yes urdu logo
  • خبریں
    • اہم ترین
    • بین الاقوامی خبریں
    • شوبز
    • مقامی خبریں
    • کاروبار
    • کھیل
  • تارکین وطن
  • اردو ادب - شاعری
  • ویڈیوز - Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم
Dark Mode
Skip to content
yes urdu logo
  • خبریں
    اہم ترین
    • خانپور میں مبینہ پولیس مقابلہ، دوہرے قتل کا ملزم ہلاک، ساتھی فرارخانپور میں مبینہ پولیس مقابلہ، دوہرے قتل کا ملزم ہلاک، ساتھی فرار
    • فرانس میں 17 اکتوبر کے مظاہروں کے بعد عدالتوں میں تیزی، لیکن بیشتر سزائیں معطلفرانس میں 17 اکتوبر کے مظاہروں کے بعد عدالتوں میں تیزی، لیکن بیشتر سزائیں معطل
    بین الاقوامی خبریں
    • فرانس میں 17 اکتوبر کے مظاہروں کے بعد عدالتوں میں تیزی، لیکن بیشتر سزائیں معطلفرانس میں 17 اکتوبر کے مظاہروں کے بعد عدالتوں میں تیزی، لیکن بیشتر سزائیں معطل
    • بوبینی حراست گاہ میں نابالغوں کی حالت زار پر وکلاء کی سخت تنقید، پراسیکیوٹر نے تسلیم کی ناکامیبوبینی حراست گاہ میں نابالغوں کی حالت زار پر وکلاء کی سخت تنقید، پراسیکیوٹر نے تسلیم کی ناکامی
    شوبز
    • امرتسر کے گولڈن ٹیمپل میں سارہ علی خان کی زیارت کا جذباتی لمحہ وائرلامرتسر کے گولڈن ٹیمپل میں سارہ علی خان کی زیارت کا جذباتی لمحہ وائرل
    • ٹائیگر شروف پر حملے کی مبینہ سازش، رنبیر کپور کے گھر کی ریکی اور بشنوئی گینگ کا اسلحہ نیٹ ورکٹائیگر شروف پر حملے کی مبینہ سازش، رنبیر کپور کے گھر کی ریکی اور بشنوئی گینگ کا اسلحہ نیٹ ورک
    مقامی خبریں
    • خانپور میں مبینہ پولیس مقابلہ، دوہرے قتل کا ملزم ہلاک، ساتھی فرارخانپور میں مبینہ پولیس مقابلہ، دوہرے قتل کا ملزم ہلاک، ساتھی فرار
    • سعودی عرب جانے والے مسافروں کے لیے لازمی ویکسی نیشن کی مہلت میں ایک ماہ کی توسیعسعودی عرب جانے والے مسافروں کے لیے لازمی ویکسی نیشن کی مہلت میں ایک ماہ کی توسیع
    کاروبار
    • پنجاب کا سعودی عرب کو 1.8 ارب ڈالر سے زائد مالیت کی غذائی برآمدات کا ہدف مقررپنجاب کا سعودی عرب کو 1.8 ارب ڈالر سے زائد مالیت کی غذائی برآمدات کا ہدف مقرر
    • پاکستانی فری لانسرز کی تاریخی کامیابی: ستمبر میں 197 ملین ڈالر کی ریکارڈ زرمبادلہ کمائیپاکستانی فری لانسرز کی تاریخی کامیابی: ستمبر میں 197 ملین ڈالر کی ریکارڈ زرمبادلہ کمائی
    کھیل
    • عرفات منہاس نے ون ڈے میں نصف سنچری اور پانچ وکٹیں لے کر شاہد آفریدی اور عبدالرزاق کی فہرست میں جگہ بنا لیعرفات منہاس نے ون ڈے میں نصف سنچری اور پانچ وکٹیں لے کر شاہد آفریدی اور عبدالرزاق کی فہرست میں جگہ بنا لی
    • بیلی لاک نین ایک صدی بعد برطانیہ کے سب سے کم عمر چیمپئن جاکی قرار پائےبیلی لاک نین ایک صدی بعد برطانیہ کے سب سے کم عمر چیمپئن جاکی قرار پائے
  • تارکین وطن
  • اردو ادب - شاعری
  • ویڈیوز - Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم
اہم ترین

