اسلام آباد میں سعودی عرب کے سفیر ڈاکٹر راجح البقمي سے ملاقات کے دوران وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا کہ صوبہ سعودی عرب کو 1.8 ارب ڈالر سے زائد مالیت کی خوراک برآمد کرنے کا ہدف رکھتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس مقصد کے لیے چاول، پھل، سبزیاں اور دیگر زرعی مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ کیا جائے گا۔
دوطرفہ تعلقات پر ملاقات کا محور
وزیراعلیٰ کے دفتر کے مطابق ملاقات کا مرکز دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینا اور دونوں برادر ممالک کے درمیان تعاون کو آگے بڑھانا تھا۔ مریم نواز شریف نے اس موقع پر سعودی عرب کو پاکستان میں ترسیلات زر کا سب سے بڑا ذریعہ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب سے سالانہ تقریباً 9.8 ارب ڈالر کی ترسیلات وصول ہوتی ہیں۔ وزیراعلیٰ نے پاکستان کو معاشی اور مالی معاونت فراہم کرنے پر سعودی قیادت کا شکریہ بھی ادا کیا۔
حلال مصنوعات کی قابل اعتماد سپلائی
مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب سعودی عرب کے لیے حلال تصدیق شدہ خوراک کی قابل اعتماد سپلائی فراہم کرنے والا علاقہ بن سکتا ہے۔ ملاقات میں پنجاب کے وسائل اور صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے لائیو اسٹاک، گائے کے گوشت، پولٹری، پھلوں اور سبزیوں کی برآمدات بڑھانے پر گفتگو کی گئی۔
اقتصادی تعاون کا فریم ورک
گزشتہ برس اکتوبر میں وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ ریاض کے دوران سعودی عرب اور پاکستان نے تجارت اور سرمایہ کاری کے تعلقات مضبوط بنانے کے لیے اقتصادی تعاون کا فریم ورک شروع کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ سن 2024 میں دونوں ممالک نے متعدد شعبوں میں 2.8 ارب ڈالر مالیت کے 34 مفاہمت ناموں پر دستخط کیے۔
حوثی حملوں کی مذمت
ملاقات کے دوران وزیراعلیٰ پنجاب نے سعودی عرب پر حوثی حملوں کی شدید مذمت کی اور ان حملوں میں انسانی جانوں کے نقصان پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور پنجاب کے عوام سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور مشترکہ معاشی طاقت یقیناً مشترکہ سلامتی کی ضمانت ہے۔
