counter easy hit

تمام پاکستانیوں کیلئے قابلِ فخر لمحہ، عالمی اداروں نے وزیراعظم پاکستان کے موقف کی تائید کردی، قرضوں سے متعلق عمران خان کے بیان کو اپنا لائحہ بنا لیا

اسلام آباد(نمائندہ خصوصی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے دفتر خارجہ میں پریس کانفرنس کے دوران وزیراعظم پاکستان کے بارے میں عالمی ادارہ صحت اوراقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کی اقتصادی سفارتکاری بہترین ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عالمی ادارے کرونا بارے پاکستان کے اقدامات کو سراہ رہے ہیں ۔ بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کے حوالے سے بیان دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ۔ عالمی وبا کے باعث پروازوں کی بندش کی وجہ سے بیرونِ ملک پھنسے ہوئے پاکستانیوں سے کہا ہے کہ حکومت کو ان پاکستانیوں کی مشکلات کا مکمل احساس ہے اور ہم اپنے وسائل اور حالات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ان کی واپسی کے لیے کام کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دفتر خارجہ اس سلسلے میں مسلسل کام کررہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دفتر خارجہ نے ایک کرائسس منیجمنٹ سینٹر قائم کیا ہے جو ہفتے کے ساتوں روز اور 24 گھنٹے کام کررہا ہے تاہم انہوں نے نشاندہی کی کہ بیرونِ ملک سے پاکستانیوں کو واپس لانے میں سب سے بڑا چیلنج ٹیسٹنگ اور قرنطینہ کی گنجائش کا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ پاکستانیوں کی وطن واپسی کے لیے صرف اسلام آباد ایئرپورٹ کھول کر ایس او پیز مرتب کیے گئے جس کے تحت پہلے ہفتے میں 2 ہزار پاکستانیوں کو وطن واپس لایا گیا۔ انہوں نے مزید یہ بھی بتایا کہ پہلا مرحلہ کامیاب ہونے کے بعد 20 تاریخ سے دوسرے مرحلے کا آغاز کیا جارہا ہے جس میں گنجائش کو 2 ہزار بڑھا کر 7 ہزار کیا جارہا ہے۔ اس مقصد کے لیے صوبوں کو ایئرپورٹس کھولنے پر قائل کیا گیا چنانچہ کل ایک پرواز سعودیہ عرب سے لاہور آئی اور آج ایک ملتان آئے گی جہاں قرنطینہ اور ٹیسٹنگ کی سہولیات فراہم کی گئیں ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان میں پھنسے ہوئے غیر ملکیوں کو چارٹرڈ پروازوں کے ذریعے باہر بھیجا گیا جس میں برطانیہ، کینیڈا اور یورپی شہری شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کے ذریعے 7 ہزار 748 برطانوی شہریوں کو ان کے وطن واپس بھجوایا جاچکا ہے اور برطانیہ کے وزیر خارجہ نے مجھ سے بات چیت کرتے ہوئے درخواست کی تھی کہ ہمارے 8 ہزار مزید شہریوں کی واپسی کے لیے ہماری پروازوں کو آنے کی اجازت دی جائے جس کی اجازت دے دی گئی۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ساتھ ہی ہم نے پی آئی اے کو بھی شامل ہونے کی ہدایت کی جو پہلے ہی خسارے میں چل رہی ہے تا کہ ان کا بزنس بھی فعال رہے۔ انہوں نے بتایا کہ تبلیغی جماعت کے کچھ اراکین کو بیرونِ ملک روانہ کرنا ہے پاکستانیوں کو وطن واپس لانا ہے جن کی تعداد 2 ہزار 248 ہے۔ پاکستانیوں کی وطن واپسی کے لیے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے شہریار آفریدی کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی ہے اور دفتر خارجہ کی معاونت سے ایک منصوبہ تشکیل دے کر اس کے تحت کام کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت اپنے حالات اور وسائل کے مطابق بیرونِ ملک سے پاکستانیوں کو وطن واپس لانے کی کوشش کررہی ہے۔وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ حکومت کو احساس ہے کہ بیرونِ ملک پھنسے پاکستانیوں میں سے کچھ ایسے ہیں جنہیں نوکریوں سے نکال دیا گیا ہے یا جن کے ویزے ختم ہوگئے ہیں اور پریشان ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ سفارتخانوں کو ایسے پاکستانیوں کی مدد کرنے کی ہدایت کی ہے اور جہاں کچھ شکایات موصول ہورہی ہیں وہیں سفارتخانوں اور سفارتی اہلکاروں کے رویوں کی تعریف بھی کی جارہی ہے۔دریں اثنا انہوں نے وزیراعظم پاکستان کی کامیاب اقتصادی سفارتکاری کوسراہتے ہوئےآج ایک بیان میں نشاندہی کی کہ وزیراعظم کی قرضوں کی ادائیگی میں سہولت کےحوالے سے اپیل کو گزشتہ روز ایک اجلاس میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل ، عالمی مالیاتی فنڈ اور گروپ بیس کے ملکوں نے توثیق کی۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اپنے محصولات کا ایک تہائی حصہ قرضوں کی ادائیگی پر خرچ کرتاہے اور قرضوں کی ادائیگی میں اس سہولت سے پاکستان کو بہت فائدہ ہوگا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کورونا وائرس کے باعث برآمدات اور ترسیلات زر سمیت ترقی پذیر معیشتیں بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس پس منظر میں وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل، عالمی رہنماوں اور مالیاتی اداروں سے قرضوں کی ادائیگی میں سہولت فراہم کرنے کی اپیل کی تھی تاکہ ترقی پذیر ملکوں کو کوروناوائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال سے بہتر طور پر نمٹنے میں مدد دی جاسکے۔

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world. for comments and News yesurdu@gmail.com 03128594276

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website