counter easy hit

پورے ملک پر راج کرنے والے جرمن بادشاہوں کی اولاد شہزادے اور شہزادیاں ان دنوں جرمنی میں کیا کرتے ہیں ؟ ایک انوکھی رپورٹ

What do the princes and princes of the German kings who rule the whole country do in Germany these days? A unique report

لندن (ویب ڈبسک ) جرمنی آج ایک وفاقی جمہوریہ ہے۔ جرمن ریاست میں شاہی حکمرانی کا نظام سو سال قبل ختم ہو گیا تھا۔ تو کیا جرمنی میں آج بھی شہزادے اور شہزادیاں دیکھنے اور سننے میں آتے ہیں؟ اس سوال کا جواب ہاں میں ہے، جس کی اپنی وجوہات ہیں۔جرمنی کے محلات سیاحوں نامور صحافی مقبول ملک ڈی ڈبلیو کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔ کے لیے انتہائی پرکشش ہوتے ہیں۔ لیکن سارے بادشاہ، ملکائیں، شہزادے اور شہزادیاں کہاں چلے گئے؟ اس بات کو سمجھنا تھوڑا سا مشکل بھی ہے۔ آج سے ایک صدی قبل 14 اگست 1919ء کو جرمنی میں اس دور کا وہ نیا ریاستی آئین نافذالعمل ہو گیا تھا، جس پر جرمنی کے پہلے صدر نے دستخط کیے تھے تو ساتھ ہی وائیمار ریپبلک کے نام سے ایک جرمن ریاست وجود میں آ گئی تھی۔اس آئین کے تحت جرمن شاہی اشرافیہ کے ارکان کے تمام عہدے، خطابات اور انہیں حاصل مراعات ختم کر دی گئی تھیں۔ اسی لیے سرکاری طور پر اب گزشتہ ایک صدی سے جرمنی میں کوئی شہزادے شہزادیاں نہیں ہوتے۔ لیکن آپ کو آج بھی کہیں نہ کہیں چند ‘شاہی‘ شخصیات کے بارے میں خبریں سننے اور دیکھنے کو ملیں گی۔ اس لیے کہ 14 اگست 1919ء کے روز جرمن اشرافیہ کے سبھی ارکان ظاہر ہے غائب تو نہیں ہو گئے تھے۔آلبرٹ پرنس آف تُھؤرن اور ٹاکسز ہی کی مثال لے لیجیے۔ وہ 1983ء میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ جرمنی کے ایک سابقہ شاہی خاندان کے ‘سربراہ‘ ہیں اور اگر آج بھی شاہی نظام حکومت رائج ہوتا تو ان کا پورا شاہی نام یہ ہوتا:”عالی مرتبت آلبرٹ، تُھؤرن اور ٹاکسز کے بارہویں پرنس، پرنس آف بُوخاؤ، پرنس آف کروٹوسین، وئرتھ اور ڈوناؤشٹاؤف کے ڈیوک، فرِیڈبیرگ شیئر کے نواب اور وال ساسینا، مارشٹال اور نیریس ہائم کے کاؤنٹ، وغیرہ وغیرہ‘‘انتہائی دلچسپ بات یہ ہے کہ ماضی کی جرمن شاہی اشرافیہ کے رکن اس خاندان کے پاس اتنی جاگیریں تھیں اور اتنے زیادہ علاقے اس خاندان کی حکمرانی میں تھے کہ پرنس آلبرٹ کے بہت طویل ‘شاہی‘ نام میں ‘وغیرہ وغیرہ‘ بھی باقاعدہ طور پر اس نام کا حصہ ہے۔ اس لیے کہ اگر سبھی شاہی القابات کو اس بہت طویل نام میں شامل کیا جاتا تو یہ اور بھی طویل ہو جاتا۔وائیمار ریپبلک کے آئین کے تحت جرمنی کی سابق شاہی اشرافیہ کے ارکان کے لیے نسل در نسل چلنے والے مکمل خطابات اور القابات کو تو ختم کر دیا گیا تھا لیکن انہیں یہ اجازت دے دی گئی تھی کہ اگر وہ چاہیں تو اپنے ذاتی ناموں کے آخر میں اپنے اپنے شاہی ناموں کے آخری حصے لکھ سکتے ہیں۔