counter easy hit

بی بی سی کی رپورٹ میں افسوسناک انکشاف

Wrongly revealed in the BBC report

لاہور (ویب ڈیسک) شالا مارہسپتال انتظامیہ اور ڈاکٹر معاذ کے مطابق ’علی الصبح ہسپتال کے انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں موجود ایک خاتون کی بچے کی پیدائش کے دوران کوئی پیچیدگی ہونے کی وجہ سے موت واقع ہو گئی۔ خاتون کے برہم لواحقین آئی سی یو میں داخل ہو گئے اور توڑ پھوڑ شروع کر دی۔ نامور صحافی عمر دراز ننگیانہ بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ اس دوران انھوں نے چند ڈاکٹروں اور نرسوں کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔ ہسپتال کا عملہ جان بچانے کے لیے وہاں سے بھاگ گیا۔‘ ڈاکٹر معاذ کے مطابق جب وہ واپس آئے تو انھوں نے نورالحسن کی حالت غیر پائی اور خود سے اسے بحال کرنے کی کوشش کی جو کہ کامیاب نہیں ہو سکی۔’ایسے مریضوں میں موت کا خدشہ ہوتا ہے اور عموماً اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ پیپھڑے کام کرنا چھوڑ دیں یا حرکتِ قلب بند ہو جائے مگر اس کا پتہ تب ہی لگایا جا سکتا ہے جب پوسٹ مارٹم ہو۔’نورالحسن کے ورثا نے پورسٹ مارٹم کروانے سے انکار کر دیا تھا۔شالیمار ہسپتال نے اس بارے میں کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے تاہم ہسپتال کے اسسٹنٹ میڈیکل سپرینٹنڈنٹ رضوان سعید نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘سی سی ٹی وی فٹیج کی مدد سے اس بات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ ہنگامہ کیسے ہوا، اس میں کون ملوث تھا اور اس سے مریض کس طرح متاثر ہوئے۔’ان کا کہنا تھا کہ ’ابتدائی اطلاعات کے مطابق ایک خاتون کی بچے کی پیدائش کی دوران ہونے والی پیچیدگی کے باعث موت واقع ہوئی۔ اس پر ان کے لواحقین مشتعل ہو گئے اور انھوں نے شعبہ انتہائی نگہداشت میں داخل ہو کر توڑ پھوڑ اور مارا ماری شروع کر دی۔ ‘ایسی صورت میں ظاہر ہے کہ وہاں موجود نرسوں اور ڈاکٹروں کے عملے نے بھاگ کر اپنی جان بچائی۔’ تاہم ان کا کہنا تھا کہ حتمی طور پر کسی نتیجے پر پہنچنے کے لیے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔نورالحسن آپریشن اور اس کے بعد کے علاج پر اٹھنے والے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ اپنے غیر معمولی وزن کی وجہ سے وہ گزشتہ ایک دہائی سے معذور تھے اور بستر پر تھے۔ اس سے قبل وہ مال بردار گاڑیوں کے ڈرائیور تھے۔نورالحسن کا آپریشن ڈاکٹر معاذ الحسن نے بغیر معاوضہ لیے کیا تھا۔ شالیمار ہسپتال بھی ان کے علاج پر اٹھنے والے تقریباً 70 سے 80 ہزار روپے روزانہ کا خرچ ان سے وصول نہیں کر رہا تھا۔آپریشن سے قبل ڈاکٹر معاذ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ 330 کلو گرام وزنی نورالحسن کا آپریشن جس عمل کے تحت کیا جائے گا اسے طب کی زبان میں لیپروسکوپک سلیو گیسٹریکٹومی کہتے ہیں۔’اس میں مریض کے معدے کا حجم آپ 80 فیصد کم کر دیتے ہیں۔ کی ہول سرجری ہوتی ہے، کوئی پیٹ چاک نہیں کرنا ہوتا۔’ان کا کہنا تھا کہ اس کے تقریباً دو سال بعد مریض کا وزن تقریباً ڈیڑھ سے دو سو کلو کم ہونے کی توقع تھی۔تاہم ساتھ ہی ڈاکٹر معاذ نے خبردار کیا تھا کہ اس نوعیت کے آپریشن زیادہ تر جوان افراد میں کیے گئے تھے۔ نورالحسن کی عمر پچاس برس سے زیادہ ہونے کی وجہ سے پیچیدگیاں ہونے کا خدشہ ہو سکتا تھا۔ یہ پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا آپریشن تھا۔پیر کو پریس کانفرنس کے دوران ڈاکٹر معاذ نے بتایا کہ آپریشن کے بعد نورالحسن کو انتہائی نگہداشت کے شعبے میں منتقل کر دیا گیا تھا جہاں انھیں ‘الیکٹو وینٹیلیشن’ پر ڈالا گیا تھا۔’ہم چاہتے تھے کہ ان کی پھیپھڑوں کو آسانی سے کام کرنے میں مدد ملے اور ان کے باقی تمام اعضائے رئیسہ بھی مکمل طور پر ٹھیک کام کر رہے تھے۔ یہ تمام تر حقائق ریکارڈ پر موجود ہیں۔’اتوار کے روز ہی خوراک کے لیے انھیں لگائی جانے والی نالی میں مسئلہ پیدا ہونے کی وجہ سے میں نے خود آ کر وہ تبدیل کر دی تھی اور اس وقت بھی ان کے تمام تر اعضا بالکل درست کام کر رہے تھے۔’ڈاکٹر معاذ الحسن کا کہنا تھا کہ اس کے بعد انھوں نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ وہ پیر کو دوپہر کے قریب نورالحسن کو وینٹیلیشن سے الگ کر دیں گے اور وہ خود سے سانس بھی لیتے رہیں گے اور خوراک بھی لینا شروع کر دیں گے۔تاہم ایسا ہونے سے قبل ہی ہسپتال میں ہنگامہ ہوا اور اس کے بعد نورالحسن کے مرنے کی اطلاع سامنے آئی۔ نورالحسن کے صاحبزادے محمد اسلم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انھیں ‘ڈاکٹروں سے کوئی گلہ نہیں۔ انھوں نے اپنی طرف سے بھر پور کوشش کی مگر بس اللہ کی مرضی ایسے ہی تھی۔’ان کا کہنا تھا کہ انھیں ‘فکر بس یہ ہے کہ ان (والد) کی میت صحیح سلامت پہنچ جائے۔ سفر بہت لمبا ہے، گرمی ہے اور میت خراب ہو رہی ہے۔’ان کا کہنا تھا میت کو صادق آباد پہنچانے کے لیے ایئر ایمبولینس کا انتظام کرنے کی کوشش کی گئی تھی مگر اس قدر کم نوٹس پر اس کا بندوبست نہیں ہو پایا۔

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world.

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website