پی ٹی اے نے وائرل سائبر سیکیورٹی نوٹیفکیشن کو مسترد کر دیا
اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے سائبر سیکیورٹی نوٹیفکیشن کو جعلی اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے عوام سے غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کی اپیل کی ہے۔
پی ٹی اے نے واضح کیا ہے کہ اس نے کوئی ایسا سائبر سیکیورٹی الرٹ جاری نہیں کیا، اور وائرل ہونے والے نوٹیفکیشن میں موجود دعووں کو مسترد کر دیا ہے۔ جعلی نوٹیفکیشن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ کسی مخصوص لینڈ لائن نمبر سے کال موصول ہونے پر صارف کے موبائل فون کا ڈیٹا اور اکاؤنٹس ہیک ہو سکتے ہیں۔
جعلی نوٹیفکیشن میں کیا دعویٰ کیا گیا تھا؟
مزید برآں، اس میں الزام لگایا گیا تھا کہ ہیکرز کال کے دوران صرف پانچ سے سات سیکنڈز میں کسی شخص کا ڈیٹا چوری کر سکتے ہیں۔ پی ٹی اے نے اس دعوے کو بھی بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کا کوئی حقیقی خطرہ سامنے نہیں آیا۔
عوام کے لیے پی ٹی اے کی ہدایات
ٹیلی کام ریگولیٹر نے نوٹیفکیشن کو مسترد کرتے ہوئے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والے غیر مصدقہ انتباہات پر اعتماد نہ کریں۔
پی ٹی اے نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ جعلی یا غیر تصدیق شدہ معلومات کو آگے شیئر کرنے سے گریز کریں، کیونکہ اس سے عوام میں غیر ضروری الجھن اور تشویش پیدا ہو سکتی ہے۔
مستند معلومات کا حصول کیسے یقینی بنایا جائے؟
مستند سائبر سیکیورٹی الرٹس اور دیگر معلومات کے لیے اتھارٹی نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ پی ٹی اے کے سرکاری مواصلاتی چینلز اور تصدیق شدہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر انحصار کریں۔ کسی بھی وائرل پیغام کو آگے بھیجنے سے پہلے اس کی تصدیق ضرور کریں تاکہ غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