کربلا کے کردار: حُر بن یزید الریاحیؑ

Web Editor September 24, 2017September 24, 2017 1 min read
The role of Karbala: Hurr bin Yazeed ar Riyahi A.S
Share this:

کربلا کے ہر کردار میں یہ خصوصیت ہے کہ انسان جس بھی کردار کا احوال پڑھے یا مصائیب سُنے تو ایک لمحے کیلئے دل میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ شاید وہ سب سے زیادہ رقت اسی کردار کے ذکر پر محسوس کررہا ہے۔ مسلم بن عقیلؑ سے شروع کریں جو شہید تو ذی الحجہ میں ہوئے لیکن روزِ عاشور جب امام حسینؑ نے ایک ایک کر کے اپنے ساتھیوں کے نام لے کر پکارنا شروع کیا تو سب سے پہلا جملہ “این این یا مسلمؑ” کہہ کر یہ بتا دیا کہ کربلا کا پہلا شہید مسلم بن عقیلؑ ہے۔ پھر آپ حبیب ابنِ مظاہرؑ کا ذکر سنیں تو بچپن کے اس دوست کے مصائیب آپ کے دل کو چیر کر رکھ دینگے، پھر کبھی طفلانِ مسلمؑ کا ذکر ہوگا اور کبھی اپنی مسکراہٹ سے لشکرِ یزید کو رلا دینے والے حسینؑ کے ششماہے علی اصغرؑ کا، عون و محمدؑ اور قاسم ابن حسنؑ کے مصائیب سُن کر لوگ دھاڑیں مار مار کر روتے رہینگے یہاں تک کہ ذکر علی اکبرؑ تک پہنچے گے، اس جوان کے ذکر پر ہر برس ایک ہی جیسا منظر ہوتا ہے جسے الفاظ کی شکل دینا میرے بس میں نہیں اور پھر آٹھ محرم آجاتی ہے، وہ دن جب ہر برس ہر عزادار کی آس ٹوٹ جاتی ہے یعنی شہادتِ ابوالفضل العباسؑ، شبِ یکم محرم سے شروع ہونے والا ذکرِ کربلا کا یہ سلسلہ جاری رہتا ہے اور کربلا کا ہر کردار انسان کے دل میں موجود انسانی رشتوں سے متعلق جذبات کو پوری قوت سے اپیل کرتا جاتا ہے۔ اور پھر روز عاشور تذکرہ ہوتا ہے حسینؑ کا، سیدہؑ زینبؑ کا، سکینہؑ کا اور سید الساجدینؑ کا۔ اور ہاں اُس گھوڑے کا بھی جس پر سوال ہونے کیلئے حسینؑ کی مدد سیدہ زینبؑ نے کی تھی۔ واقعہ کربلا کے ہر کردار پر یہی سوچنے والا انسان کے شاید اس سے شیادہ دردناک مصائیب اور کس کے ہونگے، بلاخر اس نتیجے پر پہنچ جاتا ہے کہ یہ حسینؑ کی کربلا ہے، اس کا ہر کردار حسینؑ نے مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ تیار کیا ہے جو تاقیامت ہر دردِ دل رکھنے والے انسان کو ایسے ہی پوری قوت سے اپیل کرتا رہے گا۔
یہی کربلا کا وہ جذباتی پہلو ہے جس کا ذکر کل میں نے اپنی ایک تحریر میں کیا۔ خوش نصیب ہے وہ شخص جو بلاتفریق مذہب و مکتب، کربلا کے اس جذباتی پہلو سے وابستہ ہے اور بدقسمت ہے وہ شخص جس نے خود کو چند ظاہری پہلووں میں جکڑ کر خود پر دشمنان حسینؑ کے ہمدرد کی مہر لگوا لی۔
