انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے مالی میں جاری تنازعے پر ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے، جس میں ملکی فوج، اس کے روسی پیراملٹری اتحادیوں اور مسلح باغی گروہوں کو جنگی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ تنظیم کے مطابق فوج اور اس کے اتحادیوں نے شہریوں کو ہلاک اور زخمی کیا، جبکہ باغی گروہوں نے بھی بین الاقوامی انسانی قانون کی پامالی کی۔
شہریوں پر حملوں کی تفصیلات
ہیومن رائٹس واچ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ مالی کی فوج اور اس کے روسی اتحادیوں نے ملک کے وسطی اور شمالی علاقوں میں کارروائیوں اور حراست کے دوران درجنوں شہریوں کو ہلاک اور زخمی کیا۔ تنظیم نے دو ڈرون حملوں کی دستاویز بندی کی ہے، جنہیں اس نے بظاہر اندھا دھند قرار دیا۔
29 جولائی کو شمالی علاقے کیدال کے گاؤں تلہندک میں کیے گئے حملے میں ایک صحت مرکز جزوی طور پر تباہ ہو گیا۔ 19 اگست کو وسطی علاقے بندیارا کے قصبے ٹمبونکورے کے ایک بازار پر حملے میں چھ شہری ہلاک اور کم از کم بیس زخمی ہوئے۔
دیگر واقعات
12 جولائی کو وسطی علاقے سیگو میں ایک فوجی آپریشن کے دوران مالی فوجیوں نے پانچ لڑکیوں کو گولی مار کر ہلاک کیا۔ 27 اور 28 جولائی کو وسطی علاقے موپٹی میں فوج کے اتحادی ڈوزو ملیشیا کے ارکان نے تین شہریوں کو ہلاک کیا۔
باغی گروہوں پر الزامات
رپورٹ میں اسلامی اور تواریگ علیحدگی پسند جنگجوؤں پر بھی جنگی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق ان گروہوں نے مالی کے قیدی فوجیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور انہیں پھانسی دے دی، جو بین الاقوامی انسانی قانون کی واضح خلاف ورزی ہے۔
بین الاقوامی تشویش
یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مالی میں انسانی حقوق کی صورتحال پر بین الاقوامی سطح پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ تنظیم کی اس دستاویزی رپورٹ نے ملکی فوجی حکومت اور اس کے روسی اتحادیوں کے شہریوں کے تحفظ کے حوالے سے سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ باغی گروہوں سے بھی جنگی قوانین کے احترام کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
