counter easy hit

خواتین کس قسم کی آزادی چاہتی ہیں؟

Women

Women

تحریر : ابنِ نیاز
آٹھ مارچ کو خواتین کا عالمی دن منایا گیا۔ کہاں پر، یہ تو مجھے نہیں معلوم۔ لیکن ایک دن پہلے اخبارات سے معلوم ہوا کہ کل یعنی اگلے دن یعنی ٨ مارچ کو خواتین کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ میں سوچ میں پڑ گیا کہ کس لیے؟ خواتین کو یہ دن منانے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ بہت غور کیا، یار دوستوں سے بات چیت کی، پھر ایک سروے کیا۔ یہ نہیں بتا پائوں گا کہ سروے میں کتنے افراد تھے اور کس قسم کے افراد تھے، یعنی کہ شادی شدہ، کنوارے، رنڈوے، منگنی شدہ، گھر جمائی، جورو کے غلام یا وہ جن کی تصویریں رشتے والی مائیاں لے کر پھرتی ہیں، یا پھر گھر سے بھاگے ہوئے، یا بھگائے ہوئے، سسر کی فیکٹری میں ملازم افراد ، شاپنگ کے شاپنگ بیگ اٹھانے والے یا بچوں کو اٹھا کر بیوی کے پیچھے بازار میں پھرنے والے وغیرہ وغیرہ۔لیکن ٹھہریں، کہاں جا رہے ہیں۔ ایک خاص کا ذکر کرنا تو بھول گیا۔ یہ بھی شاید ان افراد میں شامل تھا ۔ ہے تو شادی شدہ، لیکن کچھ اس طرح کے شادی سے پہلے اسکے کمرے میں عشقیہ کتابیں، ناولز، سی ڈیز، جینز کی پتلونیں، شرٹیں، پرفیومز، فیئرنیس کریمیں، ہیئر برش، مختلف نیٹ ورکس کی سمیں، تین چار قسم کے موبائل، پرس میں دس بارہ نام نہاد محبوبائوں کی تصویریں، مختلف بینکوں کے کریڈٹ کارڈز، مختلف دوستوں کی طرف سے دیے گئے گفٹ ہیمپرز، شاید سگریٹ کے مختلف برانڈ کے خالی پیکٹ، کولڈ ڈرنک کی خالی اور ادھ بھرے ٹن پیک وغیرہ وغیرہ اشیاء موجود تھیں۔ لیکن اب جو اس سروے کے ساتھ اسکے کمرے کو بھی چیک کیا گیا تو بے اختیار یہ بات یا د آگئی کہ بس کر پگلے، اب رلائے گا کیا؟ تو اب شادی کے بعد اس کے کمرے میں سر درد کی گولیاں، بچوں کے استعمال شدہ اور غیر استعمال شدہ پیمپرز، پرس میں بیگم کے لیے خریدی جانے والی اشیاء کی لسٹ ، سر پر خوبصورت بالوں کی بجائے ایئر پورٹ بننے کی تیاری، اپنی قمیض کے بٹن ندارد، بچوں کے سکول ورک کی کاپیاں، کتابیں، بیگم کی ڈریسنگ ٹیبل پر میک اپ کا سامان، ایک آدھ بیلنا بھی بقول شوہر کے کبھی کبھار یہاں دکھائی دے جاتا ہے، پھر شوہر کے سمارٹ جسم پر اسی بیلنے کے نشان اور بھی بہت کچھ۔تو یہ بھی اس سروے میں شامل تھا۔