میں نے اوپر کربلا کے کچھ کرداروں کے نام لیے لیکن ایک نام نہیں لیا۔ یہ نام حر ابن یزید الریاحیؑ کا ہے۔ کربلا کا ہر کردار منفرد ہے، ہر کردار انسانی جذبات کو مختلف انداز سے اپیل کرتا ہے لیکن حُر بن ریاحی کا کردار شاید سب سے مختلف ہے۔ یہ کردار ہم جیسے اُن گناہگاروں کو اپیل کرتا ہے جن کی زندگیاں گناہوں اور خطاوں کے سائے میں گزرتی رہیں۔ حُرؑ دراصل حق کےمتلاشیوں، گناہگاروں اور خطاکروں کا ہیرو ہے۔ مثلا میں جب جب حرؑ کے بارے میں سوچتا ہوں تو بے اختیار قران کی وہ آیت ذہن میں آجاتی ہے جس میں اللہ نے بے انتہا شفقت، محبت اور کریمی کے ساتھ انسان کو بتلایا ہے کہ گناہ گار ہو؟ کوئی بات نہیں، میری رحمت سے مایوس مت ہو، میں تمہارے سب گناہ معاف کردوں گا۔ کربلا میں امام حسینؑ اور حُر کا تعلق یہ سمجھنے کیلئے کافی ہے کہ کربلا کوئی حادثہ نہیں تھا بلکہ نواسہ رسولؑ کے ذرئعے تکمیل تک پہنچی والی اُس ذبحِ عظیم کا میدان تھا جس کا ذکر قران میں کیا گیا۔ حُر اور امام حسینؑ کےمابین ہونے والے ہر مکالمے پر غور کرتے چلے جائیں، نتیجہ آپ کے سامنے خود واضح ہوجایگا کہ نہ یہ دو خاندانوں کی جنگ تھی، نہ یہ کوئی سیاسی مسئلہ تھا اور نہ ہی کوئی حادثہ۔ یہ صرف اور صرف امام حسینؑ اور اُن کے بہتر ساتھیوں کا بپا کیا ہوا وہ آفاقی انقلاب تھا، جس نے انسانی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ اسی لئے امام حسینؑ نے یہ فرمایا تھا کہ جیسے ساتھی مجھے ملے، ایسے کسی اور کو نہ ملے۔ حُر اور اس کا بیٹا بُکیر بھی انہی ساتھیوں میں سے ایک تھا۔
حُر بن ریاحیؑ کوئی عام شخص نہیں تھا۔ یہ کوفہ کے امراء میں سے ایک تھا اور ایک مانا ہوا جنگجو تھا۔ اس کا تعلق بنی ریاح قبیلے سے تھا اور یہ عمر ابنِ سعد کا بہترین دوست تھا۔ جبکہ اس کا بیٹا بکیرؑ عمر ابن سعد کے بیٹے کا بہترین دوست۔ حُر بن ریاحیؑ ابن زیاد ملعون کے اُن چار کمانڈر میں شامل تھا جنہیں کربلا میں اپنے دستوں کے ہمراہ بھیجا گیا تھا۔ ان میں عمر ابن سعد جو کہ صحابی رسول سعد بن ابی وقاص کا بیٹا تھا، شمر الجوشن جو صفین میں امام علیؑ کے لشکر میں شامل تھا، مہاجر اور حر ابن یزید الریاحیؑ۔ ابن زیاد نے عمر ابن سعد کو امام حسینؑ کے قتل کے عوض رے کی حکومت کی پیشکش کررکھی تھی، وہی رے کی حکومت جس کے بارے میں امام حسینؑ نے جنگ شروع ہونے سے قبل مذاکرات کے دوران عمر ابن سعد کو بتا دیا تھا کہ جس رے کی حکومت کیلئے تم یہ سب کر رہے ہو، وہ تمہیں کبھی نصیب نہ ہوگی اور ایسا ہی ہوا چونکہ عمر ابن سعد واقعہ کربلا کے بعد مختارِ ثقفیؒ کے ہاتھوں مارا گیا۔
اسی طرح ابنِ زیاد نے حر ابنِ ریاحیؑ کو خراسان کی حکومت کی پیشکش کررکھی تھی اور شرط یہ رکھی تھی کہ امام حسینؑ کا کوفہ آنے سے روکو اور یزید کی بیعت پر راضی کرو۔ غور کیجئے، یہ اُس حُر کا ذکر ہے جسے آج باطل سے حق کی طرف آنے کا استعارہ سمجھا جاتا ہے، جو آج گناہگاروں کے دلوں کی ڈھارس ہے اور جس کا ذکر آتے ہی دل اس کیلئے محبت سے بے اختیار بھر جاتا ہے۔
