counter easy hit

عالمی حالات اور پاکستان کی سیاست دیکھ کر مجھے کیا لگ رہا ہے ؟ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے دل کی بات بتا دی

What do I feel about the global situation and the politics of Pakistan? Dr Abdul Qadir Khan spoke of the heart

لاہور (ویب ڈیسک) آج پہلے آپ کی خدمت میں دو اعلیٰ کتابوں کی اہمیت پر تبصرہ کروں گا اور پھر کشمیر میں ہونے والے واقعات پر کچھ کہنے کی جسارت کروں گا۔ (1)پہلی نہایت اہم کتاب اعلیٰ مصنف، ادیب اور تین دہائیوں سے زیادہ عزیز دوست جناب جلیس سلاسل کی ہے۔ آپ نے اس کتاب (معمارانِ جلیس) میں نامور پاکستانی سیاستدان اور معروف کالم نگار ڈاکٹر عبدالقدیر خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان کی نامور شخصیات کے تاریخی انکشافات کئے ہیں اور ملک کے اعلیٰ مذہبی، سیاسی، تعلیمی ماہرین کے انٹرویو شائع کئے ہیں۔ میرے مراسم جلیس بھائی سے 35سال سے زیادہ کے ہیں۔ آپ نے سائبان جلیس نامی کتاب میں میرا انٹرویو اور ڈاکٹر پیرزادہ قاسم، جسٹس حاذق الخیری، جنرل پروفیسر ڈاکٹر سید اظہر احمد، سید محمود العزیز، الطاف حسن قریشی، محمود شام، اطہر ہاشمی، ڈاکٹر نثار احمد زبیری اور سید منور حسن جیسے جیّد ماہرین تعلیم، صحافت، حالات حاضرہ اور تاریخ پاکستان کے ماہرین وغیرہ کے انٹرویو تیار کئے ہیں اور بہت جلد شائع کرنے والے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب معمارانِ جلیس ہے اور اس میں جلیس سلاسل نے پاکستان کی مختلف نامور شخصیات کے خاکوں کا تاریخی اہمیت کا حامل مجموعہ پیش کیا ہے۔ کتاب کا انتساب آپ نے وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان کے نام کیا ہے اور اس میں لکھا ہے ’’اس اُمید کے ساتھ کہ وزیراعظم پاکستان کی تعمیر نو کے لئے ذاتی مفادات سے ہی نہیں اپنی پارٹی کے مفادات سے بھی بلند ہو کر قومی مفادات میں غیر سیاسی، معاشی، تعلیمی، قانونی، صحافتی، سائنسی و دفاعی، اندرون و بیرون ملک مقیم پاکستانی ماہرین سے رابطہ کرکے ان کی ماہرانہ خدمت حاصل کرنے کے لئے قطعی تاخیر نہیں کریں گے۔ اس سلسلے میں انٹرنیشنل پاکستانی کلب فار تھنکرز کا بھی مکمل تعاون حاضر ہے‘‘۔ جلیس بھائی آپ کو غلط فہمی ہو گئی ہے۔ حکمراں کبھی کسی اچھے مشورہ پر عمل نہیں کرتے۔ بھائی جلیس سلاسل ہندوستان کی ایک مسلمان ریاست کے شاہی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، اسی وجہ سے ان کے مزاج میں نفاست، گفتگو میں شائستگی اور مٹھاس ہے، جب میں پہلی بار ان سے ملا تو مجھے فوراً ہمارے پیارے مشہور شاعر جون ایلیا یاد آگئے۔ جوانی میں بھائی جلیس لمبے بال رکھتے تھے۔ ان کی اس کتاب پر جن جیّد علما، ماہرین تعلیم، سائنسدانوں اور ادیبوں و اساتذہ نے تبصرے کئے ہیں وہ ان کی شخصیت کی پہچان کے لئے کافی ہیں۔ (2)دوسری نہایت مفید اور اسلام پر معلوماتی کتاب، Would you like to know something about Islam?