سروے کیا گیا تو معلوم ہوا کہ عام طور پر اس عالمی دن کا تعلق پاکستان میں بسنے والی عام خواتین سے نہیں ہے بلکہ اس کا ظاہری تعلق مغربی معاشرے کی خواتین سے ہے۔ کیونکہ عالمی دن کا تعین کرنے والا ادارہ بھی اقوامِ متحدہ ہے، جو کہ مسلمانوں کا ہر گز نہیں ہے۔ تو مغربی معاشرے کی خواتین جو اس عالمی دن منانے میں کوشاں رہتی ہیں وہ بھی بنیادی طور پر اپنے آقائوں کے کہنے پر مناتی ہیں، تا کہ ان کی دیکھا دیکھی اسلامی ممال کی خواتین بھی اسی طرح کی آزادی کے لیے آواز اٹھائیں۔ ورنہ ان کے پاس کون سا حق نہیں ہےاپنی مرضی سے اٹھارہ سال کی ہو کر یا تو اپنے ماں باپ کے گھر سے علیحدہ ہو جاتی ہیں یا انہیں علیحدہ کر دیتی ہیں۔ اگر ساتھ بھی رہتی ہیں تو کسی غلطی پر انکی معمولی سی سرزنش پرفوراً سے پیشتر پولیس کو اطلاع کردیتی ہیں اور انہیں بتاتی ہے کہ مسٹر اینڈ مسز سمتھ (اس کے ماں باپ کا نام) نے اسے ہراساں کرنے کی کوشش کی ہے۔تو پولیس یا تو ماں باپ کو وارننگ دے کر چلی جاتی ہے یا پھر ساتھ ہی لے جاتی ہے۔ اس کے بعد انہیں جرمانہ ہوتا ہے یا سزا، یہ وہاں کے عالمی خواتین کے موقع پر خطاب کرنے والی خواتین سے پوچھا جائے۔ اور کس قسم کا حق چاہتی ہیں وہ خواتین۔ اپنی مرضی سے بنا چرچ میں بیوی شوہر کا قانون پاس کرائے بغیر میاں بیوی بن کر رہتے ہیں اور دنوں، ہفتوں نہیں بلکہ سالوں تک۔ اس کی مثال انجلینا جولی اور بریڈ پٹ کی سب کے سامنے ہے۔ اور کون سا حق ان کو چاہیے ۔ اپنی مرضی سے اپنی مرضی کی نوکری وہ کرتی ہیں۔ جہاں دل چاہے وہیں سو جاتی ہیں اکیلے میں یا تنہائی کو دور کرنے کے لیے کسی کے بغل میں۔ کیا یہ حق کافی نہیں۔اگر وہ شادی شدہ ہیں تو شوہر ان کو مار نہیں سکتا، انہیں ڈرا دھمکا نہیں سکتا کہ انھوں نے جھٹ سے پولیس ایمرجنسی کو فون کر دینا ہے یا الٹا دو کام کرنے ہیں۔ ایک تو خود گھر کو چھوڑ کر چلے جانا ہے یا پھرشوہر کو دھکے دے کر گھر سے نکال دیتی ہیں۔

ان خواتین کو اور کیا حق چاہیے۔ مختصر ترین لباس پہنے کو ترجیح دیتی ہیں۔اپنے جسم کی نمائش (اپنے ان الفاظ پر مسلمان بہنوں سے انتہائی معذرت ۔لیکن لکھنا مجبوری ہے) دھڑلے سے کرتی ہیں۔ پیراکی کا لباس پہن کر بنا کسی شرم و حیا کے بیچ چوراہے میں بنے پول یعنی تالاب میں نہاتی ہیں۔ سمندر کے کنارے سورج کی روشنی سے غسل لیتی ہیں، اپنی گوری چمڑی کو جس کی خاطر پاکستان بھر کی خواتین فیئر اینڈ لولی اور پتہ نہی کون کون سی کریمیں اور لوشنز استعمال کرتی ہیں، سنہری بنانے کے مختلف جتن کرتی ہیں۔ کوئی بھی انہیں نہیں ٹوکتا، کوئی بھی روکنے کی جرأت نہیں کر سکتا۔ ان خواتین کو اور کتنی آزادی چاہیے کہ جب دل کرتا ہے اپنے بوائے فرینڈ کو بیچ سڑک میں کھڑے ہو کر ایک عدد اسکے خشک ہونٹوں کو تر کر دیتی ہیں اور پھر مزے سے بائے کہہ کر اپنی راہ لے لیتی ہیں۔ اگر اس بوائے فرینڈ سے ان بن ہو جائے تو اگلے ہی دن کوئی دوسرا ساتھی بغل سے ہاتھ نکالے اسکے ہاتھوں کو گرما رہا ہوتا ہے۔ ان کو اور کس قسم کی آزادی چاہیے۔ مادر پدر یہ آزاد ہیں، بھائی بہنوں کی محبت سے یہ آزاد ہیں۔ کسی رشتہ کی انہیں پروا نہیں۔وقتی طور پر شاید اولاد کی محبت ان کے دلوں کو پگھلا دیتی ہے تو اور بات ہے۔ لیکن جب یہی اولاد بڑی ہو کر انہیں اولڈ ہائوسز میں بھیج دیتی ہے تو پھر چند دن آنسو بہانے کے بعد انہیں پھر سے اپنی زندگی یاد آتی ہے اور پھر سے یہ آزادی مانگتی ہیں۔