جنگ جمل میں امام علیؑ اور حضرت زبیر کے مابین ایک مکالمے کا تذکرہ ملتا ہے۔ حضرت زبیر جنگ جمل میں امام علیؑ کے مخالف لشکر میں تھے۔ یہ وہی حضرت زبیر تھے جو امام علیؑ کے بچپن کے ساتھی اور پھوپھی زاد بھائی تھے۔ یہ وہی زبیر تھے جو وصالِ پیغمر کے بعد امام علیؑ کے سے سے مضبوط حمایتی تھے اور اُن کے گھر میں موجود تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جنگ جمل میں جب یہ امام علیؑ کے مقابل آئے تو امامؑ نے بہتے ہوئے آنسووں کے ساتھ اُنہیں مخاطب کرکے کہا کہ زبیر تم تو میرے بچپن کے ساتھی ہو، میرے بھائی ہو، کیا تم بھی مجھ سے جنگ کرو گے؟ کچھ مختصر مکالمہ ہوا تھا اور پھر حضرت زبیر واپس کوفہ چلے گئے۔ حُر بن ریاحیؑ اور زبیر میں یہی فرق تھا کہ حُر اُس فیصلہ کُن موڑ پر باطل سے حق کی طرف آگیا اور زبیر نے بس میدان سے چلے جانے کو ترجیح دی اور بعض ورایات کے مطابق واپسی کے راستے میں قتل کردئے گئے۔ تاریخ میں یہ دونوں کردار اپنے اپنے اندر ایک پیغام لئے ہوئے ہیں، اگر کوئی سمجھنا چاہے۔ میرا مقصد کسی اختلافی معاملے کا ذکر کرنا نہیں بلکہ ان دونوں واقعات میں مماثلت کی طرف توجہ دلوانا تھا۔
حُر بن ریاحیؑ سےمتعلق تفصیل ہم بچپن سے مجالس میں سنتے آئے ہیں۔ جن میں حیرت انگیز پہلو یہ ہے کہ چاہے وہ حُر کے لشکر حسینؑ میں شامل ہونے سے پہلے کا واقعہ ہو اور یا بعد کا، ان سب میں ایک پہلو واضح نظر آئے گا اور وہ یہ کہ جیسے امام حسینؑ حُر بن ریاحیؑ کے دل کا مکمل حال بھی معلوم ہو اور آنے والے وقتوں میں کربلا کے واقعے میں اُس کا کردار بھی۔ لہذا ہم سنتے ہیں کہ جب لشکرِ حُرؑ کو پیاس کی شدت نے آلیا تو امام حسینؑ نے حکم دیا کہ حُرؑ کو لشکر کو بھی پانی پلایا جائے اور اُس کے گھوڑوں کو بھی۔ یہ اضافی تاکید بھی کی کہ جانور جب تک خود منہ نہ موڑ لے، اُسے پانی پینے دیا جاتا رہے۔ یہ کیا تھا؟ یہ آنے والے وقت کیلئے امام حسینؑ حُرؑ کے دل کو اپیل کرنے کا بندوبست کررہے تھے۔ وہ واقعہ بھی کسے معلوم نہ ہوگا جب حُرؑ نے امامؑ کا راستہ روک کر اُنہیں کوفہ نہ جانے دینے کا پیغام پہنچایا تھا اور جواب میں امامؑ نے حُر سے کہا تھا کہ “حُر، تیری ماں تیرے ماتم میں بیٹھے”۔ حُرؑ کا جواب وہی تھا جس نے آگے چل کر جہنم سے جنت کی طرف اُس کے سفر کو ممکن بنایا۔ حُر نے امام حسینؑ کو جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ کاش میں آپ کی والدہؑ کے بارے میں کچھ کہہ سکتا۔ یعنی حُر واقف تھا کہ حسینؑ کوئی اور نہیں بلکہ سیدہ النساء العالمینؑ کے فرزند ہیں۔ یہی حُرؑ تھا جسے نمازِ ظہر کے وقت امام حسینؑ نے نماز کی امامت کرنے کو کہا اور اِس نے بے اختیار جواب دیا کہ فرزندِ زہراؑ، آپ امامت کروائیے اور پھر امام حسینؑ کی امامت بھی نماز پڑھی۔ یاد رہے کہ حرُ ابھی تک لشکرِ یزید میں ہی تھا لیکن وہ حسینؑ ہی کیا جو قلوب کے حال سے واقف نہ ہو، بار بار حُرؑ کے دل میں حریت کی لو جلاتے رہے۔ اور جب یہ شمع جلی تو اکیلے حُر کے دل میں نہیں، بلکہ اُس بیٹے بُکیرؑ سمیت اُس کے لشکر مین موجود ۲۸ سپاہیوں کو بھی کربلائی بنا گئی۔ بقول جناب حسین اکبر:
” اک حرؑ ہے جس کے واسطے دنیا میں پہلی بار