اس لیے ‘پرنس‘ آلبرٹ کے نام میں جرمن زبان کے لفظ Prinz کا ترجمہ عملی طور پر ‘پرنس‘ کے طور پر اس لیے نہیں کیا جا سکتا کہ وہ سچ مچ کے کوئی شہزادے تو نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب قانونی اور عملی طور پر ان کا نام آلبرٹ فان تُھؤرن اینڈ ٹاکسز ہے، یعنی ‘تُھؤرن اینڈ ٹاکسز کے آلبرٹ‘۔آلبرٹ فان تُھؤرن اینڈ ٹاکسز کے والد کا انتقال 1990ء میں ہوا تو ان کے والد کی تمام تر دولت انہیں منتقل ہو گئی۔ وہ آج بھی جرمنی میں ہائی سوسائٹی اور لائف سٹائل جریدوں میں سرخیوں کا موضوع بنے رہتے ہیں، جس کی ایک وجہ ان کی بے شمار دولت بھی ہے۔ ان کا خاندان جرمنی میں سب سے بڑے نجی جنگلاتی رقبے کا مالک ہے۔جب انہیں ان کے والد کی خاندانی املاک وراثت میں ملیں تو امریکا کے فوربس میگزین نے انہیں ‘دنیا کے سب سے کم عمر ترین ارب پتی افراد‘ کی فہرست میں نمایاں جگہ دی تھی۔ ماضی کی جرمن شاہی اشرافیہ کے اس نمائندے نے دنیا کے اعلیٰ ترین تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کی، لیکن ساتھ ہی وہ ایک بہت کامیاب بزنس مین بھی ہیں اور موٹر ریسنگ کے بہت دلدادہ بھی۔اسی جرمن شاہی اشرافیہ میں ایک اور بہت اہم نام گیورگ فریڈرش فان پروئسن کا بھی ہے۔ وہ جرمنی کے آخری قیصر یا بادشاہ وِلہیلم دوئم کے پوتے کے پوتے ہیں۔ ان کے خاندان کو ‘ہاؤس آف ہوئہن سولرن‘ کہا جاتا ہے۔ان کے دادا اور قیصر وِلہیلم دوئم کے پوتے لوئس فرڈینانڈ فان پروئسن نے 1991ء میں جرمن ریاست کے خلاف ایک مقدمہ بھی دائر کر دیا تھا، جس میں ان کے خاندان کی ملکیت برلن اور اس کی ہمسایہ (موجودہ) وفاقی جرمن ریاست برانڈن برگ میں واقع بہت سی اراضی اور محلات کی واپسی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔اہم بات یہ ہے کہ جرمنی میں ایک نظام کے طور پر ماضی کی شاہی اشرافیہ تو ایک صدی ہوئی عملی طور پر ختم ہو چکی لیکن اس کی باقیات اور مختلف شاہی خاندانوں کی سماجی حیثیت آج کے جرمن معاشرے میں بھی اپنا محدود لیکن منفرد کردار ادا کرتی ہے۔سیاسی طور پر موجودہ جرمنی میں ایک بحث یہ بھی ہے کہ جب شاہی اشرافیہ ہی ختم ہو چکی تو اس کے ارکان کی موجودہ نسلوں کے ناموں کے ساتھ لکھے جانے والے پرانے القابات کے آخری حصے بھی قانونی طور پر ختم کر دیے جانا چاہییں۔ لیکن یہ ایک ایسی متنازعہ بحث بھی ہے، جس سے بہت سی جرمن سیاسی جماعتیں بچنا چاہتی ہیں۔

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world. for comments and News yesurdu@gmail.com 03128594276

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website