پیرس: فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے ہفتے کے روز ملک بھر میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں اور لوٹ مار کے واقعات کے بعد قوم سے خطاب کرتے ہوئے تشدد کی شدید مذمت کی اور ذمہ داروں کے خلاف احتساب کا مطالبہ کیا۔
میکرون کا مؤقف
صدر میکرون نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہفتہ 17 اکتوبر کو انتہائی بائیں بازو کے گروہوں سے تعلق رکھنے والے باغیوں نے، جن میں بہت سے مجرم بھی شامل تھے، شہروں میں بے قابو تشدد کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان مناظر کو دیکھ کر ہر فرانسیسی شہری کے ذہن میں سوال اٹھا کہ فرانسیسی شہری فرانس کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہیں۔
صدر نے کہا کہ آج شام ہم سب غصہ اور شرم محسوس کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ لاکھوں پرامن مظاہرین کے جائز مطالبات کو ان لوگوں سے خلط ملط نہیں کیا جانا چاہیے جنہوں نے تباہی، توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کی۔ میکرون نے متاثرہ تاجروں اور کاریگروں کو اپنی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔
حکومت کو ہدایات
میکرون نے وزیر داخلہ لارنٹ نونیز سمیت حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ہفتے کے واقعات سے انٹیلی جنس اور پیشگی اقدامات کے حوالے سے سبق حاصل کریں۔ صدر نے مکمل شفافیت فراہم کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ واضح جوابات کے منتظر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پریفیکٹ میئرز کے ساتھ مل کر شہروں، سرکاری عمارتوں اور کاروباری اداروں کے تحفظ کے لیے فیصلے کریں گے۔ صدر نے عدالتی کارروائی کو مثالی بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جنہوں نے تباہی کی انہیں قیمت چکانا ہوگی اور جنہوں نے لوٹ مار کی انہیں واپس کرنا ہوگی۔
تشدد کے اعداد و شمار
وزارت داخلہ کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، ہفتے کے مظاہروں کے دوران تشدد کے نتیجے میں 2,397 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ 997 پولیس اہلکار اور جینڈرم زخمی ہوئے، جن میں سے 7 کی حالت تشویشناک ہے۔
سیاسی ردعمل
ریپبلکن کے صدارتی امیدوار برونو ریٹائیو نے صدر سے فوری طور پر ہنگامی حالت نافذ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب جین-لک میلینشون نے صدر پر زور دیا کہ وہ صورتحال کو بگڑنے نہ دیں اور مظاہرین کے مطالبات کا جواب دیں۔
بین الاقوامی میڈیا نے فرانس میں تشدد کے بعد انتشار کے الفاظ استعمال کرتے ہوئے صورتحال کو سنگین قرار دیا ہے۔