دس روز مستقل درِ توبہ کھلا رہا ”
پھر وہ موقع آن پہنچا جب حُرؑ کی زبان سے نکلا ایک تاریخی جملہ آنے والے زمانوں کے ہر ہر حریت پسند کے دل کی آواز بن گیا۔ حُرؑ نے تمام رات جگ کر گزاری تھی، خیامِ حسینیؑ سے بچوں کے رونے کی آوازیں اُسے بے چین کررہی تھیں۔ اُس کے بیٹے کی کیفیت بھی کچھ مختلف نہ تھی۔ یہاں تک کہ صبح ہوگئی اور
حُر بن ریاحی نے عمر بن سعد کو رعونت و تکبر کے ساتھ اپنے سپاہیوں کو یہ حکم دیتے سنا کہ میرے گھوڑوں کے سموں پر پانی ڈالو، گرمی کی شدت سے کہیں یہ جل نہ جائیں۔ قافلہِ حسینیؑ پر پانی بند کیا جاچکا تھا۔ بس یہ وہ مقام تھا جب حُر نے اپنے بیٹے کی طرف دیکھا، جیسے باطل سے حق کی طرف سفر کا فیصلہ کرچکا ہو۔ قریب ہی کھڑے ابن زیاد کے کمانڈر مہاجر نے حُرؑ کی کیفیت دیکھ کر اُسے مخاطب کیا کہ یہاں موجود تمام کمانڈروں میں سب سے جری کمانڈر حُر بن ریاحیؑ، تمہاری اس کیفیت کا کیا سبب ہے۔ حُر بن ریاحیؑ نے یہاں وہ تاریخی جملہ کہا کہ مہاجر خاموش رہو، ” میں جہنم سے جنت کی طرف سفر کا فیصلہ کرچکا ہوں۔ ”
میری دادی مرحومہ ہندوستان کا ایک قدیم اُردو نوحہ بہت شوق سے پڑھتی اور فرمائش کر کے سنا کرتی تھیں۔ مجھے یہ بھی یاد ہے کہ یہ نوحہ سنتے ہوئے وہ جھوم اُٹھتی تھیں، جیسے چشمِ تصور میں حُرؑ کو جہنم سے جنت کی طرف جاتے دیکھ رہی ہوں۔ مجھے پورا نوحہ تو یاد نہیں لیکن شاید پہلے دو مصرعے کچھ یوں تھے:
“حُرؑ کہتا ہوا اُٹھا کس شوق میں بستر سے
آوازِ اذاں آئی جب، شبیرؑ کے لشکر سے”
حُر اپنے بیٹے کے ہمراہ گھوڑے پو سوار ہوکر خیامِ حسینیؑ کی جانب بڑھا تو امام حسینؑ اُس کا استقبال کرنے یوں باہر آئے جیسے وہ جانتے ہوں کہ حُرؑ وہاں پہنچ چکا جہاں وہ اُسے دیکھنا چاہتے تھے۔ مجالس میں سنتے آئے ہیں کہ حُرؑ جھکی ہوئی گردن اور آنسووں سے تر چہرے کے ساتھ ابا عبداللہؑ کے سامنے پیش ہوا اور فقط اتنا کہا کہ :
“مجھے معاف کردیجئے ابا عبداللہؑ۔ میں نہیں جانتا تھا کہ یہ لوگ آپ کو قتل کرنے پر آمادہ ہیں۔ میں یہی سمجھتا رہا کہ مجھے آپ کو بیعت پر راضی کرنے کیلئے بھیجا گیا ہے”
امام حسینؑ نے مسکراتے ہوئے حُر کو معاف کردیا اور اس کے بعد کے مصائیب سے آپ واقف ہیں۔ میں بس اتنا یاد دلانا چاہوں گا کہ وہ حُر بن ریاحیؑ جس کے دل میں یہ ندامت شاید ہمیشہ رہ جاتی کہ کربلا میں اگر خانوادہ رسالتؑ شہید ہوگا تو اس کی وجہ وہ ہوگا، اُس حُرؑ کے زخمی ہوکر گھوڑے سے گرنے پر اُس نے اپنا سر امام حسینؑ کے زانو پر پایا۔ امام حسینؑ اُس کے دل کی کیفیت جانتے تھے اس لئے پورا انتظام کیا کہ حُرؑ دنیا سے اس شان سے رخصت ہو جو ایک “حُر” کے شایانِ شان ہے۔ پس، امام حسینؑ نے سب سے پہلے تو حُرؑ سے مخاطب ہوکر کہا کہ اے حُرؑ، تم اس دنیا میں بھی حُرؑ تھے اور اُس دنیا میں بھی حُر رہوگے، بالکل اُسی طرح جیسے تمہاری ماں نے تمہارا نام حُرؑ رکھا۔ اس کے بعد اپنی ماں سیدہ فاطمہؑ کا رومال حُرؑ کی پیشانی پر باندھ کر ہمیشہ کیلئے حُرؑ کو کی حریتؑ پر حسینی مہر لگا دی۔ حُر بن ریاحیؑ کو اسی رومالِ زہراؑ کے ساتھ دفنایا گیا۔