کیا پاکستان کی یا عالمِ اسلام کی خواتین ! آپ بھی اسی آزدی کی متمنی ہیں۔ کیا آپ کو نہیں معلوم کہ آپ کو ان سے زیادہ آزادی حاصل ہے۔ اسلام نے تو آپ کو وہ حقوق دیے ہیںجو کسی بھی مذہب نے اپنے ماننے والی خواتین کو نہیں دیے۔ آپ کو ماں کا درجہ دیا تو اتنہا تک پہنچا دیا۔جنت آپ کے قدموں کے نیچے رکھ دی۔ کلاس میں ایک استاد نے بچوں سے کہا کہ آپ میں سے کل جو بچہ جنت کی مٹی لائے گا اسے انعام ملے گا۔ اگلے دن ایک بچے کے علاوہ سارے خالی ہاتھ آئے۔ بچے تو معصوم ہوتے ہیں۔ایک بچہ اپنے پاس شاپنگ بیگ میں مٹی اٹھائے ہوئے تھا۔ استاد کو سمجھ توآگئی تھی۔ لیکن پھر بھی اس نے غصے میں اس بچے سے پوچھا کہ استاد کے ساتھ مذاق کرتے ہو؟ بچے نے سہم کر جواب دیا کہ جناب آپ نے ہی کہا ہے کہ جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہوتی ہے تو جہاں جہاں میری ماں نے قدم رکھے، میں وہاں کی مٹی اٹھا کر لے آیا۔ اگر ماں آپ سے ناراض ہو جاتی ہے تو پھر آپ کچھ بھی کر لیں، شاید آپ کی روح بھی جسم چھوڑے پر آمادہ نہ ہو ۔ حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ ایک صحابی ہیں۔ ان کی والدہ ان سے ناراض تھیں۔ وہ عالمِ نزع کے میں کافی دیر سے تھے۔ کافی وقت کے بعد حضور کو اطلاع دی گئی۔ وہ تشریف لائے۔ ان کو بارگاہِ الہٰی سے اطلاع دی گئی۔آپ نے ان صحابی کی والدہ کو بلایا۔ ان سے ساری بات سننے کے بعد ان سے درخواست کی کہ انھیں معاف کر دیں۔ ماں نے انکار کر دیا۔ اس پر آپ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ آگ جلائی جائے اور حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ کو اس آگ میں جلایا جائے۔ماں ماں ہوتی ہے، فوراً انہیں معاف کر دیا۔معافی ملتے ہی ان کی روح قفسِ عنصری سے پرواز کر گئی۔اور آپ وہ ماں بننا چاہتی ہو کہ جس کی اولاد جو چاہے کرے، جس کا شوہر جو چاہے کرے، آپ کی آزادی میں مداخلت نہ کرے۔ اس پر آپ کی عاقبت تو خراب ہو گی ہی، شوہر بھی گناہ گار ہو گا کہ اس نے اپنی زوجہ کو سیدھے رستے پر کیوں نہ چلایا۔