ہے جس کے مصنف جناب محمد مسعود احمد صاحب ہیں۔ انہوں نے جو یہ نیک کام کیا ہے اللہ تعالیٰ ہی اس کی جزا دے گا۔ انگریزی میں لکھنے کا بہت بڑا فائدہ یہ ہے کہ امریکہ، یورپ وغیرہ میں جو اسلامی ممالک کے تارکین وطن رہائش پزیر ہیں ان کے لئے اور خاص طور پر بچوں اور بچیوں کے لئے یہ کتاب نہایت مفید ہے اور ان کو اپنے مذہب سے واقفیت کراتی ہے۔ اس اچھی کتاب میں پہلے کتاب کے نام کی تشریح کی گئی ہے پھر دیباچہ ایک تعلیم یافتہ امریکی نے لکھا ہے اور کتاب کی بہت تعریف کی ہے۔ مصنف نے اس کتاب کے لکھنے کی وجہ بتلائی ہے اور پھر آپ کو بتلایا ہے کہ آپ کن وجوہات کی بنیاد پر اس کتاب کا مطالعہ کریں۔ پھر مذہب کی سچائی کو جانچنے کا طریقہ۔ اس کے بعد اسلام پر ایک مختصراً ریویو، پھر اسلام کے بارے میں کئی موضوعات کی تشریح۔ اس کے بعد تاریخ اسلام پھر اللہ ربّ العزّت کی شان و شوکت اور قوّت۔ اللہ تعالیٰ کے وجود اور وحدانیت پر تفصیلی روشنی، پیغمبروں کی ضرورت اور ان کا عملی کردار، اسلام سے متعلق معلومات کے ذرائع۔ انسانی زندگی کا مقصد، عبادت اور اسلام میں اس کی وسعت پر تبصرہ، حقوق العباد۔ اسلام میں لازمی ارکان، اسلام میں قیامت اور اس کے بعد کی زندگی، اسلام میں نیت کی اہمیت، اسلام میں مذہب کی مکمل آزادی اور جبر کی ممانعت، جان کی اہمیت اور اسلام میں اس کی حفاظت کرنا، جہاد، نفسانی اور ظلم کے خلاف۔ اسلام میں مساوات، اسلام میں خواتین کا کردار اور برابری کے حقوق۔ اسلام میں تعلیم و علم کی اہمیت اور حاصل کرنے پر زور۔ دیارِ غیر میں بسنے والے مسلمانوں کو چاہئے کہ یہ کتاب گھر میں ضرور رکھیں اور بچوں کو اس کے مطالع کی تلقین کریں۔ اللہ پاک جناب محمد مسعود احمد کو جزائے خیر دے اور علم میں اضافہ کرے۔ آمین( نوٹ)ہندوستان نے اپنے دستور میں کشمیر کو خاص ریاست کی جو شق دی تھی مودی حکومت نے اس کو ختم کردیا۔ صرف شور شرابا کرنے سے کچھ حاصل نہ ہوگا فلسطینی عوام کی مثال سامنے ہے، اسرائیلیوں نے 70برس سے انکی زندگی حرام کردی ہے، مغربی کنارے اور یروشلم پر قبضہ کرلیا ہے۔ دنیا کے کسی ملک نے مدد کی؟ یہی حال کشمیر کا ہے۔ زمینی حقائق، اصولوں اور ریزولوشن اور زبانی جمع خرچ سے زیادہ طاقتور ہوتے ہیں۔ اندرا گاندھی نے کہا تھا کہ پاکستان کو 1962میں اچھا موقع ملا تھا اس نے ضائع کر دیا (چین کی جنگ اور ایوب خان کا رویّہ) اور ہمیں 1971میں موقع ملا تھا اور ہم نے اس سے پورا فائدہ اُٹھایا۔ دعا دو، شکر گزاری کرو، احسان مانو بھٹو صاحب مرحوم اور بینظیر صاحبہ کا کہ انہوں نے پاکستان کو ایٹمی اور میزائل پاور بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا اور ان لوگوں کا احسان مانو کہ جن کے کام اور محنت کی وجہ سے ہمارا ملک ایٹمی طاقت ہے ورنہ 1971سے بدتر حالات ہوتے۔

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world. for comments and News yesurdu@gmail.com 03128594276

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website