر توانائی ایلی کوہن نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایران اپنے جوہری یا بیلسٹک میزائل پروگرام دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کرے گا تو اسرائیل دوبارہ حملہ کرے گا، چاہے ایران واشنگٹن کے ساتھ کوئی معاہدہ ہی کیوں نہ کر لے۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ لارک جزیرے پر حملے کے معاشی اور فوجی دونوں محاذوں پر نتائج بھگتنا ہوں گے۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان حسین موہبی نے اس حملے کو ٹرمپ انتظامیہ کی “اسٹریٹجک اور مہلک غلطی” قرار دیا۔