آپ کو بیٹی بنایا۔ اور بیٹی کا درجہ دیکھیں کہ جس کی وجہ سے ماں باپ جنت میں جا سکتے ہیں۔ فرمانِ نبوی ہے کہ جس نے اپنی بیٹی کی پرورش اس طرح کی کہ بیٹی ایمان کی حالت میں اور ماں باپ سے ہنسی خوشی اس دنیا سے رخصت ہوئی تو وہ قیامت کے دن نبی کریم کے ساتھ اس طرح کھڑے ہوں گے جس طرح دو انگلیاں آپس میں جڑی ہوتی ہیں۔ یہ ہوتا ہے بیٹی کا درجہ۔ اور آپ وہ بیٹی بننا چاہتی ہو جس کی وجہ سے آپ کی اپنی عاقبت خراب ہو۔کیا آپ ایسی بیٹی بننا چاہتی ہو کہ جس کی وجہ سے آپ کے والد دنیا والوں سے منہ چھپاتے پھریں۔ آپ کے گھر والے گھر سے نکلنے میں عار محسوس کریں۔ اسلام نے تو آپ کو بہن کا درجہ دیا۔ اور یہ درجہ اس درجے پر ہے کہ کوئی بھی اچھا بھائی بہن کے ناز نخرے اٹھانے میں فخر محسوس کرتا ہے۔ بہن کے منہ سے کوئی فرمائش نکلتے ہی بھائی ہر ممکن کوشش کرتا ہے کہ اسے پورا کیا جائے۔بہن کو تنگ کرنا، اور اس کے ناراض ہونے پر اس کو منانے کا اپنا ہی ایک لطف ہے۔ بہنیں تو بھائیوں کی رازدان ہوتی ہیں۔اور آپ چاہتی ہو کہ آپ کے کوئی بھائی نہ ہو، جس پر آپ کو فخرہو۔ آپ کسی مشکل میں ہو اور آپ کا بھائی اس مشکل کا مداوا نہ کرے۔ آپ اگر مغربی رویہ رکھو گی اور گلی ، محلے ، بازار میں اگر کوئی لڑکا آپ کو آپ کی مغربی طرز کی حرکتوں ، لباس کی وجہ سے آپ پر انگلی اٹھائے گا، آپ پر آواز کسے گا، آپ کو چھیڑے گا، آپ کا پیچھا کرے گا، تو آپ کا کیا خیال ہے کہ مغربی ماحول کے گھر میں کسی بھائی میں غیرت جاگے گی۔ شاید نہیں۔ کہ یہ سب آپ کا کیا دھرا ہو گا۔ آپ کو ایسی آزادی چاہیے؟

