بیجنگ/پیرس: چین نے جمعرات کو فرانس کو دو ٹوک انداز میں خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے منگل سے نافذ ہونے والی الٹرا فاسٹ فیشن مصنوعات پر اضافی مالی جرمانوں کی پابندی فوری طور پر ختم نہیں کی تو چین جوابی اقدامات کرے گا۔ یہ پابندی خاص طور پر چین میں قائم آن لائن فیشن کمپنی شین جیسی کمپنیوں کو نشانہ بناتی ہے، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان تجارتی کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔
چین کی وزارت تجارت کی ترجمان ہوانگ لنگ نے ایک باقاعدہ پریس بریفنگ کے دوران واضح کیا کہ اگر فرانس اپنی موجودہ پالیسی پر قائم رہتا ہے تو چین چینی کمپنیوں کے جائز حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس صورت حال سے پیدا ہونے والے تمام نتائج کی مکمل ذمہ داری فرانس پر عائد ہوگی، جو دونوں فریقین کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔
فرانسیسی قانون کے تحت کیا پابندیاں عائد کی گئی ہیں؟
فرانس میں منگل سے نافذ ہونے والے اس اقدام کے تحت 2030 تک ہر کپڑے کی مصنوعات پر 19.50 یورو تک کا جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے، جس کی زیادہ سے زیادہ حد مصنوعات کی قیمت (بغیر ٹیکس) کا 50 فیصد ہوگی۔ یہ اقدام فرانسیسی پارلیمنٹ کی جانب سے جون کے آخر میں منظور کیے گئے فاسٹ فیشن مخالف قانون کا حصہ ہے، جس میں مستقبل میں مزید پابندیاں بھی مرحلہ وار نافذ کی جائیں گی۔
فرانسیسی حکومت اس قانون کا بنیادی جواز الٹرا فاسٹ فیشن کے ماحولیاتی اور ملکی معیشت پر پڑنے والے منفی اثرات کو قرار دیتی ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ سستے اور تیزی سے تبدیل ہونے والے فیشن کلچر نے مقامی صنعتوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ کیا ہے۔
چین کا مؤقف: امتیازی اور نقصان دہ اقدام
چینی وزارت تجارت کی ترجمان نے فرانس پر زور دیا کہ وہ الٹرا فاسٹ فیشن مخالف قانون پر عمل درآمد فوری طور پر روک دے۔ انہوں نے اس اقدام کو تجارت کے لیے نقصان دہ اور واضح طور پر امتیازی قرار دیتے ہوئے کہا کہ فرانس نے چین کے بارہا اعتراضات کو نظر انداز کیا ہے، جس کی وجہ سے متعلقہ چینی کمپنیوں کو اہم آپریشنل نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یہ تنازع اس وقت سامنے آیا ہے جب چینی ای کامرس کمپنیاں جیسے شین اور ٹیمو یورپی منڈیوں میں تیزی سے اپنے قدم جما رہی ہیں، جس سے مقامی فیشن انڈسٹری اور حکومتوں کے درمیان تحفظ پسندانہ پالیسیوں کے مطالبات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورتحال آئندہ مہینوں میں یورپی یونین اور چین کے درمیان وسیع تر تجارتی تنازعے کی بنیاد بن سکتی ہے۔