لوگ بتاتے ہیں کہ کسی حاکم کو یقین نہ تھا کہ حُر بن ریاحیؑ بدل گیا تھا اور اس کی دلیل وہ یہ کہہ کر دیا کرتا تھا کہ اگر ایسا تھا تو حُرؑ کا مزار کربلا سے اتنے فاصلے پر کیوں تعمیر ہوا، دیگر شہدائے کربلاؑ کے ساتھ یا قریب کیوں نہیں۔ تاریخی طور پر تو یہ بات واضح ہے کہ دس محرم کے بعد حُرؑ کے قبیلے والے تدفین کیلئے اُس کے جسم کو اپنے علاقے میں لے گئے تھے اور وہیں اُس کی تدفین ہوئی لیکن اس حاکم کو اس بات کا یقین نہ تھا کہ حُرؑ واقعی بدل گیا تھا۔ لہذا اُس نے حُرؑ کی قبر کشائی کا فیصلہ کیا اور قبر کا کچھ حصہ کھولے جانے پر بس اتنا منظر ہی دیکھ پایا کہ حُرؑ کی پیشانی سے اب تک تازہ خون بہہ رہا تھا، وہی پیشانی جس پر رومالِ زہراؑ بندھا ہوا تھا۔
مجھے زندگی میں ایک بار حُر بن ریاحیؑ کے روضے پر حاضر ہونے کا شرف ملا ہے۔ یہ کربلا سے واقعی کافی فاصلے پر بنایا گیا ہے۔ ظاہری وجہ تو یہی ہےکہ اُس کے قبیلے والے اُس کی تدفین کیلئے اُسے اپنے علاقے میں لے آئے تھے لیکن دل کہتا ہے کہ اس میں بھی شاید کوی حکمت ہے۔ شاید کربلا سے حُرؑ بن ریاحی کے روضے کا فاصلہ دیکھ کر ہر زائر کے ذہن میں بار بار حُرؑ بن ریاحی کا وہ سفر آتا رہے، جو اُس نے باطل سے حق کی طرف کیا۔
تحریر یقینا بہت زیادہ طویل ہوچکی، شاید اس کی وجہ حُر بن ریاحیؑ سے وہ تعلق ہے جس کا ذکر میں نے تحریر کے آغاز میں کیا۔ حُرؑ کی ایک خاصیت اور بھی ہے۔ اُردو زبان میں کربلا کے ہر شہید کا ذکر لفظ “آپ” کے ذرئعے کیا جاتا ہے لیکن حُر بن ریاحیؑ کا کردار وہ واحد کردار ہے جس کیلئے “تم” کا لفظ تواتر سےاستعمال ہوتا ہے۔ مثلا “حرؑ سوچتا رہا، حُر اُٹھا، حُر ابا عبداللہ ؑ کے سامنے حاضر ہوا، حرؑ گھوڑے سے گرا، حُرؑ زاروقطار روتا رہا اور حُرؑ شہید ہوگیا ” ۔ میرا خیال ہے اس کا پسِ منطر حُر بن ریاحیؑ کے ساتھ وہ خصوصی تعلق ہے جس کی وجہ سے اُس کا ذکر کرنے والا ہر شخص خود کو حُر بن ریاحیؑ کو بہت عزیز اور قریبی دوست تصور کرتا ہے۔ ایسا دوست جو مایوس دلوں کو اُمید بخشتا ہے، جو گناہگاروں کو یاد دلاتا ہے کہ امام حسینؑ کا در کس قدر کریم ہے۔
جو دوست احباب عراق میں موجود ہیں اور حُر بن یزید الریاحیؑ کے روضے پر حاضری دینگے، وہ حُرؑ کو دل میں یاد کرتے ہوئے یہ بھی عرض کردیں کہ اگرچہ پیشانی پر رومالِ زہراؑ کے بندھے ہونے کے بعد کسی اور چیز کی حاجت تو نہیں لیکن پھر بھی دنیا بھر کے کروڑوں عزادار، ہر برس محرم میں حُر بن ریاحیؑ کو روتے ہوئے یاد کرکے بس یہی بتلانا چاہتے ہیں کہ تمہارے دل کا ملال دور کرنے کیلئے ابا عبداللہ ؑ نے ان کروڑوں عزاداروں کے قلوب میں تمہارے لئے بہت خاص محبت بھی ڈال دی ہے۔
اسلام علیک یا حُر بن یزید الریاحیؑ