رسولِ پاک کی حدیث پاک ہے کہ تم میں سے سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے ساتھ اچھا ہو۔ اور میں تم سب میں سے اپنے گھر والوں کے ساتھ اچھا ہوں۔ اگر اس حدیث پر طائرانہ نگاہ بھی دوڑائی جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ ان الفاظ کے پیچھے در اصل ایک شوہر کا اپنی بیوی کے ساتھ حسنِ سلوک ہے۔اب اگر کوئی اپنی بیوی کے ساتھ برا سلوک کرتا ہے تو وہ گویا اس حدیث کے خلاف عمل کرتا ہے۔ رسول پاک نے اپنی بیوی کے ساتھ دل جوئی کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہنسی مذاق کرنے کا حکم دیا ہے جو کہ اسلام کے دائرے کے اندر ہو۔ جس طرح شوہر کا دل چاہتا ہے کہ اس کی بیوی اس کے سجے ، سنورے۔ اسی طرح شوہر کو بھی ایسا حلیہ بنانے کا کہا گیا ہے کہ بیوی اسے دیکھے تو خوشی محسوس کرے۔ بیوی کے جائز حقوق پورے کرنا ہر شوہر کا فرض ہے۔ اگر شوہر اس میں کمی کوتاہی کرتا ہے اور اس سلسلے میں اگر بیوی کوئی غلط کام کرتی ہے، جیسے اگر شوہر معاشی حق پوری طرح نہیں دیتا جس کی وجہ سے بیوی کو اپنے والدین، بہن بھائیوں سے رقم طلب کرنی پڑتی ہے تو اسکا اگر کوئی گناہ ہو گا تو وہ شوہر پر بار ہو گا۔جب بیوی کے غلط کاموں کی وجہ سے شوہر کی گردن میں طوق پڑے گا، تو بیوی کو اور کیا حق چاہیے۔ اگر بیوی چاہتی ہے کہ وہ نوکری کرے، تو کس لیے؟ اگر اسکی معاشی ضروریات شوہر پوری نہیں کرتا، تو وہ شوہر کو پیار سے کہے کہ یہ یہ اسکی جائز ضروریات ہیں ، شوہر ان کو پورا کرے۔ نہیں تو پھر اس کو نوکری کرنے کی اجازت دے۔ لیکن یاد رہے کہ یہ نوکری ایک تو ایسے حالات میں ہو جہاں پر غیر مردوں یعنی نامحرموں کے ساتھ رابطہ نہ ہو۔ یا اس درجہ تک ہی ہو کہ وہ اس دفتر کا حصہ ہوں۔ اس نے بات چیت بلا کسی اشد ضرورت کے کرنے کا حکم نہیں۔ اب اگر بیوی کو یہ حق بھی چاہیے کہ وہ بیلنے سے ( جس کا ذکر اوپر کیا گیا) شوہر کی پٹائی بھی کر سکیں۔ جب مرضی آئے اسے گھر سے نکال سکیں تو یہ تو اسلام کے دائرے میں نہیں۔ کیونکہ شوہر کو بھی یہ حق ہر گز زحاصل نہیں کہ وہ بیوی پر ہاتھ اٹھائے۔ سوائے اس کے کہ جب وہ بہت مجبور ہو جائے تو ضرور ہاتھ اٹھائے لیکن اس طرح سے کہ بیوی کو ڈر محسوس ہو، اور اگلی بار اس طرح کی غلطی نہ دہرائے۔ بیوی کو اللہ پاک نے طلاق مانگنے کا حق دے دیا ہے جسے خلع کا نام دیا گیا ہے۔ جب بیوی سمجھتی ہے کہ اس کا اس شوہر کے ساتھ کسی طور بھی گزارا نہیں ہو پا رہا۔ وہ جسمانی طور پر کمزور ہے، اسکی شکل و صورت اچھی نہیں ہے، وہ اسکی ضروریات پوری نہیں کر پارہا۔وہ اسکو ناجائز طور پر تنگ کرتا ہے۔ اسکو وقت بے وقت مارتا ہے۔ ہر وقت طعنے دیتا رہتا ہے۔ تو بیوی کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ عدالت کے ذریعے سے خلع کا مطالبہ کر ے۔ اور عدالت اس کی بات سن کر اور باقاعدہ ثبوت لے کر بیوی کو خلع دلوا دے۔اور بیوی کو کیا چاہیے۔ اگر خواتین ان سب کے خلاف کام کرتی ہیں تو یقینا وہ شریعت سے، اسلام سے فرار چاہتی ہیں۔ وہ قرآن کے احکامات کو ماننے سے انکار کرنا چاہتی ہیں۔ وہ رسول پاک کی عائلی زندگی کو اپنی زندگی میں شامل ہر گز نہیں کرنا چاہتیں۔ یہ یاد رہے کہ دنیا کے کسی مذہب نے روزِ آخرت میں آپ کا ساتھ نہیں دینا۔ اگر کچھ کام آئے گا تو قرآن و سنت پر عمل کام آئے گا۔ باپ کی رضامندی، ماں کی معافی کام آئے گی۔ بھائی کے نخرے اور شوہر کی اسلام پر چلانے کے احکامات کام آئیں گے۔

Ibn e Niaz

Ibn e Niaz

تحریر : ابنِ نیاز