پیرس: فرانس میں 17 اکتوبر کو مہنگائی کے خلاف لاکھوں افراد کے احتجاج کے بعد سیاسی اور میڈیا مباحثوں پر تشدد، توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کی تصاویر نے غلبہ حاصل کر لیا، جس نے خاندانوں کے اندر بھی کشیدگی پیدا کر دی ہے۔
ہف پوسٹ سے بات کرنے والے تین افراد نے بتایا کہ مظاہروں کے بعد ان کے خاندانوں میں ایسے مباحثے چھڑ گئے جن میں زیادہ تر توجہ تشدد پر مرکوز رہی، نہ کہ مظاہرین کے اصل مطالبات پر۔
دادا جان کا پیغام اور “تعلیمی” گفتگو
پیرس کی رہائشی لورا نے بتایا کہ اتوار کی صبح انہیں اپنے دادا جان کا پیغام ملا جس میں “ان تمام شرپسندوں” کا ذکر تھا۔ لورا، جو خود جمعے کو مظاہرے میں شریک ہوئی تھیں، نے ہفتہ وار فون کال کے دوران اپنے دادا دادی کو صورتحال سمجھانے کا موقع غنیمت جانا۔
انہوں نے کہا: “وہ ٹی وی کی خبریں دیکھ کر معلومات حاصل کرتے ہیں اور صرف شرپسندوں کو یاد رکھتے ہیں، مطالبات کو نہیں۔ میرے دادا جان نے فسادات کا لفظ استعمال کیا تو میں نے انہیں درست کیا کہ یہ ایک پرامن مظاہرہ تھا۔”
لورا نے بتایا کہ انہوں نے اپنے دادا دادی کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ “یہ صرف ایک فیصد حقیقت ہے، جلوس پرامن تھا” اور یہ بھی بتایا کہ لوگ کیوں مظاہرے کر رہے ہیں۔
سسرالی خاندان کی گھبراہٹ
تیس سالہ تھیبو نے بتایا کہ وہ اپنی ساتھی کے ساتھ مارسیے میں ہفتے کا دن گزار رہے تھے جہاں ماحول پرسکون تھا اور لوگ بینرز لے کر مظاہروں میں جا رہے تھے۔ لیکن اسی شام ان کی ساتھی کے والدین نے گھبراہٹ میں پیغامات بھیجے۔
تھیبو نے کہا: “انہوں نے فوری طور پر ہماری خیریت دریافت کی اور کہا کہ وہ ‘بہت پریشان’ ہیں۔ ہم نے جواب نہیں دیا تو اگلے دن سوالیہ نشانات سے بھرے پیغامات آئے۔”
انہوں نے بتایا کہ ان کے سسرالی والدین سوشل میڈیا پر انتہائی دائیں بازو کے اکاؤنٹس سے متاثر ہیں، اس لیے انہوں نے انہیں یقین دلانے کی کوشش کی کہ “جو کچھ انہوں نے دیکھا وہ مارسیے کی پوری صورتحال نہیں تھی اور پورا شہر افراتفری کا شکار نہیں ہوا۔”
“صرف مادی نقصان پر توجہ دینے کا جال”
تینتیس سالہ انتونن نے بتایا کہ ہفتے کے دن ہی ان کے شوہر کی والدہ نے فون پر “ہر جگہ شرپسندوں” کا ذکر شروع کر دیا جس پر وہ چڑ گئے۔ بات چیت خاندانی واٹس ایپ گروپ میں جاری رہی۔
انتونن نے کہا: “انہوں نے ٹوٹی ہوئی دکانوں کی کھڑکیوں کا ذکر کیا اور میری سالی نے کہا کہ یہ بہت خوفناک ہے۔ میں نے جواب دیا کہ جو چیز مجھے خوفناک لگتی ہے وہ وہ نوجوان ہیں جو اپنے ہاتھ اور دانت کھو رہے ہیں، وہ ریٹائرڈ خواتین جن پر آنسو گیس کا اسپرے کیا جا رہا ہے۔ صرف مادی نقصان پر توجہ دینے کے جال میں نہیں پڑنا چاہیے۔”
اس کے بعد ان کی سسرالی خاندان سے بحث ہو گئی جس میں ان پر الزام لگایا گیا کہ وہ “نفرت پھیلا رہے ہیں۔”
2027 کے انتخابات کی جھلک
لورا نے کہا کہ ان کے دادا دادی سے تعلقات بہت اچھے ہیں لیکن یہ پہلا موقع ہے جب انہوں نے صبر کھو دیا کیونکہ “آخر میں آپ ایک دیوار کے سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں۔”
انہوں نے کہا: “میں اپنی دادی کی عدم دلچسپی سے ناراض تھی جو کہتی ہیں کہ ‘ہم تھوڑی دیر ٹی وی دیکھتے ہیں پھر بند کر دیتے ہیں، یہ بہت مشکل ہے’ حالانکہ ان کے پاس وقت اور صلاحیت موجود ہے کہ وہ مزید تحقیق کر سکیں۔ 2027 کے انتخابات قریب آ رہے ہیں اور یہ ضرور بہت سے ایسے لوگوں کی نمائندگی کرتا ہے جو معلومات کی انتہائی مسخ شدہ شکل کے ساتھ ووٹ ڈالنے جائیں گے۔”
انتونن نے کہا کہ اب وہ ایسی سیاسی گفتگو سے مزید نہیں بچیں گے۔ “اب تک میں کچھ حد تک گریز کرتا تھا، دو چار معلومات شیئر کرتا تھا لیکن اصرار نہیں کرتا تھا۔ لیکن انتخابات قریب آ رہے ہیں اور میرے خیال میں اس پر بات کرنا ضروری ہے، بلکہ ناگزیر ہے۔ چاہے اس کا مطلب ان لوگوں سے تعلقات خراب کرنا ہو جنہیں ہم پسند کرتے ہیں۔ یہ بہت بڑی پریشانی کا باعث ہے لیکن میرے پاس کوئی چارہ نہیں، میں خاموش نہیں رہ سکتا۔”
انہوں نے مزید کہا: “یہ تو صرف شروعات ہے۔”