Share this:

Web Editor

19,171 Articles
View All Posts
Imam Hussain A.S Wisdom
Previous Post معرفت امام حسین علیہ السلام
Next Post بلوچستان بہتر سکیورٹی صورت حال اور سی پیک منصوبے کی وجہ سے ترقی کی راہ پر گامزن ہے
Governor of Balochistan Muhammad Khan Achakzai

Related Posts

امرتسر کے گولڈن ٹیمپل میں سارہ علی خان کی زیارت کا جذباتی لمحہ وائرل

امرتسر کے گولڈن ٹیمپل میں سارہ علی خان کی زیارت کا جذباتی لمحہ وائرل

October 22, 2026
ٹائیگر شروف پر حملے کی مبینہ سازش، رنبیر کپور کے گھر کی ریکی اور بشنوئی گینگ کا اسلحہ نیٹ ورک

ٹائیگر شروف پر حملے کی مبینہ سازش، رنبیر کپور کے گھر کی ریکی اور بشنوئی گینگ کا اسلحہ نیٹ ورک

October 22, 2026
پنجاب کا سعودی عرب کو 1.8 ارب ڈالر سے زائد مالیت کی غذائی برآمدات کا ہدف مقرر

پنجاب کا سعودی عرب کو 1.8 ارب ڈالر سے زائد مالیت کی غذائی برآمدات کا ہدف مقرر

October 22, 2026
خانپور میں مبینہ پولیس مقابلہ، دوہرے قتل کا ملزم ہلاک، ساتھی فرار

خانپور میں مبینہ پولیس مقابلہ، دوہرے قتل کا ملزم ہلاک، ساتھی فرار

October 22, 2026




© 2026 Yes Urdu. All rights reserved.
  • خبریں
  • تارکین وطن
  • اردو ادب – شاعری
  • ویڈیوز – Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.